سیدناحسین رضی اللہ عنہ امیر المومنین حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے دَور میں
ابو شاہینسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہؓ کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔ 15 رمضان المبارک 3 ہجری یکم اپریل 625ء کو مدینہ طیبہ میں پیدا ہوئے ان کی پیدائش پر آپﷺ اور تمام مسلمانوں کو نہایت خوشی ہوئی۔ اللہ کے رسولﷺ نے محبت سے ان کے کان میں اذان کہی اور کھجور چبا کر گھٹی دی۔ اس طرح سب سے پہلی خوراک جو ان کے جسم میں داخل ہوئی وہ ان کے نانا محترم سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا۔ گویا اس کے ساتھ ہی ان کو حلم بردباری اور حکمت عطا کی گئی۔
ان کا نسب نامہ نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ ہے یہ قریشی اور ہاشمی سردار تھے ان کے والد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین عشرہ مبشرہ میں سے اور بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے تھے۔ دادا ابو طالب مکہ مکرمہ کی باوقار شخصیت اور سردار تھے۔ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کی محبت کسی سے مخفی نہیں ہے۔ ہر چند کہ انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا مگر انہوں نے آپﷺ کا قدم قدم پر ساتھ دیا اور مشکل ترین وقت میں اپنے بھتیجے کا بھرپور دفاع کیا۔ حضرت علیؓ کے پردادا عبدالمطلب بنو ہاشم کے قائد و سربراہ اور سردار تھے۔ ان کی قیادت اور سیادت سے کون انکار کر سکتا ہے۔
سیدنا حسینؓ شکل و صورت میں اللہ کے رسولﷺ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ نہایت خوبصورت اور حسن و جمال میں یکتا تھے۔ رسول اللہﷺ ان کے ہونٹوں کو چوما کرتے تھے۔ ایک مرتبہ خلیفہ اول صدیق اکبرؓ نے نماز عصر پڑھائی اور سیدنا علیؓ کے ہمراہ چلتے چلتے باہر نکل گئے۔ سیدنا حسنؓ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ صدیق اکبرؓ نے انہیں کندھے پر اٹھا لیا اور فرمانے لگے۔ ارے دیکھو تو اس بچے کی شکل و شباہت اللہ کے رسولﷺ سے ملتی جلتی ہے اور سیدنا علیﷺ سے زیادہ نہیں ملتی۔ سیدنا علیﷺ یہ سن کر مسکرا دئیے۔
قارئین کرام! ذرا قلم پکڑیں اور کاغذ پر لکھنا شروع کریں کہ کائنات میں کوئی ایسی شخصیت ہے جس کے والد والدہ، نانا نانی، ماموں خالہ، پھوپھی چچا، سب کے سب اکرم الناس یعنی معزز ترین شخصیات ہوں۔ ان کی والدہ سیدہ فاطمہؓ خاتون جنت، والد گرامی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، نانا سید ولد آدم محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم، نانی سیدہ خدیجہؓ جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور آپﷺ پر اپنی ساری دولت نچھاور کر دی۔ چچا سیدنا جعفر طیارؓ، پھوپھی سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا، ماموں قاسم، عبداللہ اور ابراہیم رضی اللہ عنہم اور خالائیں سیدات زینب، رقیہ اور ام کلثوم رضہ اللہ عنہن تھیں۔ کیا کائنات میں ان سے اعلیٰ شریف و نسب والا کوئی شخص ہو سکتا ہے؟ سیدنا حسنؓ کے شجرہ نسب پر نظر دوڑائیں تو وہ بلاشبہ حسب و نسب کے لحاظ سے بہترین مقام کے حامل ہیں۔
صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا حسن، سیدنا حسین رضی اللہ عنہما اور ان کے والد اور والدہ پر چادر ڈالی اور فرمایا اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں اچھی طرح پاکیزہ بنا دے۔ آپﷺ ان کے بارے فرمایا کرتے تھے یہ دنیا میں میری خوشبو ہے یہ میرا سردار بیٹا ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں ان کی عمر زیادہ نہ تھی کم سنی کا زمانہ تھا۔ سیدنا حسنؓ کے بارے میں سیدنا صدیق اکبرؓ کا طرز عمل ان کے ارشادات سے واضح ہے ان کا یہ حکم عام تھا کہ اہل بیت کے معاملے میں ان سے آپﷺ کی قرابت کا خیال رکھو۔
