تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبامام ابن ماجہ رحمۃاللہ
ولادت 209ھ
وفات 273ھ
کل عمر 64
نسب:
ابو عبداللہ محمد بن یزید الربعی القزوینی۔ (تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277، تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 530، وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 279، تذکرہ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 636، البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 52، بستان المحدثین: صفحہ، 298، الاعلام: جلد، 7 صفحہ، 144 تقریب التہذیب: صفحہ، 514، الکاشف: جلد، 2 صفحہ، 232)
اسماءُ الرجال کی عام کتابوں میں آپ کے دادا کا نام نہیں ملتا حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے دادا کا نام عبداللہ لکھا ہے صدیق حسن خان نے بھی الحطہ میں اسی کا تذکرہ کیا ہے۔
(بستان المحدثین: صفحہ، 298 الحطہ: صفحہ، 294)
نسبت:
حافظ صاحب فرماتے ہیں: محمد بن یزید الرابعی مولاہم۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 530)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ ربیعہ کے ساتھ رشتہ موالات رکھنے کی وجہ سے آپ ربعی کہلاتے ہیں، ابنِ خلکان کہتے ہیں کہ ربیعہ متعدد قبائل کا نام ہے اب یہ معلوم نہیں کہ ان کی نسبت کس کی طرف ہے۔
(وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 279)
علامہ سمعانی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: هذا النسبة الى ربيعة بن نزار، وقلما يستعمل ذلك لانه ربيعة بن نزار شعب واسع، فيه قبائل عظام وبطون وافخاذ استغنى بالنسب اليها عن النسب الى ربيعة۔
(الانساب: جلد، 3 صفحہ، 43)
تحقیق ابن ماجہ رحمۃاللہ:
ماجہ (بالتخفیف و سکون الہاء)
(سننِ ابنِ ماجہ بتحقیق محمد فواد عبد الباقی میں لکھا ہے کہ صحیح ابنِ ماجہ بالہاء یا ابنِ ماجۃ بالتاء مربوطۃ ہے) کے بارے میں اقوال مختلف ہیں بعض حضرات کا خیال ہے کہ ماجہ آپ کی والدہ کا نام ہے حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃاللہ بستان المحدثین میں اسی کو رائج قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں صحیح یہ ہے کہ ماجہ آپ کی والدہ تھیں لہٰذا ابن کے ساتھ الف لکھنا چاہئیے تاکہ معلوم ہو کہ ابنِ ماجہ محمد کی صفت ہے نہ کہ عبداللہ کی۔
(بستان المحدثین: صفحہ، 298، 299)
صدیق حسن خان نے بھی الحطہ اور اتحاف النبلاء میں اسی کو صحیح کہا ہے۔
(الحطہ: صفحہ، 295، اتحاف النبلاء: صفحہ، 38 طبع ہند)
علامہ سید مرتضی زبیدی رحمۃاللہ نے تاج العروس میں لکھا ہے: وهناك قول آخر صححوه وهو ان ماجه اسم امه۔
(دیکھیے تاج العروس المجلد الثانی آخر فصل المیم من باب الجیم: صفحہ، 103)
پھر حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃاللہ عجالہ نافعہ میں فرماتے ہیں کہ ماجہ ابو عبداللہ کے باپ یزید کا لقب ہے نہ دادا کا نام ہے نہ والدہ کا۔
(عجالہ نافعہ: صفحہ، 23 مکتبہ نور محمد آرام باغ کراچی)
حالانکہ بستان میں والد کا نام ہونے کی آپ نے تصحیح فرمائی ہے صاحب قاموس لکھتے ہیں: ماجة والد محمد بن يزيد لا جده۔
