کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا لشکر باغی ہے ؟…

کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا لشکر باغی ہے ؟ بخاری حدیث نمبر 2812 کی وضاحت

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 1 از 4

حدیث 2812 کی وضاحت 

شہادتِ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ

حقیقت سے بھٹکے ہوئے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے حضرت عمارؓ سے فرمایا تھا

ویح عمارؓ تقتله الفئة الباغية يدعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار 

(بخاری: حدیث نمبر447 اور گوگل پر حدیث نمبر 2812 ہے)
 ترجمہ: "افسوس ہے عمارؓ پر کہ باغی جماعت اسے قتل کرے گی، عمارؓ تو انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ عمارؓ کو جہنم کی طرف" اور حضرت عمارؓ حضرت علیؓ کی حمایت میں جنگ صفین میں حضرت معاویہؓ کے مقابلہ میں لڑتے ہوئے اس لڑائی میں شہید ہوئے، ان کی شہادت سے معلوم ہوا کہ حضرت معاویہؓ کی جماعت فئتہ باغيہ" کا مصداق ہے۔

  الجواب:
اس حدیث کے دو طرح سے جواب دیئے گئے ہیں
(1) اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے
(2) اس اعتراض کو مانتے ہوئے 

  پہلا جواب

اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے
حضرت عمارؓ خود فرماتے ہیں

حدثنی حبیبی رسول الله إني لا أموت إلا قتلاً بين فئتين مؤمنتين
(التاریخ صغیر للامام بخاری: رقم 312)

حضورﷺ نے فرمایا کہ حضرت عمارؓ کی موت مؤمنین کی دو جماعتوں کے درمیان میں قتل کی صورت میں واقع ہوگی اور ان کو قتل کرنے والی باغیوں کی جماعت ہوگی جیسا کہ "تقتلہ الفئتہالباغيہ" سے واضح ہے اور باغیوں سے مراد خوارج کی وہ جماعت ہے جنہوں نے خلیفہ راشد حضرت عثمانؓ سے بغاوت کی اور بالآخر آپؓ کو شہید کر ڈالا۔
 لفظ ويح افسوس کا لفظ استعمال فرمایا جس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ افسوس آپ جس جماعت کے موقف کو صحیح سمجھ کر اس کے ساتھ ہوں گے وہی جماعت آپ کو قتل کرے گی
"فئتہ باغيہ" كا صحيح مصداق 
 فئتہ باغيہ" کا مصداق حضرت عثمانؓ کی خلافت سے باغی جماعت ہے جو حضرت علیؓ اور کچھ حضرت معاویہؓ کے لشکر میں شامل تھے۔ ان لوگوں نے حضرت عمارؓ کو شہید کر کے حضرت معاویہؓ کو ایسا بد نام کیا کہ اونچے درجے کی تحقیق والے بھی حضرت معاویہؓ کو باغی سمجھنے لگے۔
 کچھ شواہد 
(1) آپﷺ نے تقتلہ الفئتہ الباغيہ" فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ وہ جماعت مراد ہے جس کی بغاوت مسلمانوں میں مسلّم ہے اور وہ قاتلینِ عثمانؓ ہیں جن کی کاروائی کو تمام صحابہؓ بغاوت مانتے تھے۔
(2) رسول اللہﷺ نے خود دوسری حدیث میں فئة باغیۃ کی تشریح کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ایک شخص نے رسولﷺ کی تقسیم پر اعتراض کیا اور بعض صحابہؓ نے اس کے قتل کا ارادہ کیا تو آپﷺ نے منع فرمایا اور یہ فرمایا اس کو چھوڑ دو، دوسرے حضرات اس کو قتل کر کے آپ کو اس کے قتل سے بچائیں  گے یہ لوگ دین سے اس طرح نکلیں گے جیسے تیر شکار سے نکلتا ہے، ان کا قتال ہر مسلمان پر ضروری ہے۔

 (السنن لابن ابی عاصم :رقم 911 )

یہ شخص خوارج میں سے تھا اور حضرت علیؓ کے مقابلے میں قتل ہوا، اس سے واضح ہوا کہ فئة باغیہ خوارج ہیں۔  ان کو خوارج نام بعد میں ملا لیکن پہلے ان کی حقیقت موجود تھی، گویا پہلے حضرت عثمانؓ سے بغاوت کر کے اکہرے خوارج تھے بعد میں حضرت علیؓ سے بھی منحرف ہو کر دوہرے خوارج بن گئے، پہلے ان کا نام فئة باغیہ تھا پھر ان کا نام خوارج پڑ گیا۔
 (3) مستدرک حاکم میں (رقم:2653) علیٰ شرط البخاری روایت ہے کہ ابن عباسؓ نے اپنے بیٹے علی اور عکرمہ کو حضرت ابو سعید خدریؓ کے پاس بھیجا کہ ان سے وہ حدیث جو آپﷺ نے خوارج کے بارے میں بیان کی ہے سن کر آؤ ۔اسی میں لفظ " ويح عمارؓ تقتله الفئة الباغيہ" ہے، معلوم ہوا کہ اس حدیث کا مصداق خوارج ہیں اور انہوں نے ہی حضرت عمارؓ کو شہید کیا ہے۔
(4) ایک روایت میں ہے

"و ذلک فعل الاشقياء والاشرار "

کہ یہ بدبختوں اور شریروں کا کام ہے۔
تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 43 صفحہ 402
دوسری روایت میں ہے کہ

"لا يقتلک أصحابي ولكن تقتلك الفئة الباغية"

کہ تجھے کو میرے صحابی قتل نہیں کریں گے، تجھ کو باغی جماعت قتل کرے گی
 (وفاء الوفاء: جلد 1 صفحہ254)
 معلوم ہوا کہ یہ بدبختوں کا کام تھا صحابہؓ اس میں ملوث نہیں تھے۔
 (5 ) اگر "فئتہ باغیہ" سے مراد حضرت معاویہؓ کی جماعت تھی تو حضرت علیؓ نے حضرت معاویہؓ سے صلح کی بات چیت کے لیے حکم کیوں مقرر فرمایا جس کے نتیجے میں قتال موقوف ہوا؟ باغیوں کے لیے تو قرآنی فیصلہ موجود ہے :

فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ-

یعنی کہ باغیوں سے قتال کیا جائے گا۔
 دونوں فریق اپنے اپنے دعوے کے مطابق اپنے کو حق پر سمجھتے تھے۔
 پھر اگر حضرت معاویہؓ کا باغی ہونا ثابت ہو چکا تھا تو حضرت علیؓ کے بعد حضرت حسنؓ نے کیوں حکومت سے دستبردار ہو کر حکومت ان کے حوالے کر دی؟ ان پر تو قتال فرض ہونا چاہیے تھا نہ کہ مسلمانوں کی قیادت ہی ان کے سپرد کر دی جاتی، پھر مزید یہ کہ حضرت حسنؓ کے اس فیصلے کی تائید اس وقت کی پوری ملتِ اسلامیہ نے کی اور سب نے خوشی منائی اور اس سال کا نام ہی عام الجماعۃ رکھ دیا۔ اگر فی الواقع حضرت معاویہؓ باغی تھے تو رسول اللہﷺ نے ان کے لیے

" اللهم اجعله هاديا مهديا واهده واهد به" (ترمذی :3842)
صفحہ 1 از 4