Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی ابن سبا سے متاثر ہونے کی تردید

  علی محمد الصلابی

سعید افغانی نے اپنی کتاب ’’عائشہ اور سیاست‘‘ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت فتنہ کے سلسلہ میں ابن سبا کے کردار کو بڑی شکل دی ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی باہمی جنگوں، سازشوں اور فتنوں کو اس کی طرف منسوب کیا ہے، اور ان کا خیال ہے کہ اس ٹھوس سازش کے پیچھے ماہر شیاطین نے شب و روز ایک کیے اور منظم منصوبہ بندی کی، یہاں تک کہ اس کے آثار تمام اطراف و جوانب میں ظاہر ہوئے، اسی لیے یہ عنوان قائم کیا: ’’ابن سبا البطل الخفی المخیف۔ 

(عائشۃ والسیاسۃ: سعید افغانی: صفحہ 60)

(ابن سبا خوفناک پوشیدہ ہیرو) پھر سعید افغانی نے ابن سبا کی شخصیت کو خوب بڑھا کر پیش کیا چنانچہ اس کو انتہائی درجہ کا ذہین و فطین، بعد نظر اور وسیع حیلہ کا مالک اور لوگوں کی نفسیات پر اثر انداز ہونے والا قرار دیتے ہیں۔

(ایضاً)

 انہوں نے اس کو خفیہ تلمودی تنظیم کا سرگرم رکن قرار دیا ہے، جس کا مقصد اسلامی سلطنت کو تباہ کرنا تھا۔

(ایضاً)

اور یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ابن سبا رومی سلطنت کے لیے کام رہا تھا جس سے مسلمانوں نے قریبی زمانہ میں مصر و شام جیسے اہم علاقے اور بحر متوسط کے دیگر دوسرے علاقوں کو چھین لیا تھا، وہ مختلف دینی، سیاسی اور جنگی میدانوں میں ابن سبا کی سر گرمی تعجب خیز قرار دیتے ہیں۔

(ایضاً)

سعید افغانی کی رائے یہ ہے کہ ابن سبا، حضرت ابوذرؓ سے ملاقات میں کامیاب رہا، چوں کہ وہ لوگوں کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھا اس لیے اپنی منظم سراغ رسانی کے ذرائع کی بدولت حضرت ابوذرؓ پر اثر انداز ہوا۔

(ایضاً)

لیکن ان کا یہ زعم باطل ہے اور مختلف وجوہ کی بنا پر اس کا صحت سے کوئی تعلق نہیں:

1: جس وقت سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنیؓ سے حضرت ابوذر غفاریؓ کی شکایت کی اس وقت ابن سبا سے ان کے متاثر ہونے کی طرف کوئی اشارہ نہ کیا، بلکہ صرف اتنی بات پر اکتفا کیا کہ حضرت ابوذر غفاریؓ نے مجھے عاجز کر دیا ہے اور ان کا معاملہ ایسا ایسا ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 285)

2: علامہ ابنِ کثیرؒ نے سیدنا معاویہ اور ابوذر رضی اللہ عنہما کے مابین اختلاف کو اپنی تاریخ میں مختلف مقام پر ذکر کیا ہے، لیکن کہیں بھی ابن سبا کا ذکر اس ضمن میں نہیں کیا ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 170-180) 

3' صحیح بخاری میں وہ حدیث وارد ہے جس میں حضرت معاویہ اور ابوذر رضی اللہ عنہما کے درمیان واقع شدہ اختلاف کی طرف اشارہ ہے، لیکن اس میں دور و نزدیک کہیں سے بھی ابن سبا کی طرف اشارہ نہیں ہے۔

(البخاری: 1406)

4: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت سے متعلق مشہور کتابوں میں حضرت معاویہ اور ابوذر رضی اللہ عنہما کی گفتگو اور پھر ربذہ میں ان کا اقامت پذیر ہونا ضرور مذکور ہے، لیکن حضرت ابوذرؓ پر ابن سبا کی تاثیر کا کوئی ذکر نہیں۔

(عبداللہ بن سبا و اثرہ فی احداث الفتنۃ: سلیمان العودۃ: صفحہ 51)

5: بلکہ تاریخ طبری میں یہ خبر مذکور ہوئی ہے کہ حضرت معاویہؓ کے مدافعین نے ابن سبا کے شام جانے اور حضرت ابوذر غفاریؓ کے ساتھ ملاقات کا ذکر کیا ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 285)

لیکن یہ خبر جسے طبری نے بیان کیا ہے جھوٹ ہے، کیوں کہ تاریخی واقعات اس کی تکذیب و تردید کرتے ہیں:

 مؤرخین کا بیان ہے کہ ابن سبا نے حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں اسلام قبول کیا، وہ یمن کا یہودی تھا، اس نے اپنی تخریبی سرگرمی حجاز میں شروع کی لیکن انہوں نے کسی سے ملاقات کا ذکر نہیں کیا کہ وہ کسی سے ملا ہو یا اہل حجاز میں سے کوئی اس سے ملا ہو۔

 اس کا اول ظہور عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے گورنر بننے کے تین سال بعد بصرہ میں ہوا، اور عبداللہ بن عامر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے بعد 29ھ میں بصرہ کے گورنر مقرر ہوئے تھے، تو اس حساب سے بصرہ میں اس کا ظہور 32ھ میں قرار پاتا ہے، اور ابنِ عامرؓ نے اس کو بصرہ سے عرفہ کے دن جلا وطن کر دیا تھا۔

 مؤرخین نے لکھا ہے کہ ابن سبا اس کے بعد بصرہ سے کوفہ روانہ ہوا اور وہاں حضرت معاویہؓ کے خلاف لوگوں کو اکسایا۔ اب ضروری ہے کہ ایک مدت وہ شام میں ٹھہرا ہو گا، تاکہ لوگوں کے حالات اور افکار و نظریات سے واقفیت حاصل کرے، اور اپنی دعوت کو پھیلانے کے لیے منصوبہ تیار کرے۔ اور بالفرض اگر ہم مان لیتے ہیں کہ 33ھ کے اواخر میں اس کی دعوت کا ظہور شام میں ہوا تو قارئین خود فیصلہ کریں کہ ابوذر اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین مناظرہ 30ھ میں پیش آیا تھا، اور حضرت ابوذرؓ مدینہ واپس آ گئے تھے اور ربذہ میں 31ھ، 32ھ میں آپ انتقال کر گئے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابن سبا کے بصرہ ظہور کے وقت حضرت ابوذر غفاریؓ وفات پا چکے تھے، تو کیسے اور کہاں ابن سبا سے ان کی ملاقات ہوئی۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 225)

حضرت ابوذر غفاریؓ عبداللہ بن سبا یہودی کے افکار و نظریات سے دور و نزدیک کہیں سے بھی متاثر نہیں تھے، اور وفات تک ربذہ میں اقامت پذیر تھے، اور عہدِ عثمانی میں رونما ہونے والے فتنوں سے بالکل دور رہے۔

(احادیث الفتنۃ الاولی بین الصحابۃ فی ضوء قواعد الجرح والتعدیل: دیکھیے۔ عبدالعزیز دخان: صفحہ 174)

مزید برآں آپ فتنوں سے ممانعت کی احادیث میں سے ایک حدیث کے راوی بھی ہیں۔

(ایضاً)