(تاج العروس آخر فصل المیم من باب الجیم: جلد، 2 صفحہ، 103)
ابنِ کثیر رحمۃاللہ نے خلیلی کا قول نقل فرمایا ہے ويعرف يزيد بماجه۔
(البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 52)
مؤرخ قزوین علامہ رافعی کہتے ہیں: ان ماجه لقب يزيد وانه بالتخفيف، اسم فارسى پھر کہتے ہیں: وقد يقال: محمد بن يزيد بن ماجه والاول اثبت۔
(ماتمس الیہ الحاجۃ: صفحہ، 33، البدایہ والنہایہ، جلد، 11 صفحہ، 52)
شہر قزوین:
قزوین قاف کے زبر زاء کے سکون اور واؤ کی زیر کے ساتھ، اصفہان کے مشہور شہر میں اس کا شمار ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ "باب الجنۃ" وہی ہے، صدیوں تک یہ ہر علم و فن کے علماء و فضلاء کا مستقر و ممبع رہا ہے اسی شہر میں امام ابنِ ماجہ رحمۃاللہ کی ولادت ہوئی۔ (الانساب: جلد، 4 صفحہ، 493)
ولادت:
علامہ ابنِ حجرؒ نے ابنِ طاہر مقدسی کا قول نقل فرمایا ہے: ورايت له تاريخا وفى آخره بخط صاحبه جعفر بن ادريس مات ابو عبدالله لثمان بقين من رمضان سنة ثلاث و سبعين و سمعته يقول ولدت سنة تسع۔
(تہذيب التہذيب: جلد، 9 صفحہ،531 و ذکرہ المزی ایضاً فی تہذیب الکمال: جلد، 27 صفحہ، 40)
(أی و مائتین) میں نے ابنِ ماجہ رحمۃاللہ کی کتاب "التاریخ" دیکھی ہے اس کے آخر میں آپ کے ایک تلمیذ جعفر بن ادریس نے بقلم خود لکھا ہے کہ ابنِ ماجہ رحمۃاللہ کا انتقال 22 رمضان 273ھ میں ہوا اور میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ میری ولادت 209ھ میں ہوئی ہے۔
ابتدائی تعلیم اور علمی اسفار:
اس زمانے میں شہر قزوین علوم و فنون اسلامیہ کا خاص مرکز تھا بڑے بڑے علماء کی موجودگی میں کسی اور جگہ جانے کی ضرورت نہ تھی چنانچہ آپ نے قزوین ہی میں اپنی تعلیم شروع فرمائی اس کے بعد علمی پیاس بجھانے کے لیے ترک وطن فرما کر خراسان، عراق، مصر، شام، حجاز، ری، بصرہ، کوفہ، بغداد، مکہ اور دمشق تشریف لے گئے۔(ذکر الذہبی من کلام ابی یعلیٰ الخلیلی انظر سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 279 تہذیب الکمال: جلد، 27 صفحہ، 40 وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 279)
بعض حضرات نے کہا کہ آپ نے 230ھ کے بعد سفر کیا یعنی تقریباً 32 سال کی عمر میں راہِ سفر اختیار کیا۔
شیوخ:
ان کے اساتذہ میں امام ذہلی، محمد بن بشار اور محمد بن مثنیٰ سر فہرست ہیں یہ دونوں مؤخر الذکر حضرات صحاحِ ستہ کے تمام مصنفین کے استاد ہیں۔
علامہ ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: کہ علی بن محمد طنافسی (سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277) سے بھی کافی استفادہ کیا۔
صاحب معجم البلدان کہتے ہیں:
دمشق میں ہشام بن عمار وغیرہ مصر میں یونس بن عبد الاعلیٰ وغیرہ حمص میں محمد بن مصفی وغیرہ، عراق میں ابوبکر بن ابی شیبہ وغیرہ سے استفادہ کیا۔
(ذكر الشيخ عبد الرشيد نعمانی فی كتابه "الامام ابن ماجه وعلم الحديث۔ (بالارديه) البلاد التی سمع بها ابن ماجه مع ذكر اساتذته بمالا مزيد يا عليه فراجعه ان شئت وصنف الامام الحافظ ابن عساكر المتوفی 71ھ معجما يشتمل على ذكر اسماء شيوخ الأيمه السنة وهو عن محفوظات دار الكتب الظاهرية بدمشق)
