وقوع فتنہ سے متعلق نبی کریمﷺ کے خبر دینے کی حکمتیں - دفاعِ…

وقوع فتنہ سے متعلق نبی کریمﷺ کے خبر دینے کی حکمتیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں خبر دی ہے کہ اس امت میں اختلاف اور قتال رونما ہو گا۔ متعدد احادیث میں اجمالاً یا تفصیلاً اس کی طرف اشارہ موجود ہے۔ ان فتنوں کے اسباب و نتائج مختلف، اور بعض واقعات اور اس کو بھڑکانے والوں سے متعلق خبر دینے کے اسالیب متنوع ہیں۔ یہ بیان و توضیح نبی کریمﷺ کی طرف سے ان سوالات کے جواب میں تھی جو صحابہ کرامؓ آپ سے کیا کرتے تھے۔ اس عظیم نعمت کا صحابہؓ مشاہدہ کر رہے تھے اور اس سے لطف اندوز ہو رہے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کی تھی، در حقیقت یہ اخوت، وحدت، وحدت صف اور اتفاق کی نعمت تھی۔ صحابہ کرامؓ رسول اللہﷺ سے سوال کرتے کہ آیا یہ نعمت قائم و دائم رہے گی یا زائل ہو جائے گی۔ اور چوں کہ رسول اللہﷺ وحی الہٰی کی روشنی میں جانتے تھے کہ یہ نعمت دائمی نہیں ہے، لہٰذا آپ نے چاہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایسی تربیت فرمائیں کہ وہ ان مشکلات و فتن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں، اور جب اللہ ان فتنوں کے وقوع کو مقدر فرمائے تو ان کے سلسلہ میں صحیح موقف اختیار کر سکیں، اور فوراً اس کے علاج کی کوشش کریں۔ ان فتنوں سے متعلق وارد شدہ احادیث میں غور و فکر سے درج ذیل حکمتیں اور فوائد سامنے آتے ہیں:

(احداث و احادیث الفتنۃ الاولیٰ: صفحہ 68)

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان فتنوں اور حوادث کو ذکر کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تربیت دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں صحیح موقف سے کام لیں اور فوری اس کا علاج کر سکیں۔
  •  ان احادیث میں ان حضرات کی طرف اشارہ ہے جو اس کو بھڑکائیں گے، بسا اوقات یہ ایسے لوگ ہوں گے جو بظاہر ایمان و دین داری سے متصف ہوں گے اور اس کے اندر شدت پائی جائے گی، لیکن ان کی عقلیں منحرف اور الٹی ہوں گی، وہ ادراک و فہم سے عاری ہوں گے۔
  • (الوحدۃ الاسلامیۃ: محمد ابو زہرۃ: صفحہ 137)
  • یہ فتنے منافقین کو ننگا اور اہل ایمان کے دل کو صیقل کر دیں گے، ان کے ایمان میں اضافہ و ترقی ہو گی، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ یہ ابتلاء کی ایک شکل ہے جس سے نفوس صیقل ہوتے ہیں، مجاہدے کی عادت پڑتی ہے خیر و شر کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اور پھر خیر کی دعوت اور شر سے ممانعت عام ہوتی ہے۔
  • (الوحدۃ الاسلامیۃ: محمد ابو زہرۃ: صفحہ 136 ۔137)
  •  ان فتنوں کی خبر دینا حقیقت میں ان کے واقع ہونے، اور ان کے ارتکاب سے سختی کے ساتھ روکنا ہے۔ اس امت کے مومن اور خاص کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب یہ سنیں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ان میں سے بعض سے قتل صادر ہو گا، اور بعض دنیا سے لگ جائیں گے، اور بعض جہاد چھوڑ دیں گے، بعض اور بعض تو ان کے اندر ان فتنوں سے مقابلہ کرنے کا جذبہ پیدا ہو گا، اور ہر ایک اس سے بچنا چاہے گا اور برابر خوف زدہ رہے گا کہ کہیں اس ہلاکت میں واقع نہ ہو جائے، پس اس سلسلہ میں خبردار رہنا نجات کا عظیم ذریعہ ہے۔

