عمر عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نو یا انیس سال ؟ تحقیقی…

عمر عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نو یا انیس سال ؟ تحقیقی مقالہ

  ابوعمر غلام مجتبی مدنی

صفحہ 1 از 4

عمر عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی نو یا انیس سال ؟

تحقیقی مقالہ

وجہ تخلیق کائنات سیاح افلاک جناب رسول پاک ﷺ کی سیرت اسوۃ حسنہ پر اعتراض کرنا اور کجی نکالنا دشمنان اسلام کا پرانہ وطیرہ رہا ہے اور جب بھی ان لوگوں نے یہ ناپاک حرکت کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ تھوک پلٹ کر ان ہی کے منہ پر پڑا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے کبھی لبرلز کی طرف سے تو کبھی سیکیولرز کی طرف سے ، کبھی ہندوؤں کی طرف سے تو کبھی عیسائیوں کی طرف سے ام المؤمنین سیدتناعائشہ صدیقہ طیبہ طاہر رضی اللہ عنہا کے مبارک نکاح اور رخصتی کی عمر کو لے کر اعتراضات کرتے نظر آرہے ہیں حال ہی میں ہندستان کی حکومت کی ایک ملعون عورت نوپور شرما نے بھی یہی مغلظات بک کر اپنی اصلیت بتادی اس کے بعد ہمارے کچھ کچے ذہن کے مسلمانوں کے ذہن میں سوالات اٹھتے ہیں اور تشفی بخش جوابات نا ملنے کے بعد وہ سوالات وہم اور وسوسہ کی شکل اختیار کرتے ہیں اور انہی اوہام وساوس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موجودہ لبرلز و سیکیولرزان سادہ لوح مسلمانوں کو دین سے بیزار کرنے میں لگ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بعض اوقات ہمارے بھولے بھالے مسلمان ان کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
 جواب کی طرف جانے سے پہلے عرض کرتا چلوں کہ یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آنا، تمام امتیوں کی امی جان بننا یہ سب اللہ پاک کی طرف سے انتخاب تھا خود نبی اکرم ﷺ کی اپنی خواہش نا تھی جیسا کہ بخاری شریف میں روایت ہے کہ

عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لها أريتك في المنام مرتين أرى أنك في سرقة من حرير ويقول هذه امرأتك فأكشف عنها فإذا هي أنت فأقول إن يك هذا من عند الله یمضہ

ترجمہ : 
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھے دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو۔ میں نے دیکھا کہ تم ایک ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو اور کہا جا رہا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہیں ، ان کا چہرہ کھولئے۔ میں نے چہرہ کھول کر دیکھا تو تم تھیں ، میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالی کی جانب سے ہے تو وہ خود اس کو پورا فرمائے گا۔

صحیح بخاری حدیث نمبر : 3895 کتاب مناقب الانصار 

جب یہ عقد نکاح تھا ہی رب عزوجل کی طرف سے تو اس کے بعد کم سے کم کسی مسلمان کیلیے یہ وہم و وسوسہ رکھنا کہ یہ بے جوڑ تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 53 سال اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر 9 سال تھی یہ ظلم اور انسانیت کے خلاف تھا، اپنے ایمان کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، یہ عین مشیت الہی کے مطابق ہی ہے اور اس کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں ہوتا ظاہری حکمت و علت میں بعد عرض کرتا ہوں، اس سے پہلے ضروری یہ ہے کہ ان ناپاک ارادوں پر کچھ تحقیقی اور تنقیدی نظر ڈالنی چاہیے ۔

مؤرخین کی رائے
 
کتب تاریخ کا مطالعہ اگر کیا جائے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بڑی بہن سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا طویل العمر صحابیات میں سے ہیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں۔ بڑی خدا رسیدہ عبادت گزار اور بہادر خاتون ان کی عمر تمام مورخین نے سو سال لکھی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں۔ سیدہ اسماء حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی شہادت کے پانچ یا دس دن بعد فوت ہوئیں۔ سن وفات 73ھ ہے۔اس حساب سے سیدہ اسماء ؓ کی عمر ہجرت کے وقت 27 سال ہوئی اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں تو آپ کی عمر ہجرت کے وقت 17 سال ہوئی اور سن دو ہجری میں رخصتی ہوئی تو اس کے مطابق رخصتی کے وقت 19 سال عمر بنتی ہے نا کہ 9 سال۔۔
جیسا کہ البدایہ والنہایہ میں ہے

اسلمت اسماء قديما وهم بمكة في اول الاسلام... وهي آخر المهاجرين والمهاجرات موتا. وكانت هي اكبر من اختها عائشة بعشر سنين.. بلغت من العمر ماته سنة.

اسماء  مکہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں۔ مہاجرین مردوں عورتوں میں سب سے آخر فوت ہونے والی ہیں۔اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال بڑی تھیں“۔

( البدايہ والنهايہ 8 / 346 طبع بيروت)

اسی طرح تھذیب والتھذیب میں ہے

اسلمت قديما بعد اسلام سبعة عشر انسانا... ماتت بمكة بعد قتله بعشره ايام وقيل بعشرين يوماً و ذلك في جمادی الاولى سنة ثلاث وسبعين۔

مکہ معظمہ میں سترہ آدمیوں کے بعد ابتدائی دور میں مسلمان ہوئیں۔۔۔اور مکہ مکرمہ میں اپنے بیٹے (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) کی شہادت کے دس یا بیس دن بعد فوت ہوئیں اور یہ واقع ماہ جمادی الاولی سن 73ھ کا ہے۔

علامہ ابن حجر عسقلانی، تهذيب التهذيب 12 ص 426 طبع لاهور، الامام ابو جعفر محمد بن حریر طبری، تاریخ الامم والملوک ج 5 ص 31 طبع بیروت، حافظ ابو نعیم احمد بن عبدالله الاصبحانی م 1430ھ، حلية الولياء وطبقات الاصفياء 2 ص 56 طبع بيروت


مزید حوالہ جات

اسلمت قدیما بمكة وبايعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم.. ماتت اسماء بنت ابی بکر الصديق بعد قتل ابنها عبداللہ بن الزبير وكان قتلہ یوم الثلثاء لسبع عشرة ليلة خلت من جمادى الأولى سنة ثلاث وسبعين.

سیدہ اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ میں قدیم الاسلام ہیں۔ آپ نے رسول اللہ کی بیعت کی۔اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر ؓ کی شہادت کے چند دن بعد فوت ہوئیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت بروز منگل 12 جمادی الاولی 73ھ کو ہوئی۔

 محمد ابن سود الكاتب الواقدی 168ه م 230ه الطبقات الكبرى ج 8 / 255 طبع بيروت
كانت اسن من عائشة وهى اختها من ابيها . . ولدت قبل التاريخ لسبع وعشرين سنة. 

سیده اسماء ؓ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ عمر کی تھیں۔ باپ کی طرف سے سگی بہن تھیں۔ ہجرت سے 27 سال قبل پیدا ہوئیں۔

(امام ابن الجوزی، اسدالغابہ في معرفتہ الصحابہ ج 5 ص 392 طبع ریاض)

اسلمت قديما بمكة قال ابن اسحق بعد سبعة عشر نفسا .. بلغت اسماء مائة سنة ولدت قبل الهجرة لسبع وعشرين سنة.
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ میں ابتدائی مسلمان ہوئیں۔ابن اسحاق نے کہا سترہ انسانوں کے بعد, سو سال عمر پائی ہجرت سے 27 سال پہلے پیدا ہوئیں‘‘۔
صفحہ 1 از 4