شیعہ اور سنی میں فرق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شیعہ اور سنی میں فرق

  پیشکش صدائے قلب

صفحہ 1 از 4
پہلے یہ جان لیجیئے کہ اسلام کے ماننے والوں میں درست اسلامی نظریات پر قائم صرف وہی ہیں جو نبی آخر الزمانﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقے پر گامزن ہیں، اور یہ صرف اہلِ سنت والجماعت ہیں جنہیں اختصاراً سنی بھی کہا جاتا ہے۔ تمام صحابہ کرام و تابعین کرام، ائمہ و اولیائے عظام علیہم الرضوان انہی عقائد کے حامل تھے جو عقائد اہلِ سنت والجماعت کے ہیں۔
کثیر احادیث مبارکہ میں اہلِ سنت والجماعت حق اور جنتی ہونے اور اس کے علاوہ بقیہ فرقوں کے گمراہ و جہنمی ہونے کا بیان موجود ہے۔ تفسیر ابنِ کثیر میں ہے۔
وهذه الأمة أيضا اختلفوا فيما بينهم على نحل كلها ضلالة إلا واحدة، وهم أهل السنة والجماعة، المتمسكون بكتاب الله و سنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وبما كان عليه الصدر الأول من الصحابة والتابعين، وأئمة المسلمين فی قديم الدهر وحدیثه، کما رواه الحاكم فی مستدركه أنه سئل، عليه السلام عن الفرقة الناجية منهم، فقال: ما أنا عليه (اليوم) و اصحابی۔
ترجمہ: یہ امت بھی ان (یہود و نصاریٰ) کی طرح دین کے معاملے میں اختلاف کرے گی۔ تمام کے تمام فرقے گمراہ ہوں گے سوائے ایک فرقہ کے وہ اہِل سنت والجماعت ہو گا، جو کتاب اللہ اور سنتِ رسولﷺ کو تھامے ہو گا اور انہی عقائد پر ہوں گے جن پر صدرِ اول کے لوگ صحابہ کرام، تابعین رضی اللہ عنہم اور ائمہ مسلمین رحمہم اللہ چلے آ رہے ہیں۔ 
حدیث جسے امام حاکم نے مستدرک میں روایت کیا کہ آقاﷺ سے نجات والے فرقے کے متعلق پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: جس پر آج میں اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔
(تفسیر ابنِ کثیر، فی التفسیر، سورة الروم: آیت، 30 جلد، 6 صفحہ، 285 دارالكتب العلمية، بيروت)
بريقة محمودية فی شرح طريقة محمدية و شریعۃ نبویۃأهل السنة أی أصحاب سنة رسول الله أى التمسك بها والجماعة أی جماعة رسول الله وهم الأصحاب والتابعون وهم الفرقة الناجية المشار إليها فی قوله صلى الله تعالی علیہ وسلم ستفترق أمتى ثلاثا وسبعين فرقة كلها فی النار إلا واحدة قيل: ومن هم قال الذين هم على ما أنا عليه و أصحابی
 ترجمہ: اہِل سنت یعنی وہ لوگ جو رسول اللہﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہونے والے ہیں۔ جماعت کا مطلب ہے رسول اللہﷺ کی جماعت جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کی اتباع کرنے والے ہیں۔ یہی فرقہ نجات والا ہے اور اس فرقے کے جنتی ہونے کی طرف آپﷺ نے اشارہ فرمایا ہے کہ یہ امت تہتر 73 فرقوں میں بٹ جاۓ گی، بہتر 72 جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا۔ عرض کیا گیا وہ ک ن ہو گا؟ فرمایا جس پر میں اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔
(بريقة محمودية، جلد، 1 صفحہ، 55 مطبعة الحلبی)
جو لوگ بھی اس مبارک طریقے سے ہٹتے گئے وہ گمراہی کا شکار ہوئے۔ حقیقتاً فرقہ واریت کا اطلاق بھی انہی پر ہوتا ہے کہ جو درست رستے پر قائم کثیر لوگوں سے جدا ہو کر علیحدہ علیحدہ گروپ بن گئے۔ ان بہت سے گمراہ فرقوں میں سے ایک شیعہ فرقہ بھی ہے۔