تلامذہ اور راویان سنن:
علی بن ابراہیم، سلیمان بن یزید، محمد بن عیسیٰ، ابوبکر حامد ابہری، سعدون اور ابراہیم بن دنیار یہ چھ حضرات سننِ ابنِ ماجہ کے راوی بھی ہیں۔
وفات:
بروز دوشنبہ 21 رمضان المبارک 273ھ کو انتقال فرما گئے اور 22 رمضان بروز سہ شنبہ سپردِ خاک کیے گئے نمازِ جنازہ ان کے بڑے بھائی ابوبکر بن یزید نے پڑھائی اور دفن کے لیے ان کے دونوں بھائی ابوبکر اور ابو عبداللہ اور ان کا بیٹا عبداللہ قبر میں اترے۔
امام ابن ماجہ رحمۃاللہ ائمہ فن کی نظر میں:
تمام علماء و ائمہ فن، امام ابنِ ماجہ رحمۃاللہ کے کمالات اور علوم درجات کے معترف اور ان کو محبت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چنانچہ ابو یعلیٰ حنبلی کا بیان ہے: ابن ماجہ ثقه كبير، متفق عليه محتج به له معرفة وحفظ قال وكان عارفا بهذا الشان۔
(تذكره الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 36 سیر اعلام النبلاء: جلد، 13صفحہ، 279 تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 315)
علامہ ذہبی رحمۃاللہ سیر اعلام النبلاء میں ان الفاظ سے آپ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں: قد كان ابن ماجة حافظا ناقدا صادقا واسع العلم۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13صفحہ، 278 )
ابنِ ناصر دین کہتے ہیں: ابن ماجہؒ بڑے درجے کے حافظِ حدیث اور ثقہ ہیں، نامور ائمہ میں سے ایک اور ان کی کتاب السنن دنیائے اسلام کی مایہ ناز کتابوں میں سے ہے۔
(ماتمس الیہ الحاجۃ: صفحہ، 33، شذرات الذہب: جلد، 2 صفحہ، 164)
ابنِ اثیر رحمۃاللہ کا قول ہے: كان عاقلا اماما عالما۔
(تاریخ ابنِ اثیر: جلد، 6 صفحہ، 62)
ابنِ خلکان لکھتے ہیں: كان اماما فی الحديث عارفا بعلومه وجميع ما يتعلق به۔
(وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 279)
امام ابن ماجہ رحمۃاللہ بحیثیت مفسر و مؤرخ:
امام ابن ماجہؒ امام فی الحدیث ہونے کے ساتھ علم تفسیر و تاریخ میں بھی ایک مسلم شخصیت ہیں اور علمِ حدیث کی طرح تفسیر و تاریخ میں بھی آپ نے یادگار تصانیف چھوڑی ہیں، جن کا تذکرہ کتابوں میں ملتا ہے، ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں۔
ولابن ماجة تفسير حافل وتاريخ كامل من لدن الصحابة الى عصره۔
(البدایہ والنہایہ: جلد11، صفحہ، 52)
اسی طرح ابویعلیٰ خلیلی کا قول نقل کرتے ہیں کہ ابنِ ماجہؒ نے تفسیر و تاریخ میں بھی کتابیں لکھی ہیں۔
(محولہ بالا)
ابنِ خلکان لکھتے ہیں: وله تفسير القرآن الكريم وتاريخ مليح۔
(وفيات الاعيان: جلد، 4 صفحہ، 279)
کچھ پہلے ابِن طاہر کا قول گزرا ہے کہ انہوں نے ابنِ ماجہؒ کی کتاب تاریخ دیکھی ہے جس کے آخر میں امام صاحبؒ کے تلمیذ نے ان کی تاریخِ ولادت و وفات ضبط کی ہے۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 9صفحہ، 53)
علامہ ذہبی رحمۃاللہ آپ کا ترجمہ ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں الحافظ الكبير، الحجة، المفسر، ابو عبدالله ابن ماجه القزوينی، مصنف السنن والتاريخ والتفسير۔
