میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق…

میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ

  علی محمد محمد الصلابی

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ اور عباس رضی اللہ عنہما حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور رسول اللہﷺ کی میراث کا مطالبہ کرنے لگے، وہ دونوں رسول اللہﷺ کی فدک کی زمین اور خیبر کا حصہ طلب کررہے تھے۔ ان دونوں سے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے:

لَا نُوْرِثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ إِنَّمَا یَأْکُلْ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ ہٰذَا الْمَالِ

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6726)۔

’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے۔ بلا شبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔‘‘

دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ میں ایسی کوئی بات چھوڑ نہیں سکتا جو رسول اللہﷺ کرتے تھے، میں ڈرتا ہوں کہ اگر آپﷺ کے کسی کام کو چھوڑ دوں تو ہلاک ہو جاؤں۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1759)۔

سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ جب رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی تو آپﷺ کی بیویوں نے چاہا کہ سیدنا عثمان غنیؓ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس بھیجیں، تاکہ ان سے اپنی میراث طلب کریں، لیکن حضرت عائشہؓ نے انھیں یاد دلایا کہ کیا آپﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا: 

لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6730)، صحیح مسلم: 1758)۔

’’ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑجائیں وہ صدقہ ہے۔ ‘‘

سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

لَا یَقْتَسِمُ وَرَثَتِیْ دِیْنَارًا، مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَائِیْ وَمَؤُنَۃِ عَامِلِیْ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔

(صحیح البخاری: 3096)۔

’’میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہ ہوگا، میں نے اپنی بیویوں کے اخراجات اور اپنے عاملوں کی اجرت کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔‘‘

پس میراث نبویﷺ سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ جو بھی برتاؤ کیا انھیں فرامین نبوی کی پیروی، اور ارشاد نبوی کی بجا آوری میں کیا اور اسی لیے آپ یہ حوالہ دیتے رہے کہ میں ایسی کوئی بات چھوڑ نہیں سکتا جو رسولﷺ کرتے تھے، میں بھی وہی کروں گا۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1758)۔

 اور یہ کہ واللہ! میں ایسی کوئی بات نہ ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے رسولﷺ کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر: 6726)

چنانچہ جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حدیثِ نبویﷺ سے دلیل دی، اور اسے واضح کیا تو سیدہ فاطمہؓ نے آپ سے اس سلسلہ میں حجت و مطالبہ چھوڑ دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت فاطمہؓ حق اور فرمان نبی کریمﷺ کے لیے سرتسلیم خم کر دینے والی خاتون تھیں۔

 امام ابن قتیبہ (شذرات الذھب: جلد 2 صفحہ 169) فرماتے ہیں: 

’’میراثِ نبیﷺ سے متعلق حضرت فاطمہؓ کا سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے جھگڑنا کوئی معیوب بات نہیں ہے، کیونکہ انھیں اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ کے فرمان کا علم نہ تھا، وہ یہی جانتی تھیں کہ جس طرح اولاد اپنے باپ کی جائیداد کی وارث ہوتی ہیں میں بھی اسی طرح اپنے ابا کی جائیداد کی وارث ہوں، لیکن جب انھیں حدیثِ رسولﷺ سنائی گئی تو وہ اپنے مطالبہ سے باز آگئیں۔‘‘ 

(تاویل مختلف الحدیث: جلد 1 صفحہ 9)۔

میراث نبوی کے واقعہ کو روافض نے کافی رنگ و روغن لگا کر پیش کیا ہے، صاف سیدھی بات اور واضح و صحیح نصوصِ شریعت سے ہٹ کر اس واقعہ میں خوب خوب مبالغہ آرائی کی ہے اور اس معاملہ کو خلافت سے جوڑتے ہوئے صحابہ کرامؓ اور اہل بیت (رضی اللہ عنہم) کے درمیان اسے اختلاف کی اصل وجہ قرار دیا ہے، اور تمام صحابہ کرامؓ پر یہ تہمت لگائی ہے کہ انھوں نے اہل بیت (رضی اللہ عنہم) پر ظلم کیا، خاص طور سے (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ انھوں نے اہل بیت سے خلافت کو غصب کر لیا، ان کے اموال اور حقوق کو ان دونوں نے چھین لیا، روافض اپنے عقیدہ و بیان کے مطابق فدک کی زمین اور فاطمہ کی وراثت سے محرومی کے واقعہ کو اس بات کے لیے سب سے اہم مسئلہ قرار دیتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے خلافت کو غصب کیا اور پھر صحابہ دیگر خلفاء کے ہاتھوں خلافت کو یکے بعد دیگرے منتقل کرتے رہے، ان سب کا مقصد یہ تھا کہ مبادا لوگ نبی کریمﷺ کی وراثت اہلِ بیت کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ان کی طرف مائل نہ ہو جائیں اور پھر ان کے ہاتھوں پر بیعت کر کے ہمیں خلافت سے بےدخل کر دیں۔ 

