سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے کا احوال

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ


ابن كثير في البداية والنهاية: جلد 6 صفحہ 693. في أحداث سنة 11:

 وقد اتفق الصحابة رضي الله عنهم على بيعة الصديق في ذلك الوقت حتى علي بن أبي طالب والزبير بن العوام رضي الله عنهما

ابن کثیر الدایہ میں نقل کرتے ہیں کہ تمام صحابہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت پر متفق ہو گئے اور تو اور اس وقت علی ابن ابی طالبؓ اور زبیر بن العوامؓ نے بھی بیعت کر لی۔


امام عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنی کتاب سنن صفحہ 554 میں نقل کرتے ہیں:

حدثني عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى حدثنا داود بن أبي هند عن أبي نضرة قال لما اجتمع الناس على أبي بكر رضي الله عنه فقال ما لي لا أرى عليا قال فذهب رجال من الأنصار فجاءوا به فقال له يا علي قلت ابن عم رسول الله وختن رسول الله فقال علي رضي الله عنه لا تثريب يا خليفة رسول الله ابسط يدك فبسط يده فبايعه ثم قال أبو بكر ما لي لا أرى الزبير قال فذهب رجال من الأنصار فجاءوا به فقال يا زبير قلت ابن عمة رسول الله وحواري رسول الله قال الزبير لا تثريب يا خليفة رسول الله ابسط يدك فبسط يده فبايعه

ابی ندرہ سے روایت ہے کہ جب لوگ ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کر رہے تھے تو اس وقت انہوں نے کہا کہ مجھے کیا ہوا ہے کہ میں علی کو نہیں دیکھ رہا پھر انصار کا ایک آدمی گیا اور سیدنا علیؓ اس کے ساتھ آ گئے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے کہا اے علیؓ آپ کہ سکتے ہیں کہ آپ رسول اللہﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں اور آپ ان کے عم زاد ہیں تو حضرت علیؓ نے کہا اے رسول اللہ کے خلیفہ! آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں اپنا ہاتھ بڑھائے آپ نے ہاتھ بڑھایا اور علیؓ نے بیعت کر لی۔ پھر صدیق اکبرؓ نے کہا کہ مجھے کیا ہوا ہے کہ میں زبیر کو نہیں دیکھ رہا انصار کا ایک آدمی گیا اور انہیں بلا کہ لایا صدیقِ اکبرؓ نے کہا اے زبیر! تم کہ سکتے ہو کہ تم رسول اللہﷺ کی پھوپھی کے بیٹے ہو حضرت زبیرؓ نے کہا اے خلیفہ رسول اللہ مجھ سے ناراض نہ ہوں اپنا ہاتھ بڑھائے آپ نے ہاتھ بڑھایا اور حضرت زبیرؓ نے بیعت کر لی۔

یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے اسناد قوی ہیں ۔


پھر اس حدیث کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ امام حاکمؒ نے اپنی کتاب مستدرک: حدیث 4457) میں نقل کیا ہے ان کہنا ہے کہ یہ حدیث شیخین کے طریقہ پر صحیح ہے۔

 بیہقی نے اپنی کتاب اعتقادات جلد 1 صفحہ 349، 350 میں اسے ابو سعید الخدریؓ سے نقل کیا ہے اس کا مضمون بھی ایسا ہی ہے اور بیہقی کی یہ حدیث صحیح ہے۔

عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنی کتاب سنن جلد 2 صفحہ 563) میں قیس بن العبدی سے نقل کرتے ہیں کہ قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت علیؓ کو بصرہ میں خطبہ دیتے ہوئے دیکھا انہوں نے اللہ کی تعریف کی اس کا شکریہ ادا کیا اور رسول اللہﷺ اور آپ کی لوگوں کے لئے قربانیوں کا ذکر کیا پھر اللہ نے انہیں موت دی تو مسلمانوں نے دیکھا کہ ان کو حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کرنی چاہیے تو انہوں ان کی بیعت کی میں نے بھی ان کی بیعت کی اور ان سے وفاداری کی وہ (مسلمان) ان سے خوش تھے حضرت ابوبکرؓ نے اچھے کام کئے اور جہاد کیا یہاں تک اللہ نے ان کو موت دے دی ان پر اللہ کی رحمت ہو۔