(سير اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277)
اسی طرح ہدیة العارفین فی اسماءُ المؤلفین و آثار المصنفين میں ہے: من تصانيفه تاريخ قزوين، تفسير القرآن، سنن فی الحديث من الكتاب الستة۔
(ہديةالعارفين: جلد، 2 صفحہ، 18)
اس سلسلے میں ایک واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ علامہ سیوطیؒ نے الاتقان فی علوم القرآن میں طبقاتِ مفسرین کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کے اسمِ گرامی کو بھی ذکر کیا ہے۔
(قال السيوطیؒ: ثم بعد هذه التبقة ألفت تفاسير تجمع اقوال الصحابة والتابعين كتفسير سفيان بن عيينة وبعدهم ابن جرير الطبری، وكتابه اجل التفاسير واعظمها، ثم ابن ابی حاتم وابن ماجه و كلها مسندة الى الصحابه والتابعين واتباعهم، وليس فيها غير ذلك الا ابن جرير فانه يتعرض لتوجيه الاقوال وترجيح بعضها على بعض والاعراب والاستنباط فهو يفوقها بذلك۔ دیکھیے الاتقان فی علوم القرآن: جلد، 2 صفحہ، 190 لاہور پاکستان)
مسلک:
ابن ماجہؒ کے بارے میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ ان کا مذہب بالتحقیق معلوم نہیں۔
(فیض الباری: جلد، 1 صبح، 58)
اور العرف الشذی میں فرمایا ہے: واما ابن ماجه فلعله شافعى۔
(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذى: صفحہ، 2)
شاید کے امام ابنِ ماجہؒ شافعی ہیں، شاه ولی اللہؒ کی رائے میں یہ مجتہد منتسب الى احمد و اسحاق ہیں (ماتمس الیہ الحاجہ صفحہ 26)
علامہ طاہر جزائری کی رائے میں بھی وہ مجتہد منتسب الى الشافعی و احمد و اسحاق وابی عبیدہ ہیں
(توجیہ النظر: صفحہ، 185)
ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ کا خیال ہے کہ وہ علمائے اہلِ حدیث میں سے ہیں، نہ مجتہد مطلق ہیں، نہ مقلد محض۔
(توجیہ النظر: صفحہ، 185)
تعداد ابواب و احادیث
ابنِ کثیرؒ سننِ ابنِ ماجہ کے بارے میں لکھتے ہیں: يشتمل على اثنين وثلاثين كتابا، و ألف و خمسائة باب، وعلى اربعة اٰلاف حديث كلها جياد سوی اليسيرة۔
(البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 52)
کی سننِ ابنِ ماجہ میں 32 کتابیں 1500 ابواب اور چار ہزار حدیثیں ہیں جس میں بہت کم روایات کے علاوہ سب عمدہ احادیث ہیں۔
خصوصیات اور اقوال علماء:
بعض خوبیوں کے اعتبار سے ابنِ ماجہ حدیث کی دوسری کتابوں سے ممتاز ہیں چنانچہ اس میں ترتیب بہت عمدہ اور بہترین ہے اور تکرار بھی شاہ عبدالعزیز رحمۃاللہ اس بارے میں لکھتے ہیں: وفی الواقع از حسن ترتيب وسرد احاديث بےتكرار واختصار آنچہ این کتاب دارد ہیچ یک از کتب ندا رد۔
(بستان المحدثین: صفحہ، 298)
حافظ ابنِ کثیر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: وهو كتاب قوى التبويب فى الفقه۔
(الباعث الحثيث النوع الموفی الستین)
حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: وكتابه فی السنن جامع جيد۔
(تہذيب التہذيب: جلد، 9 صفحہ، 531)
دوسری نمایا خوبی یہ ہے کہ اس میں کافی احادیث ایسی ہیں جو صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں میں نہیں پائی جاتی اس میں اکثر فائدے کے ساتھ ساتھ کمال احتیاط بھی ہے امام ابنِ ماجہؒ نے باب النهی عن الخلاء على قارعة الطريق میں ابو سعید حمیری کا قول نقل فرمایا ہے: كان معاذ بن جبلؓ يتحدث بما لم يسمع اصحاب رسول اللهﷺ ويسكت عما سمعوا۔