(العقیدۃ فی أہل البیت بین الإفراط والتفریط: صفحہ 435) ۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اس مسئلہ میں روافض کی مستند ترین کتب کا مطالعہ کرے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان کی تمام تر تحریریں رسول اللہﷺ کی اس حدیث کے انکار کے لیے کوشاں ہیں:

نَحْنُ مَعَاشَرُ الْاَنْبِیَائِ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1758)۔

’’ہم انبیاء کی جماعت کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘

اس حدیث کی ابطال و تردید کے لیے کوشاں روافض کے چند دلائل کو یہاں ذکر کیا جارہا ہے:

یہ حدیث ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی من گھڑت ہے:

الحِلّی کا کہنا ہے کہ فاطمہ ( رضی اللہ عنہا) نے ابوبکر(رضی اللہ عنہ) کی من گھڑت بات یعنی: ’’مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃٌ‘‘ کو ماننے سے انکار کردیا۔ مزید لکھتا ہے: 

’’ابوبکر نے اس سلسلہ میں ایسی روایت کا سہارا لیا جس کے وہ تنہا ناقل ہیں۔‘‘ 

(منہاج الکرامۃ مع منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 193) بحوالہ العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 443)۔

مجلسی صراحت سے یہ لکھنے کے بعد کہ ابوبکر وعمر (رضی اللہ عنہما) نے فدک کی زمین کو غصب کر لیا، لکھتا ہے:

’’اپنی اسی حرکت کو جائز کرنے کے لیے انھوں نے یہ خبیث اور جھوٹی روایت گھڑ لی کہ آپﷺ نے فرمایا ہے: نَحْنُ مَعَاشَرُ الْاَنْبِیَائِ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃٌ۔‘‘

(حق الیقین: صفحہ 191، بحوالہ العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ: 443)۔

اور خمینی اس سلسلہ میں اپنا مؤقف اس طرح بیان کرتا ہے:

’’میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں جو حدیث نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کی جاتی ہے وہ قطعاً صحیح نہیں ہے۔ اسے ذریت نبویﷺ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیست و نابود کرنے کے لیے بیان کیا گیا ہے۔‘‘

(کشف الأسرار: الخمینی: جلد 13 صفحہ 133)۔

ان تہمتوں کے جواب میں ہم عرض کریں گے یہ سب باتیں خالص جھوٹ اور واضح افترا پردازیاں ہیں، اس روایت کو نقل کرنے والے تنہا سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہی نہیں ہیں، بلکہ فرمان نبویﷺ

 لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَاہُ فَہُوَ صَدَقَۃٌ 

کو آپﷺ سے عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف، عباس بن عبدالمطلب، ازواج مطہرات، ابو ہریرہ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم نے بھی روایت کیا ہے۔

(العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 443)۔ 

امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’صحاح اور مسانید کی کتب میں ان لوگوں سے یہ روایت ثابت اور مشہور ہے، حدیث سے واقفیت رکھنے والے علماء اسے اچھی طرح جانتے ہیں، ایسی صورت میں کسی کا یہ کہنا کہ اس روایت کو صرف ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے نقل کیا ہے، اس کی جہالت کی انتہا اور صریح تہمت تراشی ہے۔‘‘ 

(منہاج السنۃ: ابن تیمیہ: جلد 4 صفحہ 199)۔

حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ اس حدیث کے روایوں کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’روافض کا گمان غلط ہے اگر تنہا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ہی اس روایت کو بیان کرتے تو بھی روئے زمین کے باشندوں کے لیے ضروری تھا کہ آپ کی روایت کو تسلیم کریں اور ان کی بات مانیں۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 250)۔ 

