سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین…

سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا معاملہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

تاریخی کتابوں میں ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ شرط لگائی تھی کہ ان کے سنتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا نہ کہا جائے، گویا نہ سننے کی صورت میں سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہنے کو سیدنا حسنؓ نے چھوڑ دیا تھا، اسی لیے میرے استاد ڈاکٹر محمد بطاینہ کہتے ہیں:

’’اس معاملہ پر سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین بحث ہی نہیں ہوئی ہوگی۔‘‘

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 68)

شیعہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگائی ہے کہ وہ لوگوں کو مسجدوں کے منبروں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے اور ان پر لعنت بھیجنے کے لیے ابھارتے تھے، لیکن یہ تہمت بے بنیاد ہے، سب سے زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ باحثین نے اس افترا پردازی اور تہمت کو بلاچھان بین اور تجزیہ کے قبول کر لیا، یہاں تک کہ متاخرین کے یہاں یہ ایسی تسلیم شدہ بات بن گئی جس میں بحث و مناقشہ کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی، حالاں کہ یہ بات کسی بھی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے، اور دمیری، یعقوبی اور ابو الفرج اصفہانی کی کتابوں میں جو وارد ہے اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، نیز صحیح تاریخ سے ثابت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کا احترام کرتے تھے اور یہ بات ان لوگوں کی ذکر کردہ بات کے خلاف ہے۔

(الحسن و الحسین محمد رضا: صفحہ 18، کلام المحقق: دیکھیے۔ أحمد أبو الشباب)

اس لیے بنی امیہ کے منبروں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجنے کی بات واقعات اور جھگڑنے والوں کی فطرت سے میل نہیں کھاتی، عہد بنوامیہ کی تاریخی کتابوں کا مراجعہ کرنے پر ہمیں ان میں اس طرح کی کسی چیز کا تذکرہ ہرگز نہیں ملتا، بعد کے مؤرخین کی کتابوں میں ایسی باتیں ملتی ہیں جنھوں نے اپنی تاریخی کتابیں عہد بنی عباس میں لکھیں، ان کا مقصد تھا کہ مسلمانوں کی نگاہ میں بنوامیہ کی ساکھ خراب کر دیں، لعنت کی اس بات کو مسعودی نے ’’مروج الذہب‘‘ میں اور دوسرے شیعہ مؤرخین نے لکھا ہے، یہ جھوٹ اہل سنت کی تاریخی کتابوں میں در آیا، حالاں کہ اس سلسلے میں کوئی صریح اور صحیح روایت نہیں ملتی، جب کہ اس طرح کے دعویٰ کو صحیح روایت، جرح سے عاری سند اور اعتراض سے خالی متن کی ضرورت ہوتی ہے، باحثین و محققین کو پتہ ہے کہ اس طرح کے دعویٰ میں کتنا دم ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس طرح کی تہمتوں سے مبرّا ہیں اس لیے کہ دین کے معاملے میں آپ کی فضیلت ثابت ہے 

اور لوگوں میں سیدنا معاویہؓ کا کردار قابل تعریف تھا، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بہت سے بلند پایہ تابعین نے سیدنا معاویہؓ کی تعریف کی ہے، سیدنا معاویہؓ کی دینداری، علم، عدل و انصاف، حلم و بردباری، اور بہت ساری اچھی عادتوں کی گواہی دی ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل: للرحیلی: صفحہ 367)

1۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب انھیں(معاویہ رضی اللہ عنہ کو) شام کا گورنر بنایا تو کہا: ’’معاویہ رضی اللہ عنہ کو اچھائی سے یاد کرو۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 25)

2۔ جنگ صفین سے واپسی کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’لوگو! معاویہ کی امارت کو تم ناپسند نہ کرو، ان کے نہ رہنے پر لوگوں کے سرحنظل کے مانند تنوں سے جدا ہوں گے۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 134)

3۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑا بزرگ نہیں دیکھا۔ پوچھا گیا: آپ کے والد بھی نہیں؟ کہا: میرے والد عمر رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہتر تھے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے بزرگ تر تھے۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 152، السنۃ للخلال: جلد 1 صفحہ 443)

4۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ’’معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بادشاہت کے لائق میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا۔‘‘ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 137)

صحیح بخاری میں ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کی کوئی رائے ہے؟ وہ تو صرف ایک ہی رکعت وتر پڑھتے ہیں، جواب دیا: بلاشبہ وہ فقیہ ہیں۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3765)

ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو انھوں نے کہا: ابن ہند (معاویہ) کی خوبی اللہ ہی کے لیے ہے، ان کا خاندان کتنا اچھا ہے، ان کی صلاحیت کتنی اچھی ہے، اللہ کی قسم انھوں نے ہماری اور اپنی خاندانی وجاہت کی حفاظت کرتے ہوئے نہ تو منبر سے اور نہ ہی زمین پر کبھی ہمیں برا بھلا کہا۔

(تاریخ دمشق: جلد 62 صفحہ 128، 129)

5۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ’’ابن ہند یعنی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خوبی اللہ ہی کے لیے ہے، ہم ان سے ڈرتے تھے، شیر اپنے خونخوار پنجوں کے باوجود ان سے زیادہ جری نہیں تھا، اگر ہم انھیں دھوکہ بھی دیتے تو وہ ہمیں چھوڑ دیتے تھے، حالاں کہ کوئی بھی ان سے زیادہ زیرک نہیں تھا (یعنی بے وقوف نہیں تھے) کہ وہ ہم سے دھوکہ کھا جاتے، اللہ کی قسم میری خواہش تھی کہ ہم ان سے فائدہ اٹھاتے جب تک جبلِ ابوقبیس میں کوئی پتھر رہتا، یعنی ہمیشہ ہمیشہ ان سے فائدہ اٹھاتے۔

6۔ زہری کا قول ہے: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سالہا سال تک سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیرت پر بلا کسی کمی و کوتاہی کے عمل کیا۔

اس سلسلے میں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے بہت سے آثار و اقوال ہیں، ہم نے صرف ایک جزء کو ذکر کیا ہے۔ اسی طرح سیرت و تاریخ کے بہت سے محققین اور اسماء الرجال کے بہت سے ناقدین نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریف کی ہے:

1۔ ابن تیمیہ رحمۃاللہ کا قول ہے: علماء کا اتفاق ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس امت کے سب سے بہتر بادشاہ ہیں، ان سے پہلے چاروں حضرات علیٰ منہاج النبوۃ خلیفہ تھے، اور آپ پہلے ملک (بادشاہ) تھے، ان کی بادشاہت، بادشاہت اور رحمت تھی۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 478)

صفحہ 1 از 4