میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق…

میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ اور عباس رضی اللہ عنہما حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور رسول اللہﷺ کی میراث کا مطالبہ کرنے لگے، وہ دونوں رسول اللہﷺ کی فدک کی زمین اور خیبر کا حصہ طلب کررہے تھے۔ ان دونوں سے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے:

لَا نُوْرِثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ إِنَّمَا یَأْکُلْ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ ہٰذَا الْمَالِ

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6726)۔

’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے۔ بلا شبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔‘‘

دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ میں ایسی کوئی بات چھوڑ نہیں سکتا جو رسول اللہﷺ کرتے تھے، میں ڈرتا ہوں کہ اگر آپﷺ کے کسی کام کو چھوڑ دوں تو ہلاک ہو جاؤں۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1759)۔

سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ جب رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی تو آپﷺ کی بیویوں نے چاہا کہ سیدنا عثمان غنیؓ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس بھیجیں، تاکہ ان سے اپنی میراث طلب کریں، لیکن حضرت عائشہؓ نے انھیں یاد دلایا کہ کیا آپﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا: 

لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6730)، صحیح مسلم: 1758)۔

’’ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑجائیں وہ صدقہ ہے۔ ‘‘

سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

لَا یَقْتَسِمُ وَرَثَتِیْ دِیْنَارًا، مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَائِیْ وَمَؤُنَۃِ عَامِلِیْ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔

(صحیح البخاری: 3096)۔

’’میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہ ہوگا، میں نے اپنی بیویوں کے اخراجات اور اپنے عاملوں کی اجرت کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔‘‘

پس میراث نبویﷺ سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ جو بھی برتاؤ کیا انھیں فرامین نبوی کی پیروی، اور ارشاد نبوی کی بجا آوری میں کیا اور اسی لیے آپ یہ حوالہ دیتے رہے کہ میں ایسی کوئی بات چھوڑ نہیں سکتا جو رسولﷺ کرتے تھے، میں بھی وہی کروں گا۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1758)۔

 اور یہ کہ واللہ! میں ایسی کوئی بات نہ ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے رسولﷺ کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر: 6726)

چنانچہ جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حدیثِ نبویﷺ سے دلیل دی، اور اسے واضح کیا تو سیدہ فاطمہؓ نے آپ سے اس سلسلہ میں حجت و مطالبہ چھوڑ دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت فاطمہؓ حق اور فرمان نبی کریمﷺ کے لیے سرتسلیم خم کر دینے والی خاتون تھیں۔

 امام ابن قتیبہ (شذرات الذھب: جلد 2 صفحہ 169) فرماتے ہیں: 

’’میراثِ نبیﷺ سے متعلق حضرت فاطمہؓ کا سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے جھگڑنا کوئی معیوب بات نہیں ہے، کیونکہ انھیں اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ کے فرمان کا علم نہ تھا، وہ یہی جانتی تھیں کہ جس طرح اولاد اپنے باپ کی جائیداد کی وارث ہوتی ہیں میں بھی اسی طرح اپنے ابا کی جائیداد کی وارث ہوں، لیکن جب انھیں حدیثِ رسولﷺ سنائی گئی تو وہ اپنے مطالبہ سے باز آگئیں۔‘‘ 

(تاویل مختلف الحدیث: جلد 1 صفحہ 9)۔

میراث نبوی کے واقعہ کو روافض نے کافی رنگ و روغن لگا کر پیش کیا ہے، صاف سیدھی بات اور واضح و صحیح نصوصِ شریعت سے ہٹ کر اس واقعہ میں خوب خوب مبالغہ آرائی کی ہے اور اس معاملہ کو خلافت سے جوڑتے ہوئے صحابہ کرامؓ اور اہل بیت (رضی اللہ عنہم) کے درمیان اسے اختلاف کی اصل وجہ قرار دیا ہے، اور تمام صحابہ کرامؓ پر یہ تہمت لگائی ہے کہ انھوں نے اہل بیت (رضی اللہ عنہم) پر ظلم کیا، خاص طور سے (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ انھوں نے اہل بیت سے خلافت کو غصب کر لیا، ان کے اموال اور حقوق کو ان دونوں نے چھین لیا، روافض اپنے عقیدہ و بیان کے مطابق فدک کی زمین اور فاطمہ کی وراثت سے محرومی کے واقعہ کو اس بات کے لیے سب سے اہم مسئلہ قرار دیتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے خلافت کو غصب کیا اور پھر صحابہ دیگر خلفاء کے ہاتھوں خلافت کو یکے بعد دیگرے منتقل کرتے رہے، ان سب کا مقصد یہ تھا کہ مبادا لوگ نبی کریمﷺ کی وراثت اہلِ بیت کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ان کی طرف مائل نہ ہو جائیں اور پھر ان کے ہاتھوں پر بیعت کر کے ہمیں خلافت سے بےدخل کر دیں۔ 

(العقیدۃ فی أہل البیت بین الإفراط والتفریط: صفحہ 435) ۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اس مسئلہ میں روافض کی مستند ترین کتب کا مطالعہ کرے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان کی تمام تر تحریریں رسول اللہﷺ کی اس حدیث کے انکار کے لیے کوشاں ہیں:

نَحْنُ مَعَاشَرُ الْاَنْبِیَائِ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1758)۔

’’ہم انبیاء کی جماعت کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘

اس حدیث کی ابطال و تردید کے لیے کوشاں روافض کے چند دلائل کو یہاں ذکر کیا جارہا ہے:

یہ حدیث ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی من گھڑت ہے:

الحِلّی کا کہنا ہے کہ فاطمہ ( رضی اللہ عنہا) نے ابوبکر(رضی اللہ عنہ) کی من گھڑت بات یعنی: ’’مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃٌ‘‘ کو ماننے سے انکار کردیا۔ مزید لکھتا ہے: 

’’ابوبکر نے اس سلسلہ میں ایسی روایت کا سہارا لیا جس کے وہ تنہا ناقل ہیں۔‘‘ 

(منہاج الکرامۃ مع منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 193) بحوالہ العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 443)۔

مجلسی صراحت سے یہ لکھنے کے بعد کہ ابوبکر وعمر (رضی اللہ عنہما) نے فدک کی زمین کو غصب کر لیا، لکھتا ہے:

’’اپنی اسی حرکت کو جائز کرنے کے لیے انھوں نے یہ خبیث اور جھوٹی روایت گھڑ لی کہ آپﷺ نے فرمایا ہے: نَحْنُ مَعَاشَرُ الْاَنْبِیَائِ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃٌ۔‘‘

(حق الیقین: صفحہ 191، بحوالہ العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ: 443)۔

اور خمینی اس سلسلہ میں اپنا مؤقف اس طرح بیان کرتا ہے:

’’میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں جو حدیث نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کی جاتی ہے وہ قطعاً صحیح نہیں ہے۔ اسے ذریت نبویﷺ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیست و نابود کرنے کے لیے بیان کیا گیا ہے۔‘‘

(کشف الأسرار: الخمینی: جلد 13 صفحہ 133)۔

صفحہ 1 از 4