(سننِ ابنِ ماجہ: صفحہ، 28)
علامہ عبدالغنی دہلوی رحمۃاللہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے اس طرزِ عمل کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: لان التبليغ قد حصل من جهة غيره واحتمال الزياده والنقصان لا يأمن عليه احد والمعتمد به سبب التبوء فی النار كما مرفالترك كان اصلح لحاله۔
(حاشیہ سننِ ابنِ ماجہ المسمی بانجاح الحاجہ صفحہ، 28)
اور علامہ سندھی یہ وجہ بتاتے ہیں: "لتكثير الفائدة" پھر لکھتے ہیں: وكان المصنف طبع معاذ فی ذلك حيث اخرج من المتون فی كثير من الابواب ماليس فی الكتاب الخمسة المشهورة وان كانت ضعيفة وفی الباب احاديث صحيحة اخرجتها اصحاب تلك الكتاب فی كتبهم۔
(دیکھیے حاشیہ علامہ سندھی بر ابنِ ماجہ باب النہی عن الخلاء على قارعة الطريق: جلد، 1 صفحہ، 208 مطبوع دار المعرفہ بیروت)
اسی طرح سننِ ابنِ ماجہ میں ایسی احادیث بھی کافی ہیں جو صحت کے اعتبار سے صحیح بخاری کی حدیثوں سے بھی اصح ہیں مثلاً باب ماجاء اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا المكتوبة میں حضرت عبداللہ بن مالک (جو اپنی ماں کی نسبت سے ابنِ بحینہ کہلاتے ہیں) کی روایت اس سند سے منقول ہے: حدثنا ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی ثنا ابراهيم بن سعد عن ابيه عن حفص بن عاصم بن عبدالله بن مالك بن بحينة قال: مره النبیﷺ برجل وقد اقيمت الصلاة الصبح وهو يصلى فكلّمه بشئ لا ادری ما هو فلما انصرف احطنابه نقول ماذا قال لك رسول اللهﷺ قال قال لی: يوشك احدكم أن يصلى الفجر أربعاً۔
(الحديث اخرجه ابن ماجه فی سننه تحت ابواب الجمعه، باب ماجاء اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا المكتوبة: صفحہ، 80)
صحیح بخاری میں اسی باب کے اندر شعبہ کی روایت اس سند سے مروی ہے: حدثنی عبد الرحمٰن قال حدثنا بهذ بن اسد قال حدثنا شعبة قال اخبرنی سعد بن ابراهيم قال سمعت حفص بن عاصم قال سمعت رجلا من الازديقال له مالك بن بحينه ان رسول اللهﷺ الخ۔
(اخرجه الامام البخاری فی كتاب الاذان باب اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا مكتوبة: صفحہ،91)
چنانچہ صحیح بخاری کی سند میں دو غلطیاں ہیں ایک یہ کہ بحینہ عبداللہ کی والدہ کا نام ہے نہ کہ مالک کی والدہ کا دوسری یہ کہ روایت حضرت عبداللہ بن مالک سے مروی ہے جو مشہور صحابی ہیں ان کے باپ مالک سے نہیں جس طرح اس سند میں ہے کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھے۔
(تفصیل کے لیے دیکھیں ابنِ ماجہ اور علم حدیث از مولانا عبدالرشید نعمانی)
علامہ عینی اسی ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وحكم الحفاظ يحيىٰ بن معين واحمد ومسلم والنسائی والاسماعيل والدارقطنی وابو مسعود واآخرون عليهم بالوهم فی موضعين احدهما ان بحينة والدة عبدالله لا والدة مال، والآخر ان الصحبة والرواية لعبد الله لا لمالك۔
(عمدة القاری: جلد، 5صفحہ، 283)
