مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 1 از 20

مسلک اہلِ بیت:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حقانیتِ اہلِ سنت:
یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ تمام فرقے ہلاکت کے دھانے پر ہیں جب کہ نجات پانے والے لوگ صرف اورصرف اہلِ سنت و الجماعت ہیں چنانچہ ملاحظہ ہو!
شیعی پیشوا ابنِ بابویہ قمی حدیث نبوی نقل کرتے ہیں:
وإن أمتی ستفترق على اثنتين وسبعين فرقة يهلك إحدى وسبعون ويتخلص فرقة، قالوا: يا رسول اللهﷺ‎ من تلك الفرقة؟ قال الجماعة الجماعة الجماعة۔
(کتاب الخصال: جلد، 2 صفحہ، 149، مطبوعہ ایران)
ترجمہ: حضورﷺ نے فرمایا کہ میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اکہتر فرقے ہلاک جہنمی ہوں گے اور ایک جماعت نجات پائے جنتی ہوگی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ وہ فرقہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایاﷺ وہ جماعت ہے، جماعت ہے، جماعت ہے۔
امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اسی بات کو اپنی خطبہ میں فرمایا:
وسيهلك فی صنفان محب مفرط يذهب به الحب إلى غير الحق، ومبغض مفرط يذهب به البغض إلى غير الحق، وخير الناس فی حالا النمط الأوسط، فالزموه والزموا السواد الأعظم فإن يد الله على الجماعة وإياكم والفرقة فإن الشاذ من الناس للشيطان كما أن الشاذ من الغنم للذئب ألا من دعا إلى هذا الشعار فاقتلوه ولو كان تحت عمامتج هذه۔
(نہج البلاغہ: صفحہ، 365 خطبہ نمبر، 125)
ترجمہ: عنقریب میرے متعلق دو گروہ ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے تجاوز کرنے والا اسے غلو محبت حق کے خلاف لے جائے گا۔ دوسرا گروہ وہ میرے بارے میں بغض و عناد میں حد سے بڑھنے والا کہ اس کا بغض اسے حق کے خلاف لے جائے گا۔ اور میرے باب میں سب سے بہتر وہ لوگ ہوں گے جو اعتدال پر ہوں گے تو تم بھی درمیانی راہ کو لازم پکڑو اور السواد الاعظم کے ساتھ رہو۔ بیشک اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے خبردار جماعت سے جدا نہ ہونا، پس جو جماعت سے الگ ہو جاتا ہے وہ شیطان کا شکار بن جاتا ہے جیسے گلے سے جدا ہونے والی بکری بھیڑیئے کا لقمہ بنتی ہے۔ خبردار ہو جاؤ! جو ان باتوں کی طرف بلائے تو اسے قتل کردو، خواہ وہ میرے عمامہ کے نیچے ہو۔
ارشادِ نبویﷺ ہے جو حبِ اہلِ بیتؓ پر فوت ہوا وہ اہلِ سنت و الجماعت پر فوت ہوا!