سنی اور شیعہ میں عقائد و اعمال کے اعتبار سے بہت فرق ہے۔ شیعوں کے عقائد واضح طور پر قرآن و حدیث کے خلاف ہیں، بلکہ یہ بخاری و مسلم سمیت دیگر مستند احادیث کی کتب کو نہیں مانتے، یہاں تک کہ شیعوں کی ایک بہت بڑی تعداد قرآن ہی کو نامکمل مانتی ہے اور یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ موجودہ قرآن تحریف شدہ ہے۔ شیعہ فرقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان و عظمت کے نہ صرف منکر ہیں بلکہ ان کی شان میں گستاخیاں بھی کرتا ہے اور اہلِ بیتؓ کی شان میں بہت غلو کرتا ہے یہاں تک کہ ان کو نبیوں سے افضل قرار دیتا ہے۔
شیعوں کے چند باطل عقائد و نظریات
 عقیدہ:
شیعہ مذہب کا کلمہ یہ ہے
’’لا اله الا الله محمد رسول الله علی ولی الله وصی رسول الله و خليفة بلا فصل‘‘
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللہ کے رسول، یہی علی اللہ کے ولی اور رسول کے بلافصل خلیفہ ہیں۔
(برہان متعہ ثواب متعہ: صفحہ، 52)
عقیدہ:
شیعہ کے تمام فرقے سوائے زیدیہ خلفائے راشدین یعنی حضرت ابوبکر و حضرت عمر و حضرت عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کو نہ ماننے پر متفق ہیں، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سبِّ وشتم ان کا عام شیوہ ہے۔ شیعوں کا ملا باقر مجلسی اپنی کتاب حق الیقین میں لکھتا ہے: امام مہدی سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو قبر سے باہر نکالیں گے۔ وہ اپنی اسی صورت پر تروتازہ بدن کے ساتھ باہر نکالے جائیں گے۔ پھر فرمائیں گے کہ ان کا کفن اتارو، ان کا کفن حلق سے اتارا جائے گا۔ ان کو اللہ کی قدرت سے زندہ کریں گے اور تمام مخلوق کو جمع ہونے کا حکم دیں گے۔ پھر ابتداء عالم سے لے کر اخیر عالم تک جتنے ظلم اور کفر ہوئے ہیں ان سب کا گناہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ پر لازم کر دیں گے اور وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ اگر وہ پہلے دن خلیفہ برحق (حضرت علیؓ) کا حق غصب نہ کرتے تو یہ گناہ نہ ہوتے۔ پھر ان کو درخت پر چڑھانے کا حکم دیں گے اور آگ کو حکم دیں گے کہ زمین سے باہر آئے اور ان کو درخت کے ساتھ جلائے اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو اڑا کر دریاوں میں گرا دے۔
(حق الیقین: صفحہ، 362 مطبوعہ کتاب فروشی اسلامیہ، تہران)
عقیدہ: شیعوں میں ایک فرقہ غالی ہے جن کا عقیدہ ہے کہ سیدنا علیؓ خدا ہے اور بعضوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پیغامِ رسالت دے کر حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغامِ رسالت دو لیکن حضرت جبرائیل علیہ السلام بھول کر محمدﷺ کو دے گئے۔
(تفسیر عیاشی: جلد، 2 صفحہ، 101)
عقیدہ:
شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے اماموں کا رتبہ حضور اکرمﷺ کے علاوہ بقیہ انبیاء علیہم السلام سے زیادہ ہے چنانچہ مجموعہ مجالس میں ہے: ’’بارہ امام حضور اکرمﷺ کے علاوہ بقیہ تمام انبیاء علیہم السلام کے استاد ہیں۔“
(مجموعہ مجالس: صفحہ، 29 صفدر ڈوگرا، سرگودھا)
عقیدہ:
صفحہ 1 از 4