صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقس -…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقس

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقسیم :

[اعتراض]: ....شیعہ مصنف کا کہنا ہے کہ: ’’ بعض صحابہ پر حق مشتبہ رہا اور طلب دنیا کے نقطہ خیال سے بیعت کر لی تھی ۔‘‘ 

۲۔ بعض اہل سنت شبہات کا شکار ہو کر دنیا دار لوگوں کے پیچھے چلنے لگے تھے۔ کوتاہ بینی کی بنا پر انہیں حق تک رسائی حاصل نہ ہو سکی، اور گرفت الٰہی کے مستوجب ٹھہرے۔اس لیے کہ انہوں نے غور وفکر نہ کرکے یہ حق غیر مستحق کے سپرد کردیا تھا۔

۳۔ بعض لوگ کوتاہ فہمی کی بنا پر مقلد محض ہوکر رہ گئے اور لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر یہ سمجھے کہ شاید کثرت افراد حق و صداقت کی علامت ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انہی کی بیعت کر بیٹھے اور اس آیت کو یکسر نظر انداز کر دیا:﴿ وَقَلِیْلٌ مَّا ہُمْ ﴾ (ص۲۴)

’’وہ (حق پرست) کم ہی ہوتے ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ﴾ [سبا ۱۳]

’’’ اور میرے بندوں میں سے بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہیں ۔‘‘ [انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:.... ان سے کہا جائے گا: اس مفتری وکذاب نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تین گروہوں میں منقسم کیا ہے:

۱۔ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم دنیا کے طلب گار تھے۔

۲۔ ایک گروہ کے لوگ کوتاہ بین تھے اور دور اندیشی سے محروم تھے۔

۳۔ صحابہ کی تیسری قسم عاجز اور بے بس تھی۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے کی وجہ و محرکات و اسباب بقول شیعہ مصنف مندرجہ ذیل تھے:

۱۔ قصد و نیت کی خرابی۔

۲۔ جہالت۔پھر جہالت کے دو اسباب ہیں :

۱۔کوتاہ بینی ، ۳۔ عجز و قصور۔

٭....پھر شیعہ مصنف نے کہا ہے کہ:’’ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیعت کرتے وقت کوتاہ بینی سے کام لیا تھا۔اگر وہ غور و فکر سے کام لیتے تو حق و صداقت کو پہچان لیتے۔اس غور فکر کے ترک کرنے پر ان سے مؤاخذہ ہوگا۔بعض لوگ کوتاہ فہمی کی بنا پر مقلد محض ہوکر رہ گئے اور لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر یہ سمجھے کہ شاید کثرت افراد حق و صداقت کی علامت ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انہی کی بیعت کر بیٹھے۔‘‘

اس سے شیعہ مصنف کا مقصد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے اسباب کی جانب اشارہ کرنا ہے۔

[جواب] :.... اس شیعہ سے کہا جائے گا کہ :’’یہ صریح قسم کی دروغ گوئی ہے جس میں کوئی اشکال نہیں ۔اور ہر شخص بڑی آسانی سے جھوٹ بول سکتا ہے۔ روافض کی قوم حیرانی و سرگردانی کا شکار رہتی ہے۔ چنانچہ اس افتراء پرداز سے اگر اس کی دلیل طلب کی جائے تو وہ کوئی دلیل پیش نہ کر سکے گا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بلا دلیل کوئی بات کہنے کو حرام قرار دیا ہے خصوصاً جب کہ حق بیان کردہ بات کے خلاف ہو۔ اگر ہم صحابہ کے حالات سے نابلد ہوتے توبھی بلا ثبوت ان کو بد ارادہ اور جاہل قرار دینا روانہ تھا، قرآن کریم میں ہے:

﴿ وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤلًا﴾ (الاسراء ۳۶)

’’جس بات کی آپ خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑیے کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے ۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

﴿ ہَآاَنْتُمْ ھٰٓوُلَآئِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَــکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عَِلْمٌ﴾ (آل عمران۶۶) 

’’تم وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی باتوں میں تکرار کی جن کا تمہیں علم تھا، تو پھر ایسی باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں علم ہی نہیں ۔‘‘

جب ہم جانتے ہیں کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم علم و عقل اور دین و مذہب کے اعتبار سے امت محمدی کے کامل ترین افراد تھے تو پھر اس کے برعکس خیالات کا اظہار کرنا کیونکر روا ہوگا۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’جو کسی کی پیروی کرنا چاہتا ہو تو وہ اس شخص کے نقش قدم پر چلے جو فوت ہوچکا ہو۔ اس لیے کہ زندہ شخص کے مبتلائے فتنہ ہونے کا خطرہ دامن گیر رہتا ہے۔ اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس امت میں سب سے افضل ، نیک دل، عمیق العلم اور تکلف و تصنع سے پاک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کی صحبت و رفاقت اور دین اسلام کی نشرو اشاعت کے لیے منتخب کیا تھا۔ لہٰذا ان کی فضیلت کا اعتراف کیجئے، ان کے نقش قدم پر چلئے، دین و مذہب اور اخلاق و عادات میں ان کی پیروی کیجئے، کیونکہ وہ صراط مستقیم پرگامزن تھے۔‘‘ [مشکاۃ۔ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ(ح:۱۹۳)جامع بیان العلم لابن عبد البر(۲؍۹۷) الھروی (ق:۸۶؍۱)۔]

یہ اثر کئی علماء نے نقل کیا ہے؛ ان میں سے ایک ابن بطہ بھی ہیں جنہوں نے قتادہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔

ابن بطہ اور دوسرے کئی علماء نے معروف اسناد کے ساتھ زِر بن حبیش سے روایت کیا ہے؛ وہ کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں :

’’اللہکریم نے بندوں کے دلوں کو دیکھا تو سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو سب سے افضل پایا؛ چنانچہ اسے اپنے لیے مخصوص کر لیا۔ پھر بندوں کے دلوں کو دیکھا ؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے دلوں کو سب سے افضل پایا اور انہیں اپنے نبی کے وزیر بنا دیا؛ جو اس کے دین کی خاطر لڑتے ہیں ۔ جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جسے وہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔‘‘ [مستدرک حاکم(۳؍۷۸۔۷۹) ،مسند احمد(۱؍۳۷۹)وقال الہیثمي : رواہ أحمد و البزار ‘ و الطبراني في الکبیرمحمع الزوائد ۱؍۱۷۷۔]

یہ روایت ابن بطہ نے قتادہ رحمہ اللہ سے نقل کی ہے اور دیگر محدثین کے یہاں یہ روایت زربن حبیش سے مروی ہے۔ایک روایت میں ہے کہ اس اثر کے راوی ابو بکر بن عیاش فرماتے ہیں :’’ عاصم بن ابی النجود نے زر بن حبیش سے روایت کیا ہے ‘ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنی صواب دید سے خلیفہ بنایا تھا۔‘‘

صفحہ 1 از 4