اس موضوع پر ایک مایہ نا ز کتاب ’’العقیدۃ فی أہل البیت بین الافراط والتفریظ‘‘ کے مؤلف ڈاکٹر سلیمان بن رجاء السحیمی فرماتے ہیں: 

’’ہماری بات کی تائید خود روافض کی ان اہم ترین کتب سے ہوتی ہے، جن میں انھوں نے اپنے عقیدہ کے مطابق پانچویں امام معصوم، امام جعفر الصادق سے یہ روایت نقل کی ہے، جسے کلینی، صفار اور مفید وغیرہ نے اپنی کتب میں اس طرح لکھا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْمَا سَہَّلَ اللّٰہُ بِہٖ طَرِیْقًا إِلَی الْجَنَّۃِ، وَالْعُلَمَائُ اُمَنَائُ، وَالْأَتْقِیَائُ حَصُوْنٌ، وَالْأَوْصَیَائُ سَادَۃٌ وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلٰی سَائِرٍ النُّجُوْمِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، وَإِنَّ الْعُلَمَائَ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَاًرا وَلَا دِرْہَمًا وَ ٰلِکْن وَرِّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ۔

(الکافی: الکلینی: جلد 1 صفحہ 32، 34)۔

’’جو شخص علم کی تلاش میں باہر نکلا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دے گا، علماء قوم کے امانت دار ہیں، پرہیز گار قوم کے قلعے ہیں او صیاء قوم کے سردار ہیں، عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی تمام ستاروں پر، علماء انبیاء کے وراث ہیں، انبیاء نے وارثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑا، البتہ علم کو وراثت میں چھوڑا، جس نے وہ علم سیکھ لیا، وہ پورا حصہ پا لیا۔‘‘

ایک روایت میں اس طرح ہے:

إِنَّ الْعُلَمَائَ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ، وَذٰلِکَ أَنَّ الْأَنْبِیَائَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِرْہَمَا وَلَادیِنْاَرًا، وَإِنَّمَا أَوْرَثُوْا أَحَادِیْثَ مِنْ أَحَادِیْثِہِمْ۔

(الکافی: الکلینی: جلد 1 صفحہ 32، 34) بصائر الدرجات: الصفار: جلد 10 صفحہ 11) الاختصاص المفید: صفحہ 4) دیکھیے: علم الیقین للکاشانی: جلد 2 صفحہ 747، 748) بحوالہ العقیدہ لا ہل البیت صفحہ 444)۔

’’بے شک علما انبیاء کے وارث ہیں، اس طرح کہ انبیاء وراثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑتے انھوں نے اپنے اقوال واحادیث کو وارثت میں چھوڑا ہے۔‘‘

 یہ حدیث آیت میراث: يُوْصِيْكُمُ اللّٰـهُ فِیٓ أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ (اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے) (سورۃ النساء آیت 11) 

اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے، مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر حصہ ہے۔ کے خلاف ہے۔ 

روافض کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے آیت میراث کا حکم صرف امت کے لیے خاص کر کے آپﷺ کی ذات کو اس سے مستثنیٰ نہیں کیا۔

(منہا ج الکرامۃ مع منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 194)۔

 حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطاب ان تمام حضرات کو شامل ہے جو اس خطاب سے مقصود ہیں، لیکن اس سے یہ لازم اور ضروری نہیں ہوتا کہ نبی کریمﷺ بھی اس کے مخاطب ہوں، 

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 194، 195)۔

 اس لیے کہ آپﷺ کو تمام احکام میں عام انسانوں پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، آپﷺ تو مومنوں کے لیے ان کی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں، آپﷺ کے لیے زکوٰۃ و صدقات کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے حرام کر دیا جب کہ آپﷺ کے امتی اس سے مستثنیٰ ہیں۔ آپﷺ کے کچھ امتیازات اور خصوصیات ہیں جو دوسروں کی نہیں ہیں، انھیں خصوصیات میں سے یہ بات بھی ہے کہ آپﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کا کوئی وارث نہیں ہوتا، اس حکم کی تخصیص ان کے لیے درحقیقت اللہ کی طرف سے ایک حفاظت کا انتظام ہے تاکہ کوئی شخص ان کی نبوت کو یہ کہہ کر داغ دار نہ کر سکے کہ انبیاء نے دنیا طلب کی اور اسے اپنے وارثوں کے لیے چھوڑ گئے اور دوسرے انسان چونکہ نبی نہیں ہیں کہ ان کی نبوت داغ دار ہونے کا اندیشہ ہو اس لیے انہیں کوئی ممانعت نہ ہوئی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو امّی بنا کر، لکھنے اور شعر گوئی سے محفوظ رکھ کر آپ کی نبوت کو اعتراضات و اشکالات سے پاک کیا، جبکہ دوسرے لوگوں کو اس پاکیزگی کی ضرورت نہ تھی۔ 