          (احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 69)

علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ اس اختلاف اور اس امت میں رونما ہونے والے دیگر اختلافات کے سلسلہ میں مختلف مرفوع احادیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: مختلف سندوں سے یہ مفہوم رسول اللہﷺ سے محفوظ ہے، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ افتراق و اختلاف اس امت میں ضرور رونما ہو گا، اس طرح آپ اپنی امت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ سلامتی چاہے وہ اس سے نجات حاصل کر لے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 70، اقتضاء الصراط المستقیم: جلد 1 صفحہ 127)

  •  ان فتنوں سے متعلق رسول اللہﷺ نے جو خبر دی ہے اس میں انتہائی باریکی کے ساتھ اس سے نجات کے طریقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انسان کو اگر آپ کتنے ہی اچھے انداز میں اور کتنے ہی زور دار طریقہ سے فتنوں سے ڈرائیں لیکن فتنوں کی نشاندہی نہ کریں اور نہ اس میں پڑ جانے کی کیفیت بیان کریں تو وہ شخص اس کا صحیح تصور نہیں قائم کر سکتا ہے، اور ان مشکلات کی حقیقت اس پر واضح نہیں ہو سکتی ہے جس سے وہ دوچار ہونے والا ہے، لاشعوری طور سے وہ اس میں داخل ہو جائے گا، اور اس کو یہ پتہ بھی نہ چل سکے گا کہ اس کو اس سے روکا گیا ہے۔(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 70)
  • ان فتنوں کے سلسلہ میں جن احادیث میں خبردار کیا گیا ہے ان میں سے بعض میں ان کے اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں، یا اس کے نتائج اور اس سے متعلق مسلمانوں کے موقف کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ مسلمان بلکہ پوری امت کے لیے انتہائی نفع بخش اور مفید ہیں۔ اس طرح وہ ان اسباب سے دور رہ سکتا ہے، نتائج میں غور و فکر کر کے معین واقعات پر حکم لگا سکتا ہے، اور شروع ہی سے مناسب موقف اختیار کر سکتا ہے۔
  • اس کے اندر سیدنا محمدﷺ کی نبوت و رسالت کی صداقت کی واضح دلیل ہے، جن صحابہ کرامؓ نے ان احادیث کو سنا اور پھر ایک مدت کے بعد ان کی تعبیر کا مشاہدہ کیا اس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوا، اسی طرح ہر دور میں ہر مومن کے ایمان میں اضافہ ہوتا رہے گا جو ان اختلافات کا نبی کریمﷺ کے بیان کے مطابق مشاہدہ کرے گا۔

            (احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 70)

ڈاکٹر عبدالعزیز صغیر دخان نے احادیث فتنہ کو جمع کیا ہے، اور پھر اس کا دراسہ کر کے اپنی کتاب ’’احداث واحادیث فتنۃ الہرج‘‘ میں صحیح و ضعیف کو بیان کیا ہے، اور پھر احادیث صحیحہ سے ان معانی کا استخراج کیا ہے جن پر یہ احادیث دلالت کرتی ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:

1: اقوام و امم کے درمیان فتنوں کا رونما ہونا سنن الٰہیہ اور فطرت کونیہ میں سے ہے، اور تا قیامت اس امت میں بھی یہ سنت الٰہی جاری رہے گی، بلکہ اندھیری رات کی طرح اندھے، بہرے اور گونگے فتنے رونما ہوں گے، جو اس میں گھسا دنیا و آخرت میں تباہ ہوا اور جس نے اپنے آپ کو دور رکھا کامیاب رہا۔ ان میں اپنے موقف کی صحیح تعیین وہی کر سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم سے زندگی بخشی ہو، تقویٰ کا بھرپور جوہر عطا کیا ہو، اور ہدایت حق بخشی ہو۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 345)

صفحہ 1 از 2