خطبہ فاروقی اور حکمت و اسرار کی باتیں
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حکمت سے بھری باتوں سے اپنے خطبہ کا آغاز کیا، آپؓ نے بتایا کہ حقیقی غنا قناعت سے پیدا ہوتی ہے، اور حقیقی فقیری طمع و لالچ سے پیدا ہوتی ہے اور یہ سچ ہے کہ لوگوں کے اموال کو للچائی نگاہوں سے نہ دیکھنا ہی قناعت کی روح ہے جو شخص دوسروں کے مال سے ناامید رہتا ہے وہ اپنے پاس جو کچھ رکھتا ہے اسی پر قانع رہتا ہے اور جو قناعت شعار ہوتا ہے وہ دوسروں سے مستغنیٰ ہوتا ہے، خواہ فقیر ہی کیوں نہ ہو اور جو شخص لالچی ہوتا ہے لوگوں کے مال پر للچائی نگاہ رکھتا ہے، وہ دل کا ہمیشہ فقیر ہوتا ہے، خواہ وہ مال دار ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا مال اسے دوسروں سے بے نیاز نہیں کرتا اس لیے کہ اصل بے نیازی ومال داری دل کی بے نیازی و مال داری ہوتی ہے اور عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی ضرورت سے زیادہ دنیا کا طالب نہ بنے، اور اس کی دنیاوی امیدیں دوسروں کی ملکیت و جائیداد سے نہ معلق ہوں دنیا کو اس نظر سے دیکھے کہ یہ زوال کا گھر ہے، دنیا کی کشش اور چمک دمک دیکھ کر اس سے دھوکا نہ کھائے۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 20 صفحہ 266)