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 194، 195) العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 445)۔

حافظ ابن کثیرؒ روافض کے استدلال کی تردید اس طرح کرتے ہیں: رسول اکرمﷺ کو کچھ ایسی خصوصیات ملیں جن میں دوسرے انبیاء علیہم السلام آپ کے شریک نہیں رہے، لہٰذا اگر یہ مان لیا جائے کہ آپﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے تو بھی صحابہ کرامؓ اور ان میں خاص طور سے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جو حدیث بیان کی ہے وہ اس تخصیص کی وضاحت ہے کہ یہ حکم صرف آپﷺ کے لیے ہے دوسرے انبیاء کے لیے نہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 254)۔

 اس طرح روافض کا یہ دعویٰ یکسر باطل ہو جاتا ہے کہ یہ حدیث آیت میراث کے خلاف ہے۔ 

یہ حدیث دیگر دو آیات کے بھی خلاف ہے:

1: وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ (سورۃ النمل آیت 16) 

’’اور سلیمان داؤد کا وارث بنا۔‘‘

2: اور حضرت زکریا علیہ السلام کے بارے میں اللہ نے فرمایا

وَاِنِّىۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِىَ مِنۡ وَّرَآءِىۡ وَكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا۞ يَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ۞ (سورۃ مريم آیت 5، 6)

ترجمہ: اور مجھے اپنے بعد اپنے چچازاد بھائیوں کا اندیشہ لگا ہوا ہے۔ اور میری بیوی بانجھ ہے، لہٰذا آپ خاص اپنے پاس سے مجھے ایک ایسا وارث عطا کر دیجیے۔ جو میرا بھی وارث ہو، اور یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے بھی میراث پائے۔ اور یا رب! اسے ایسا بنائیے جو (خود آپ کا) پسندیدہ ہو۔

روافض کا استدلال یہ ہے کہ میراث کا مطلب ہے جائیداد واموال کا ترکہ اور مذکورہ آیات کی تفسیر میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہاں مال نہیں علم کی وراثت مراد ہے۔ 

(منہاج الکرامۃ: صفحہ 109) بحوالہ العقیدہ فی أہل البیت اور الطرائف: ابن طاؤوس: صفحہ 347)۔

روافض کی اس دلیل اور استدلال کا جواب یہ ہے کہ ’’میراث‘‘ کا کلمہ اسم جنس ہے اور اس کے ماتحت مختلف انواع ہیں، پس میراث کا لفظ علم، نبوت، بادشاہت اور منتقل ہونے والی دیگر چیزوں کی وراثت کے لیے بھی مستعمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا (سورۃ فاطر آیت 32)

ترجمہ: پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا۔

اور فرمایا:

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْن۞ الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ۞ (سورۃ المؤمنون آیت 10، 11)

ترجمہ: یہ ہیں وہ وارث۔ جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی۔ یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

ان کے علاوہ بھی کئی آیات ہیں جن میں انھیں معنوں میں وارث اور میراث کا لفظ وارد ہے۔ بہرحال مذکورہ دلائل کی روشنی میں جب میراث کا لفظ صرف مال و جائیداد کے لیے خاص نہیں رہا، تو اللہ کے فرمان وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوُدَ اور يَرِثُنِیْ وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ وہاں میراث کی جنس مراد ہے، نہ کہ صرف مال کی وراثت۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس حضرت سلیمان علیہ السلام کے علاوہ کئی اولادیں تھیں، اگر مال کا وارث بنانا مقصود ہوتا تو صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کو خاص نہ کرتے، پس واضح رہے کہ اس وراثت سے مراد علم و نبوت کی وراثت ہے نہ کہ مال کی، علاوہ ازیں ایک قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی مدح اور ان پر اللہ کی خاص نعمت کے اظہار کے لیے بیان کی گئی ہے اور وراثت میں صرف مال و جائیداد کا ملنا کوئی قابلِ تعریف چیز نہیں ہے، کیونکہ وراثت میں مال و جائیداد تو ہر انسان کو ملتی ہے، تو معلوم ہوا کہ یہاں وارثت کی خاص نوعیت مراد ہے۔ 