حافظ صاحب عبداللہ بن مالک کے بارے میں لکھتے ہیں هو عبد الله بن مالك ابنی القشب بكسر القاف وسكون المعجمة بعدها موحدة وهو لقب واسمه جندب بن نضلة بن عبد الله، قال ابن سعد قدم مالك بن القشب مكة يعنی فی الجاهلية فحالف بنی المطلب بن عبد مناف وتزوج بحينة بنت الحارث بن عبد المطلب واسمها عبدة وبحينة لقب وأدركت بحينة الاسلام فأسلمت وصحبت وأسلم ابنها عبدالله قديما ولم يذكر احد مالكا فی الصحابة إلابعض ممن تلقاه من هذا الٕاسناد ممن لا تمييز له۔
(فتح الباری: جلد، 2 صفحہ، 149، 150) دوسرا نقطہ اس میں یہ ہے کہ ابنِ ماجہؒ کی سند خماسی ہے اور بخاری کی سند سداسی ہے تو اس لحاظ سے بھی اسے فوقیت حاصل ہے۔
اسی طرح اور بھی احادیث ہیں۔
امام صاحبؒ غریب احادیث اور مختلف بلاد کی مخصوص روایات کی نشاندہی کرتے ہیں مثلاً کئی جگہ فرماتے ہیں قال ابنی ماجه هذا حديث الرمليين ليس الا عندهم۔(قاله بعد حديث انس بن مالك فی ابواب الاديات باب العفو عن القاتل:
صفحہ، 193، 150)
قال ابنِ ماجہؒ هذا حديث المصريين (قاله بعد حدیث ابنِ مسعود فی ابواب الاشربة،باب كل مسكر حرام
: صفحہ، 242)
هذا حديث الرقيين(قاله بعد حديث معاوية فی ابواب الاشربة باب كل مسكر حرام
: صفحہ، 242 والرقة بالفتح و تشديد القاف بلد على الفرات واسطة ديار ربيعة واخرى عربی بغداد وقرية اسفل منها بفرسخ وبلد بقوهستان وموضعان آخران كذا فی القاموس، انجاح الحاجة: صفحہ، 242)
شاید انہی خصوصیات کے پیشِ نظر جب امام ابنِ ماجہؒ نے اپنی کتاب امام ابوذرعہ کے سامنے پیش کی تو وہ کہنے لگے: اظن ان وقع هذا فی ايدی الناس تعطلت هذه الجوامع او اكثرها۔
(تذكر الحافظ للذهبی: صفحہ، 632)
اور ایسا ہی ہوا چنانچہ حدیث کی بے شمار کتابوں میں سے صرف سنِن ابنِ ماجہ ہی کو صحاحِ ستہ کی صف میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
ثلاثیات ابن ماجہ:
سننِ ابنِ ماجہ میں پانچ حدیثیں ثلاثی ہیں:
1: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم سمعت انس بن مالك يقول: قال رسول اللهﷺ من احب ان يكثر الله خير بيته فليتوضا اذا حضر غداؤه واذا رفع۔
(الحديث اخرجه ابن ماجه فی سته ابواب الاطعمه باب الوضوء عند الطعام:صفحہ، 234، 235)
2: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم سمعت انس بن مالك قال: ما رفع من بين يدی رسول اللهﷺ فضل شواء قط ولا حملت معه طنفسة۔
(الحديث اخرجه ابن ماجه فی سته ابواب الاطعمة باب الشواء: صفحہ، 238)
3: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم عن انس بن مالك قال: قال رسول اللهﷺ الخير أسرع الى البيت الذی يغشی من الشفرة إلى سنام البعير۔
(الحديث اخرجه ابن ماجه فی سته، ابواب الاطعمه، باب الضيافة: صفحہ، 24)
4: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم سمعت انس بن مالك يقول: قال رسول اللهﷺ ما مررت بليلة أسرىٰ بملاء الا قالوا: يا محمد مرأمتك بالحجامة۔
(اخرجه الامام ابن ماجه فی ابواب الطب، باب الحجامة: صفحہ، 248)
