Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طبرستان پر 30 ہجری میں سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی چڑھائی

  علی محمد الصلابی

30ھ میں حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ خراسان پر چڑھائی کے لیے روانہ ہوئے، آپؓ کے ساتھ سیدنا حذیفہ بن الیمانؓ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ ان میں سیدنا حسن، سیدنا حسین، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم بھی تھے، اور بصرہ سے سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خراسان کا رخ کیا، وہ حضرت سعید بن العاصؓ سے قبل پہنچ گئے اور ابر شہر میں قیام فرمایا: اس کی اطلاع سیدنا سعید بن العاصؓ کو مل گئی، لہٰذا انہوں نے قومیس میں قیام کیا جن سے صلح ہو چکی تھی۔ اور یہ وہی صلح تھی جو حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے نہاوند کے بعد ان سے کی تھی۔ وہاں سے آپؓ نے جرجان کا رخ کیا، اور ان سے دو لاکھ پر مصالحت کر لی، پھر طمیسہ پہنچے، یہ سب طبرستان و جرجان کے علاقے تھے، یہ ساحلِ سمندر پر آباد شہر تھا اور جرجان کے حدود میں تھا۔ آپؓ نے ان سے قتال کیا یہاں تک کہ نمازِ خوف ادا کی۔ جب نماز کا وقت آیا تو سیدنا سعید بن العاصؓ نے سیدنا حذیفہؓ سے فرمایا کہ رسول اللہﷺ‏ نے کس طرح خوف کی نماز ادا کی تھی۔ حضرت حذیفہؓ نے انہیں نمازِ خوف کی کیفیت بتلائی، تو انہوں نے لوگوں کو نمازِ خوف پڑھائی اور قتال جاری رکھا، اس دن سیدنا سعیدؓ نے مشرکین میں سے ایک شخص کے کندھے پر ضرب لگائی تو تلوار کہنی کے نیچے سے نکل گئی آپؓ نے ان لوگوں کا محاصرہ کر لیا۔ ان لوگوں نے آپؓ سے امان طلب کی، آپؓ نے ان لوگوں کو اس شرط پر امان دے دی کہ ان میں سے ایک شخص کو قتل نہیں کریں گے۔ ان لوگوں نے قلعہ کھول دیا آپؓ نے ایک شخص کو چھوڑ کر ان کو قتل کر دیا، اور جو کچھ قلعہ میں تھا اس پر قبضہ کر لیا۔ بنو نہد کے ایک شخص کو ایک جامعہ دان ملا جس پر تالا لگا ہوا تھا، اس نے سمجھا اس میں جواہرات ہوں گے۔ حضرت سعیدؓ کو اس کی خبر ملی، آپؓ نے نہدی کو بلا بھیجا، وہ جامعہ دان (صندوق) کے ساتھ حاضر ہوا۔ اس کا تالا توڑا گیا تو اس کے اندر ایک اور جامہ دان (صندوق) نکلا، جب اس کو کھولا گیا تو اس میں سے ایک زرد کپڑے کا ٹکڑا ملا جس کے اندر کمیت و ورد (زعفران) تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 270)

جب سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کوفہ واپس ہوئے تو ان کی مدح سرائی میں سیدنا کعب بن جعیل اس طرح رطب اللسان ہوا:

فنعم الفتی اذ جال جیلان دونه

واذ ھبطوا من دستبی ثم ابھرا

ترجمہ: (سیدنا سعید بن العاصؓ) کیا ہی بہادر نوجوان ہیں جب افواج جنگی لباس پہن لیں اور غیر معمولی فنِ جنگ کا مظاہرہ کریں۔

تعلم سعید الخیر ان مطیتی

اذا ھبطت اشفقت من ان تعقرا

ترجمہ: اے حضرت سعیدؓ! آپؓ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حالات اتنے سنگین تھے کہ مجھے خوف تھا کہ میری سواری اگر گر گئی تو وہ ذبح کر دی جائے گی۔

کانک یوم الشعب لیث خفیۃ

تحرد من لیث العرین و اصحرا

ترجمہ: گویا آپؓ جنگ کے دن جھاڑی میں گھات لگائے شیر ہیں جو اپنی رہائشی جگہ سے نکل آیا ہو۔

تسوس الذی ما ساس قبلک واحد

ثمانین الفادارعین و حسرا

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 271)

ترجمہ: آپؓ زرہ پوش و غیر زرہ پوش اسّی (80) ہزار فوج کی قیادت کر رہے ہیں، ایسا آپؓ سے پہلے کسی نے نہیں کیا۔