بالکل یہی معاملہ اللہ کے فرمان يَرِثُنِیْ وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ کا بھی ہے یعنی یہاں مال کی وراثت مراد نہیں ہے، کیونکہ اگر مال کی وراثت مان لی جائے تو صرف حضرت یحییٰ علیہ السلام آل یعقوب کے مال کے وارث نہیں ہوں گے بلکہ آپ کے علاوہ آل یعقوب کی دوسری اولادیں اور بقیہ ورثہ آل یعقوب کی جائیداد کے وارث ہوں گے۔ (لہٰذا دعا کا فائدہ نہیں) 

(منہا ج السنۃ: جلد 4 صفحہ 222۔ 224)۔

اسی طرح حضرت زکریا علیہ السلام کا یہ کہنا کہ وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِن وَرَائِی مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت داروں کا ڈر ہے، اس میں بھی اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ یہاں مال کی وراثت مراد ہے، اس لیے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کو اپنی موت کے بعد اپنے اقرباء سے یہ خوف نہیں تھا کہ وہ آپ کا مال لے لیں گے۔ کیونکہ یہ ڈرنے کی کوئی چیز نہیں ہے، ایسا عموماً ہوتا ہے، اور پھر حضرت زکریا علیہ السلام بڑے دولت مند بھی نہ تھے، بلکہ بڑھئی کا کام کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں مذکور ہے۔

 (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2379)۔

اور زکریا علیہ السلام ایسے بھی نہ تھے کہ اپنی ضرورت و خوراک سے زیادہ مال بچا کر ذخیرہ اندوزی کرتے رہے ہوں کہ اس کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ سے اولاد کی شکل میں وارث کا مطالبہ کیا ہو، پس تمام قرائن و توضیحات اس بات کی دلیل ہیں کہ مذکورہ دونوں آیات میں نبوت کی وراثت اور اس کی ذمہ داریاں سنبھالنا مراد ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 225) البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 253)، العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 448)

امام قرطبیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: حضرت زکریا علیہ السلام نے ایسی اولاد کے لیے دعا نہیں کی تھا جو آپ کے مال کا وارث بنے اس لیے کہ انبیاء کے مال کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ آیت کریمہ کی یہی درست اور راجح تفسیر ہے، بلکہ حضرت زکریا علیہ السلام نے ایسی اولاد مانگی تھی جو ان کے’’علم‘‘ اور نبوت کا وارث ہو، نہ کہ مال کا، کیونکہ نبی کریمﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

إِنَّا مَعْشَرَ الْاَنْبِیَائِ لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃٌ۔

(صحیح مسلم: 1758)۔

’’ہم انبیاء کی جماعت کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑیں، صدقہ ہے۔‘‘

مختصر یہ کہ یہ حدیث، فرمان الہٰی وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ کی ماثور تفسیر اور حضرت زکریا علیہ السلام کے قول: فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنكَ وَلِيًّا (سورۃ مریم آیت 5)يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ کی صریح ترجمانی ہے اور اس مسئلہ میں وارد شدہ عمومی احکامات کی تخصیص ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی اپنے باپ حضرت داؤود علیہ السلام سے وراثت میں مال نہیں حاصل کیا تھا، بلکہ انھیں علم اور حکمت وراثت میں ملی تھی، جیسا کے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو آل یعقوب سے یہی چیزیں وراثت میں ملی تھیں روافض کے علاوہ بقیہ علماء مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے۔ 