5: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم عن انس بن مالك قال: قال رسول اللهﷺ ان هذه الامة مرحومة عذابها بايديها،فاذا كان يوم القيامة دفع الى كل رجل من المسلمين رجل من المشركين فيقال هذا فداؤك من النار۔
(اخرجه الامام ابن ماجه فی ابواب الزهد باب صفة أمة محمدﷺ: صفحہ، 317)
صحاحِ ستہ میں بخاری شریف کے بعد سب سے زیادہ ثلاثی روایات ابنِ ماجہ میں ہیں اور یہ باعثِ افتخار بھی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ پانچوں حدیثیں سنداً ضعیف ہیں، اس لیے کہ ان میں کثیر بن سلیم ہے جس کی اکثر حفاظ نے تضعیف کی ہے حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
ضعفه ابن المدينی وابو حاتم، قال النسائی متروك قال ابو زرعه واه قال البخاری: منكر الحديث۔
(ميزان الاعتدال للذہبی: جلد، 3 صفحہ، 405)
حافظ جمال الدین مزی لکھتے ہیں: قال عباس الدوری عن يحيىٰ بن معين كثير بن سلام ضعيف قال عبدالله بن علی بن المدينی عن ابيه كثير صاحب انس ضعيف كان يحدث عن انس احاديث يسير خمسة او نحوها فصارت مئة حديث۔
(تہذيب الكمال: جلد، 24 صفحہ، 119)
باقی جبارة بن المغلس کی توثیق بھی موجود ہے تضعيف بھی، قال ابن نمير صدوق ما هو ممن يكذب قال البخاری حديثه مضطرب قال ابو حاتم هو عندی عدل قال ابن معين: كذاب۔
(ميزان الاعتدال: جلد، 1صفحہ، 387)
البتہ ناقدین کے تمام اقوال کو سامنے رکھ کر تتبع کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ جبارہ صددق و امین ہیں لیکن بعد میں سوءِ حفظِ عارض ہونے کی وجہ سے ان کی روایات میں غلطی آنے لگی اور دوسرے لوگ ان کی کتابوں میں اضافہ کرتے رہے لیکن یہ تمیز نہ کر سکے، چنانچہ حافظ مزی نے ابو احمد بن عدی کا قول نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں: له احاديث عن قوم ثقات، وفی بعض حديثه ما لا يتابعه احد عليه، غير انه كان لا يعتمد الكذب، انما كانت غفلة فيه، وحديثه مضطرب۔
(تہذيب الكمال: جلد، 4 صفحہ، 429)
محشی لکھتے ہیں: قال نصر من احمد البغدادی جباره فی الاصل صدوق الى أن ابن الحمانی أفسد عليه كتبه۔
(دیکھیے محولہ بالا تعلیقات ڈاکٹر بشار عواد)
تفردات ابن ماجہ:
اس میں کوئی شک نہیں کہ ضعیف روایات سننِ ابنِ ماجہ میں بکثرت ہیں چنانچہ بعض حضرات نے اس سلسلے میں ایک عام قانون بھی بیان کیا ہے،چنانچہ حافظ مزید لکھتے ہیں: كل من تفرد به ابن ماجه فهو ضعيف۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ،531)
حافظ ابنِ حجرؒ نے اس قول سے اختلاف کیا ہے فرماتے ہیں: وليس الأمر فی ذلك على إطلاقه باستقرائ وفی الجملة ففيه أحاديث كثيرة منكرة۔
(محولہ بالا)
حافظ صاحب کے خیال میں اگر اس حکمِ عام کو رجال پر محمول کیا جائے تو صحیح ہو سکتا ہے لیکن احادیث کے بارے میں صحیح نہیں ہو سکتا لکھتے ہیں: لكن حمله على الرجال أولى وأما حمله على احاديث فلا يصح كما قدمت ذكره من وجود الاحاديث الصحيحة والحسان مما انفرد به عن الخمسة۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 531)
یعنی جن رجال سے صرف امام ابنِ ماجہؒ نے روایت کی ہے صحاحِ ستہ کے دوسرے مصنفین نے نہیں کی وہ ضعیف ہیں،جہاں تک نفسِ احادیث کا تعلق ہے تو اس میں ایسی روایات صحیح اور حسن ہیں جن سے دوسری کتابیں خالی ہیں۔
