Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتنہ کے ساتھ تعامل میں عثمانی سیاست

  علی محمد الصلابی

مختلف مراجع و مصادر میں موجود تاریخی نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فتنہ کا مقابلہ کرنے میں مختلف اسلوب اختیار کیے:

حضرت عثمان غنیؓ کو بعض صحابہ کرامؓ کا مشورہ کہ تحقیقاتی کمیٹیاں بھیجی جائیں:

عبداللہ بن سبا نے جو لشکر صوبوں میں عام کر رکھے تھے، ان سے متعلق جب محمد بن مسلمہ اور طلحہ بن عبیداللہ وغیرہ رضی اللہ عنہم نے سنا تو جلدی سے امیر المؤمنین عثمانؓ کے پاس پہنچے، اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! لوگوں سے متعلق جو خبریں ہمیں پہنچ رہی ہیں، کیا آپ کو بھی پہنچی ہیں؟ فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! مجھے خیر و سلامتی کی خبریں پہنچی ہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں تو خبریں پہنچی ہیں۔ پھر اسلامی صوبوں میں فتنہ و فساد کے پھیلنے اور ہر جانب گورنروں پر جارحانہ حملوں کے سلسلہ میں جو خبریں پہنچی تھیں، اسے بیان کیا۔ امیر المؤمنین نے ان سے فرمایا: آپ لوگ میرے شریک کار اور مسلمانوں کے گواہ ہو، لہٰذا ہمیں مشورہ دو۔ انہوں نے کہا: ہمارا مشورہ یہ ہے کہ آپ قابل اعتماد لوگوں کو صورتحال کا صحیح جائزہ لینے کے لیے صوبوں کو روانہ کریں تاکہ وہ آپ کو مفصل رپورٹ پیش کریں۔ (تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 348)

حضرت عثمان غنیؓ نے انتہائی درست اور عظیم کارروائی شروع کی، صحابہ کرامؓ میں سے کچھ ایسے لوگوں کو منتخب فرمایا جن کے صدق و تقویٰ، زہد و ورع اور نصیحت و خیر خواہی پر کسی کو شک نہیں ہو سکتا تھا۔ آپ نے محمد بن مسلمہؓ کو جنھیں سیدنا عمر بن خطابؓ صوبوں میں گورنروں کی جانچ اور احتساب کے لیے مقرر کرتے تھے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو جو رسول اللہﷺ کے محبوب اور حب رسول اللہﷺ کے بیٹے تھے، جنھیں رسول اللہﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کے آخری ایام میں رومیوں سے مقابلہ کے لیے سپہ سالار اعظم بنا کر روانہ ہونے کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا: ’’انفذوا بعث‘‘ اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو، اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو جو اسلام کی طرف سبقت کرنے والے اور عظیم مجاہد تھے، اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جو انتہائی متقی، زہد و ورع کے حامل اور فقیہ تھے، ان سب کو منتخب فرمایا۔ محمد بن مسلمہؓ کو کوفہ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بصرہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو مصر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شام روانہ کیا، اور ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی ایک ایک جماعت روانہ کی۔ ان تمام حضرات کو بڑے بڑے صوبوں میں روانہ کیا، ان میں سب کے سب انتہائی خطرناک و مشکل مقصد کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوئے اور پھر سب کے سب عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے علاوہ اپنی ذمہ داری مکمل کر کے مدینہ واپس ہوئے جب کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما مصر میں کچھ دیر رہ گئے پھر واپس ہوئے۔ اور ان حضرات نے جو کچھ صوبوں میں مشاہدہ کیا اور سنا اور لوگوں سے سوال کیا، اس کی مکمل رپورٹ حضرت عثمان غنیؓ کی خدمت میں پیش کر دی۔

(عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر: صفحہ 210) تمام صوبوں کے سلسلہ میں جو رپورٹ ان حضرات نے پیش کی وہ ایک ہی تھی۔ انہوں نے اپنی اپنی رپورٹ میں کہا: لوگو! ہم نے کوئی ناپسندیدہ اور قابل گرفت چیز نہیں پائی اور نہ مسلمانوں نے کوئی ناپسندیدہ اور قابل گرفت چیز محسوس کی ہے، ہم نے تو یہی پایا کہ امراء اور گورنر لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کو قائم کیے ہوئے ہیں اور اس کا پورا اہتمام کرتے ہیں اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو جن روایات میں متہم کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف بھڑکانے میں لگ گئے یہ روایات سند و متن دونوں اعتبار سے ناقابلِ اعتماد ہیں ان کی سندیں ضعیف اور متن میں نکارت ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 348)

صوبوں کا جائزہ لینے والی تحقیقاتی کمیٹی کے ممبران واپس ہوئے، ان کی رپورٹ سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر امراء اور گورنروں کو معزول کیا جائے، لوگ خیر و عافیت سے ہیں، ہر طرف عدل و انصاف، خیر و برکت، امن و امان اور سکون و اطمینان ہے۔ گورنران ہر قضیہ میں عدل و انصاف کرتے ہیں، لوگوں کے درمیان عطیات بلا امتیاز برابر تقسیم کرتے ہیں، اللہ اور رعیت کے حقوق کی نگہداشت کرتے ہیں اور اس کے بر خلاف جو باتیں پھیلائی جا رہی ہیں ان کا تعلق شکوک و شبہات، اتہامات اور اکاذیب سے ہے، حاقدین ان کو خفیہ طور سے پھیلا رہے ہیں تاکہ ان کا سراغ نہ لگ سکے۔ لیکن اس عظیم خلیفہ راشد نے اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ آپ نے صوبوں کے باشندگان کے نام خطوط روانہ کیے۔ 

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 117)