(تفسیر قرطبی: جلد 11 صفحہ 35۔45)۔

اس مقام پر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وجوب میراث کے مسئلہ میں روافض تناقض کا شکار ہیں اور خود اپنی دلیل کی مخالفت کرتے ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میراثِ نبویﷺ کا وارث صرف فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو ٹھہراتے ہیں اور آپﷺ کی ازاواج مطہراتؓ اور عصبہ (اقرباء) کی شکل میں دیگر ورثاء کو اس سے محروم کر دیتے ہیں، اس طرح جن آیات کے عمومی خطاب سے اپنے مخالف پر حجت قائم کرتے ہیں وہ خود ہی اس کی مخالفت کرتے ہیں، چنانچہ صدوق نے اپنی سند سے ابو جعفر الباقر سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا ’’نہیں‘‘ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم رسولﷺ کی وارث صرف فاطمہ تھیں، عباسؓ، علیؓ آپ کے وارث نہیں تھے۔ علی علیہ السلام نے آپﷺ کا ہتھیار وغیرہ اس وجہ سے لے لیا تھا کہ آپ کی طرف سے قرض سے ادا کیا جائے۔ 

(من لا یحضر ہ الفقیۃ: 4 صفحہ 190، 191) العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 451)۔

اسی طرح کلینی، صدوق اور طوسی نے اپنی اپنی سند سے باقر سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’علی علیہ السلام، رسولﷺ کے علم کے وارث ہوئے اور سیدہ فاطمہؓ آپﷺ کے ترکہ کی وارث ہوئیں۔‘‘ 

(الکافی: الکلینی: جلد 7 صفحہ 137) العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 451) ۔

اتنا ہی نہیں بلکہ دوسرے مقامات پر بعض روافض مصنّفین نے حضرت فاطمہؓ کو بھی وراثت سے محروم کیا ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ عورتیں زمین اور غیر منقولہ جائیداد کی وارث نہیں بن سکتیں، اس سلسلہ میں ان کے یہاں متعدد روایات منقول ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابو جعفر صادق نے فرمایا: عورتیں زمین اور غیر منقولہ جائیداد کی وارث نہیں ہو سکتیں۔

(الکافی: الکلینی: جلد 7 صفحہ 137)۔

صدوق اپنی سند سے میسر (راوی) سے روایت کرتے ہیں کہ میسر کا بیان ہے کہ میں نے ابوجعفر صادق سے پوچھا: عورتوں کو میراث میں کیا مل سکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: زمین اور غیر منفقولہ جائیداد میں عورتوں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

(الشیعۃ وأھل البیت: صفحہ 89)۔

 اس فتویٰ اور عقیدہ کے اعتبار سے یہ بات صاف ہے کہ حضرت فاطمہؓ مطلوبہ میراث کی مستحق نہ تھیں، چہ جائے کہ اس کے لیے اس حدیث سے استدلال کیا جائے ’’نَحْنُ مَعَاشَرُ الْاَنْبِیَائِ لَانُوْرَثُ‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1768)۔

کیونکہ جب عورت زمین اور غیر منقولہ جائیداد کی وارث نہیں ہو سکتی تو حضرت فاطمہؓ جو کہ ایک خاتون تھیں۔ ان کے لیے رافضی عقیدہ کے مطابق بھلا یہ کیوں کر درست ہو سکتا ہے کہ فدک کی زمین میں وراثت کا مطالبہ کریں جو کہ غیرمنقولہ جائیداد تھی۔

(الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 98)۔

پس روافض کی یہ سب کھینچاتانی ان کی جہالت، کذب اور تناقض کی دلیل ہے۔ 

(العقیدہ فی أہل البیت: صفحہ 452)۔

رہا روافض کا یہ دعویٰ کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت فاطمہؓ سے گواہوں کا مطالبہ کیا تھا، تو آپ نے علی اور ام ایمن رضی اللہ عنہما کو گواہی کے لیے پیش کیا، لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان دونوں کی گواہی تسلیم نہیں کیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب باتیں مکمل طور سے جھوٹ اور فریب ہیں۔

 حماد بن اسحق کا کہنا ہے کہ جو لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ نے فدک کی زمین کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ رسول اللہﷺ اسے ان کو جاگیر میں دیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت علیؓ کی گواہی اس لیے نہ مانی کہ وہ حضرت فاطمہؓ کے شوہر تھے، تو یہ سب باتیں بےبنیاد اور فرضی داستان ہیں، کسی بھی صحیح و مستند روایت سے حضرت فاطمہؓ کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 236۔ 238)