Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حکمت

  علی محمد الصلابی

آپؒ انتہائی حکیم تھے، حکمت و موعظت کی باتیں کرتے۔ ایک مرتبہ آپ سے مروت سے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: تقویٰ اور تحمل مزاجی، پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا:

واذ جمیل الوجه لم

یأت الجمیل فما جماله؟

ترجمہ: جب خوبصورت شخص اچھی بات نہ کرے تو پھر اس کے جمال کا کیا فائدہ؟

ما خیر اخلاق الفتی

الا تقاہ و احتماله

ترجمہ: نوجوان کا بہترین اخلاق اس کا تقویٰ اور تحمل مزاجی ہے۔

اور آپ سے مروت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

دین میں عفت، مشکلات میں صبر، والدین کے ساتھ نیکی، غصہ کے موقع پر بردباری اور مقدرت کے باوجود عفو و درگزر۔

(قادۃ فتح السند وافغانستان: صفحہ، 308)

اور فرمایا:

رأس الادب آلۃ المنطق ہے، فعل کے بغیر قول میں کوئی خیر نہیں، باطن کے بغیر ظاہر میں کوئی خیر نہیں، جود و سخا کے بغیر مال میں کوئی خیر نہیں، وفاداری کے بغیر دوست میں کوئی خیر نہیں، ورع و تقویٰ کے بغیر فقہ میں کوئی خیر نہیں، اور اخلاصِ نیت کے بغیر صدقہ و خیرات میں کوئی خیر نہیں۔

(تہذیب، ابنِ عساکر: جلد، 7 صفحہ، 19، 20) 

اور فرمایا:

بر و احسان کو اسے بھلا کر زندہ کرو۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 331)

نیز فرمایا:

ہنسی کی کثرت ہیبت کو ختم کر دیتی ہے، مذاق کی کثرت مروت کو ختم کر دیتی ہے، جو کسی چیز کو لازم پکڑتا ہے وہ اس کو جان لیتا ہے۔

(وفات الاعیان و ابناء الزمان، ابنِ خلکان: جلد، 2 صفحہ، 187)

اور فرمایا:

ہماری مجلسوں کو کھانے اور عورتوں کے ذکر سے پاک رکھو، میں اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں جو اپنی شرمگاہ اور پیٹ کی تعریف و توصیف میں لگا رہے۔ اور مروت یہ ہے کہ انسان کھانے کی چاہت کے باوجود کھانا ترک کر دے۔

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 188) 

اور فرمایا:

قیادت اور سرداری عام لوگوں کے ساتھ ہے، یعنی جس کی قیادت و سرداری کا چرچا عام لوگوں کی زبان پر نہ ہو تو خاص لوگوں میں اس کے چرچے کا کوئی فائدہ نہیں۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 309)

آپ انتہائی فصیح و بلیغ تھے۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 309)

ایک مرتبہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا: حمد و صلوٰۃ کے بعد! اے ازد اور ربیعہ کے لوگو! تم ہمارے دینی بھائی ہو اور رشتے میں ہمارے شریک ہو، نسبت میں ہمارے شقیق ہو، گھر میں ہمارے پڑوسی ہو، دشمن کے مقابلہ میں ہمارے بازو ہو۔ اللہ کی قسم بصرہ کے ازد کوفہ کے تمیم سے ہمیں زیادہ محبوب ہیں، اور کوفہ کے ازد شام کے تمیم سے ہمیں زیادہ محبوب ہیں۔ اگر تمہارے سینوں میں حسد کی عداوت گھر کرے تو ہمارے نوجوانوں اور مال میں ہمارے اور تمہارے لیے وسعت ہے۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 309)