جب سیدنا عمر فاروقؓ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے بھی اہل بیت کے ساتھ نہایت عمدہ سلوک کیا یہ دور مسلمانوں کے لیے سنہری دور تھا۔ خوب فتوحات ہوئیں اور بےحد و حساب مال غنیمت آیا۔ چنانچہ امیر المؤمنین نے بیت المال کی مضبوطی پر توجہ دی۔ مسلمانوں کو بیت المال سے باقاعدہ سالانہ وظائف دیے جاتے تھے۔ سب سے زیادہ رقم ان صحابہ کے لیے تجویز کی گئی جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے سیدنا حسنؓ اور ان کے چھوٹے بھائی سیدنا حسینؓ اگرچہ غزوہ بدر کے وقت پیدا ہی نہ ہوئے تھے۔ مگر اس کے باوجود ان کا مقام و مرتبہ سیدنا عمر فاروقؓ کے دل میں اتنا زیادہ تھا کہ ان کو بدری صحابہ کرامؓ کے برابر یعنی پانچ پانچ ہزار درہم سالانہ وظیفہ ملتا تھا۔ سیدنا عمر فاروق اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کا وظیفہ بھی اتنا ہی تھا۔ جس رجسٹر میں وظیفہ پانے والوں کا اندراج تھا ان میں سب سے پہلا نام آپﷺ کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلبؓ کا تھا۔ دوسرا سیدنا علیؓ کا اور تیسرا سیدنا حسنؓ کا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خلفائے راشدینؓ کے ہاں اہل بیت کا کیا مرتبہ و مقام تھا۔
سیدنا عثمان بن عفانؓ کے دورِ خلافت میں سیدنا حسنؓ جوان ہو چکے تھے۔ وہ ان کے خالو تھے اس لیے ان کا رویہ اور برتاؤ بھی نہایت شفقت آمیز تھا۔ انہی کے دور خلافت میں سیدنا حسنؓ نے جہاد میں عملاً حصہ لیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 30 ہجری میں سیدنا سعید بن عاصؓ کی ماتحتی میں طبرستان پر فوج کشی ہوئی تو اس میں سیدنا حسنؓ نے بھی حصہ لیا تھا۔ جب باغیوں نے خلیفہ سوم سیدنا عثمان بن عفانؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے اپنے دونوں صاحب زادوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو سیدنا عثمانؓ کے گھر کی حفاظت کے لیے متعین فرمایا۔ وہ ان کی حفاظت کے دوران زخمی بھی ہوئے۔ باغی اس دروازے سے داخل نہ ہو سکے جہاں ان کا پہرا تھا۔ تاہم باغی ایک دوسری دیوار پھاند کر اندر پہنچ گئے اور سیدنا عثمانؓ کو اثنائے تلاوت قرآن کریم شہید کر دیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
خلفائے راشدینؓ اور اہل بیت میں آپس میں بےحد محبت و مودت تھی۔ مزید جاننے کے لیے دیکھیے: ہماری سیریز ’’خلفائے راشدین۔"
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے شب و روز عبادت میں گزرتے وہ لوگوں کی حاجات پوری کرنے میں سبقت لے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ نے مدینہ منورہ کے ایک شخص سے پوچھا مجھے سیدنا حسنؓ کے معمولات کے بارے میں بتاؤ۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین وہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد سورج طلوع ہونے تک مسجد ہی میں ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہیں۔ اشراق کی نماز کے بعد مختلف قبائل کے سردار ان کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور گفتگو کرتے ہیں۔ پھر اٹھ کر امہات المؤمنین علیہ السلام کے پاس تشریف لے جاتے ہیں اور انہیں سلام کہتے ہیں بسا اوقات انہیں تحائف بھی پیش کرتے ہیں اس کے بعد وہ اپنے گھر تشریف لے جاتے ہیں۔ سیدنا امیر معاویہؓ نے یہ سن کر فرمایا ہم میں ایسی خوبی کہاں پائی جاتی ہے۔
سیدنا حسنؓ فرماتے ہیں انسان کے لیے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اس کا اخلاق اچھا نہ ہو۔ آپؓ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ مومن کو ایسا ہونا چاہیے کہ اسے آسانی سے دھوکہ نہ دیا جا سکے۔
آپ کی وفات 51 ہجری میں ہوئی۔ اس طرح حضرت حسنؓ دنیا سے غداروں اور خائنوں کے ہاتھ شہید ہو کر رخصت ہوئے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
مزید معلومات کے لیے کتاب ’’سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے‘‘ پڑھیے۔