مشرکین کو گالی دینے کی ممانعت
علی محمد الصلابیارشاد ربانی ہے:
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدۡوًا بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 108)
ترجمہ: (مسلمانو) جن (جھوٹے معبودوں) کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں تم ان کو برا نہ کہو، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو برا کہنے لگیں۔
باوجودیکہ مشرکین کے معبودانِ باطلہ کو برا بھلا کہنا جائز ہے اس لیے کہ اس میں باطل کی اہانت اور حق کی نصرت ہے، لیکن صاحبِ حکمت شارع کی نگاہ اسی قریبی مقصد پر نہیں ٹھہری، بلکہ آخر میں اس جائز عمل کے جو غیر مستحسن نتائج سامنے آتے وہاں تک پہنچی، اس لیے مشرکین کے معبودانِ باطلہ کو گالی نہ دینے کا حکم صادر کیا تاکہ وہ انتقاماً اللہ کی شان میں گستاخی نہ کریں، بلاشبہ ان کے معبودوں کی اہانت کی اچھائی، اللہ تعالیٰ کی شان میں ان کے گستاخی کرنے کی خرابی کے مقابلے میں کمتر ہے اور جب خرابی اچھائی سے بڑی ہو تو خرابی کو دور کرنا اچھائی کے حصول پر مقدم ہو گا۔
(اعتبار المآلات و مراعاۃ نتائج التصرفات: صفحہ 124)