سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شفقت پدری - دفاعِ اہلِ…

سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شفقت پدری

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی کے ساتھ بے حد شفقت اور ہمدردی کے ساتھ پیش آتے۔ وہ انھیں کہتے رہتے: ’’تمھیں جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے طلب کر لیا کرو۔‘‘ 

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد: جلد 8 صفحہ 179)

سیدنا براء رضی اللہ عنہ (سیدنا براء بن عازب بن حارث: ابو عمارہ اوسی المدنی، صحابی ابن صحابی رضی اللہ عنہما بڑے بڑے فقہا صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پندرہ غزوات میں شریک ہوئے۔ بیشتر فتوحات جیسے کہ’’ فتح الری‘‘ وغیرہ میں شریک رہے۔ 72ھ میں راہیٔ فردوس ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 5 صفحہ 191۔ تہذیب التہذیب: جلد 4 صفحہ 11) سے روایت ہے:

ایک بار میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے اہل خانہ کے پاس گیا۔ اچانک دیکھا کہ

وہاں ان کی بیٹی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں، جنھیں بخار تھا۔ میں نے دیکھا، ان کے والد نے ان کا رخسار چوم کر پوچھا: اے میری پیاری بیٹی! تیرا کیا حال ہے؟‘‘ 

(صحیح بخاری: 3917)

جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنی بیٹی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یوں مخاطب کیا:

’’اے میری بیٹی! مجھے اپنے بعد لوگوں میں تجھ سے زیادہ کسی کے متعلق یہ آرزو نہیں کہ وہ مالدار بن کر رہے اور نہ تجھ سے بڑھ کر کسی کے فقیر ہونے کا مجھے اندیشہ ہے۔‘‘ 

(اسے امام مالک نے ’’مؤطا: جلد 4 صفحہ 1089‘‘ عبدالرزاق نے مصنف میں جلد 9 صفحہ 101 اور بیہقی نے جلد 6 صفحہ 169 پر حدیث نمبر 12298 میں روایت کیا ہے۔ جب کہ اس کی سند کو ابن کثیر رحمہ اللہ نے ’’ ارشاد الفقیہ: جلد 2 صفحہ 104 پر صحیح کہا ہے۔ ابن الملقن نے ’’البدر المنیر: جلد 7 صفحہ 144 ‘‘ پر اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’ ارواء الغلیل: جلد 6 صفحہ 61 ‘‘ پر اسے صحیح کہا ہے

اسی طرح انھوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنے مال سے بیس وسق ( 60صاع کے برابر وزن اور صاع تقریباً ڈھائی کلو کے برابر ہوتا ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 1 صفحہ 44 اور جلد 2 صفحہ 380) کھجو ریں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کر دیں ۔

(اسے امام مالک رحمہ اللہ نے المؤطا: صفحہ 752 اور امام عبدالرزاق نے مصنف کی جلد 9 صفحہ 101 پر روایت کیا ہے۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی اولاد کی تربیت کے لیے پر عزم تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے باپ سے مرعوب رہتی اور ان کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کرتی تھی۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کے بعد بھی ان کا یہی حال رہا۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ ( سیدنا انس بن مالک بن نضر ابو حمزہ انصاری، خزرجی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو کثرت سے روایت کیا۔ وہ سب صحابہ کے بعد بصرہ میں 92ھ میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 35۔ الاصابۃ: جلد 1 صفحہ 126) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز لاتے تو تمام کی تمام ایک ہی بیوی کو نہ دے دیتے بلکہ وہ چیز آپﷺ اپنی نو بیویوں میں برابر تقسیم کرتے۔ چونکہ تمام ازواج مطہرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیوی کے پاس رات کو اکٹھی ہوتی تھیں، جہاں آپﷺ نے رات بسر کرنی ہوتی تھی۔ ایک بار آپﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (یہ ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش بن رباب اسدی رضی اللہ عنہا ہیں۔ انھی کی شان میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّنۡهَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰكَهَا (سورہ الاحزاب آیت 37) ’’پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کرلیا تو ہم نے اس سے تمہارا نکاح کرادیا۔‘‘اور انہی کے سبب آیت حجاب نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلے وہی 20ھ میں فوت ہوئیں۔ (الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 97۔ الاصابۃ: جلد 6 صفحہ 257) آئیں تو آپﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک ان کی طرف بڑھایا تو سیدہ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہہ دیا یہ زینب ہے۔ تب آﷺپ نے اپنا ہاتھ بھینچ لیا۔ ان دونوں میں بحث شروع ہو گئی اور نوبت شوروغل تک پہنچ گئی۔

(استخبتا: مختلف آوازوں کے ساتھ شور شرابا کرنا۔ شرح صحیح مسلم للنوی: جلد 10 صفحہ 47)

اسی اثناء میں نماز کے لیے اذان ہوئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے۔ انھوں نے ان دونوں کی بلند آوازیں سنیں تو کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نماز کی طرف تشریف لائیں اور ان کے مونہوں میں مٹی بھر دیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی طرف چلے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں : اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو جائیں گے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آکر میرے ساتھ یہ یہ سلوک کریں گے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور انھیں خوب ڈانٹ پلائی۔

(اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، حدیث: 1462)

کہنے لگے: کیا تمہارا یہ سلوک ہے؟

(سیرت السیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا للندوی: صفحہ 59)

’’ایک بار جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بلند آواز سنی تو وہ ان کے گھر میں گئے اور انھیں سزا دینے کے لیے پکڑ لیا اور کہنے لگے: ’’میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کبھی آواز بلند کرتے ہوئے نہ دیکھوں۔‘‘تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی کو ان کے والد کے غصے سے بچانے کے لیے درمیان میں آگئے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غصے میں چلے گئے۔ 

(متفق علیہ۔)

بیویوں کو دو باتوں کا اختیار دینے کے واقعہ میں یہ الفاظ بھی ہیں :

صفحہ 1 از 2