(جامع الاخبار: صفحہ، 189، کشف الغمہ: جلد، 1 صفحہ، 107)
سیدنا علیؓ سے منقول ہے کہ آپؓ نے فرمایا:
بانا واللہ اھل السنة و الجماعة۔
(رسالہ تبراء: صفحہ، 15، مطبوعہ یوسفی دہلی)
ترجمہ: اللہ کی قسم بلاشبہ ہم سب اہلِ سنت و الجماعت ہیں۔
شیعہ مذہب کی مستند کتاب "جامع الاخبار" میں ایک طویل حدیث قدسی نقل کی گئی ہے، اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریمﷺ کو اہلِ سنت و الجماعت کے لئے خوشخبری سنائی گئی کہ:
وليس على من مات على السنة والجماعة عذاب القبر، ولا شدة يوم القيامة، يا محمد: من أحب الجماعة أحب الله و الملائكة أجمعون۔
(جامع الخبار: صفحہ، 106 فصل سی وششم فارسی)
ترجمہ: جو شخص مذہب اہلِ سنت و الجماعت پر مرے گا اسے نہ قبر میں عذاب ہوگا اور نہ روز قیامت کی سختی، اے محمدﷺ جو اس جماعت سے محبت کرے گا اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے اس سے محبت کریں گے۔
سیدنا علی المرتضیٰؓ بصرہ میں ایک خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کے ایک آدمی نے اُٹھ کر آپ سے پوچھا اے امیر المؤمنینؓ! اہلِ جماعت، اہلِ تفریق، اہلِ بدعت اور اہلِ سنت کون کون ہیں؟ آپؓ نے فرمایا تیرا برا ہو، اچھا اگر تو دریافت کر ہی بیٹھا ہے تو سن! لیکن میرے بعد کسی دوسرے سے نہ پوچھنا، آپ نے فرمایا اہلِ سنت و الجماعت میں اور میرے متبعین ہیں، اگرچہ وہ تھوڑے ہی ہوں اور یہ حق اللہ اور اس کے رسولﷺ کے امر سے ہے، اہلِ تفریق میرے اور میرے متبعین کے مخالف ہیں اگرچہ ان کی کثرت ہی ہو اور اہلِ سنت تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ان طریقوں کو مضبوطی سے تھامنے والے ہیں جو ان کے لیے مقرر کئے گئے ہیں۔
(احتجاج طبرسی: جلد، 1 صفحہ، 395، 394، صفحہ، 90 مطبوعہ نجف اشرف)
اصلی کلمہ:
شیعہ حضرات عام طور پر جو کلمہ پڑھتے ہیں وہ اہلِ بیتؓ سے قطعاً ثابت نہیں، جب کہ سیدنا جعفر صادقؒ سے پوچھا گیا کہ مجھے حدودِ ایمان بتائیں تو آپؒ نے فرمایا: 
شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله والاقرار بما جاء به من عند الله وصلاة الخمس وأداء الزكاة وصوم شهر رمضان وحج البيت۔
ترجمہ: یعنی یہ گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور بے شک محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں، آپ جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے اس کا قرار کرنا، پانچ نمازیں پڑھنا زکوٰۃ ادا کرنا، ماہِ رمضان کے روزے رکھنا اور بیتُ اللہ کا حج ادا کرنا۔
(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 18 الشافی ترجمہ اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 30 ومثلہ: صفحہ، 46 وفی: جلد، 2 صفحہ، 45)
سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: جو شخص نمازوں کی حفاظت کرتا ہے اس کے انتقال کے وقت ملک الموت اس سے شیطان کو دفع کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے یہ کلمہ تلقین کرتا ہے لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ۔
(من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 82 فی غسل المیت)
آپ نے مزید فرمایا کہ موت کے وقت شیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ دین کے متعلق شکوک پیدا کرے، لہٰذا تم فوت ہونے والے کو یہ کلمہ تلقین کرو اشھد ان الا الہ اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہُ۔ 
(من لا یحضر والفقیہ جلد، 3 صفحہ، 79)
سیدنا ابو جعفر محمد باقرؒ نے فرمایا:
جس نے اشھد انا لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھدان محمدا عبدہ ورسولہ۔
کہا اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار نیکیاں لکھتا ہے۔
(الشافی ترجمہ اصول کافی: جلد، 2 صفحہ، 511)
سیدنا علی المرتضیٰؓ تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو لوگوں نے پوچھا آپؓ کون ہیں؟ تو آپؓ نے فرمایا کہ میں رسول اللہﷺ ایلچی ہوں، آپؓ کے لیے وہ ہی باتیں ہیں یا تو کہہ دو لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ یا میں تمہیں تلوار سے سیدھا کروں گا۔
(ارشاد مفید: صفحہ، 60)
سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں:
اے اللہ کریم! اگر تو نے مجھے دوزخ میں جانے کا حکم دیا تو میں اہلِ دوزخ کو یہ ضرور بتاؤں گا کہ میں کلمہ شریف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتا تھا۔
(حلیتہ الابرار: جلد، 2 صفحہ، 141، باب سوم)
سیدنا ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں:
صفحہ 1 از 20