شروح:
اگرچہ صحت کے اعتبار سے سننِ ابنِ ماجہ کا درجہ سننِ نسائی سے کم ہے اور یہ صحاحِ ستہ آخری کتاب بھی سمجھی جاتی ہے،لیکن حفاظ اور ائمہ حدیث کی طرف سے جو تلقی بالقبول اس کو حاصل ہوا وہ سننِ نسائی کو حاصل نہیں ہو سکا چنانچہ بڑے بڑے اہلِ فن نے سننِ ابنِ ماجہ پر شروح و تعلیقات لکھی ہیں مثلا:
1: شرح ابنِ ماجہ از حافظ علاؤ الدین بن قلیج حنفی (متوفی 762ھ) یہ سب سے پہلی شرح ہے لیکن نامکمل ہے، علامہ سیوطی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ: ولم يكمل وقد شرعت فی اتمامه۔
2: شرح ابنِ ماجہ از حافظ رجب الحنبلی (متوفی 795ھ) اس کا تذکرہ علامہ سندھی نے فرمایا ہے چنانچہ وہ حدیث من ترك الكذب وهو باطل کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: يحتمل انه على ظاهره وجملة وهو باطل حال من الكذب وهو الذی ذكره ابن رجب فی شرح الكتاب۔
(ماتمی الحاجہ: صفحہ، 49)
علامہ سیوطیؒ نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے: من الشارحين زين الدين عبد الرحمٰن بن احمد بن رجب الحنبلی (ذیل تذکرة الحفاظ للسیوطی: صفحہ، 369)
لیکن مولانا عبدالرشید نعمانیؒ نے اپنی استدراک میں ایک اور بات کہی ہے وہ یہ کہ شارح ابنِ رجب حنبلی نہیں بلکہ محمد بن رجب زبیری شافعی ہیں۔
3: ماتمس اليه الحاجة على سننِ ابنِ ماجة از شیخ سراج الدین عمر بن علی بن الملقن (المتوفی 804 ھ) صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں اٹھ جلدوں میں انہوں نے زوائد ابنِ ماجہ کی شرح لکھی ہے،ذوالقعدہ 800ھ میں تصنیف شروع فرمائی اور شوال 801ھ میں اس سے فارغ ہوئے۔
4: شرح ابنِ ماجہ از شیخ کمال الدین محمد موسیٰ الدمیری (متوفی 808ھ) نامکمل ہے۔
5: الدیباچہ علی سننِ ابنِ ماجہ از حافظ احمد بن ابی بکر شہاب بوصیری (متوفی 840ھ) اس شرح کا تذکرہ علامہ سندھی نے فرمایا ہے۔
علامہ سیوطیؒ لکھتے ہیں: والف تصانيف حسنة منها زوائد سننِ ابنِ ماجه عن الكتب الخمسة۔
(ذیل تذکرة الحفاظ: صفحہ، 379، 380)
6: شرح ابنِ ماجہ از حافظ برہان الدین ابراہیم بن محمد معروف بسبط بن العجمی (متوفی 841ھ)
7: مصباح الزجاجہ از علامہ سیوطیؒ (متوفی 911ھ) یہ حافظ علاؤ الدین کی شرح کا تکملہ ہے۔
8: نور مصباح الزجاجہ از شیخ علی بن سلیمان مالکی دنتی (متوفی 1306ھ) انہوں نے سیوطی کے حاشیہ کا اختصار کیا ہے۔
9: شرح سننِ ابنِ ماجہ مسمی کفایہ الحاجہ از شیخ ابو الحسن محمد بن عبدالہادی سندھی حنفی (متوفی 1138ھ)۔
10: انجاح الحاجہ شرح سننِ ابنِ ماجہ از شیخ عبدالغنی مجددی (متوفی 1195ھ)۔
11: حاشیہ بر سننِ ابنِ ماجہ از مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ (متوفی 1315ھ)۔
12: مفتاح الحاجہ بر ابن ماجہ شیخ محمد علویؒ (متوفی 1366ھ)۔
13: ماتمس الیہ الحاجہ لمن یطالع سننِ ابنِ ماجہ از شیخ عبدالرشید نعمانی۔
14: رفع العجاجہ عن سننِ ابنِ ماجہ از وحید الزمان بن مسیح الزمان لکھنؤیؒ (المتوفی 1338ھ)
(دیکھیے تفصیل کے لیے کشف الزنون: جلد، 2 صفحہ، 1004 وما تمس الیہ الحاجہ لشیخ عبدالرشید النعمانی: صفحہ، 45، 55)