Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تو ایک پتھر ہے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہے

  علی محمد الصلابی

عابس بن ربیعہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپؓ حجر اسود کے پاس آئے، اسے بوسہ دیا اور کہا: ’’میں خوب جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے، نہ ہی نفع۔ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔‘‘ (صحیح البخاری: حدیث 1597) درحقیقت یہ اتباعِ نبویﷺ کی سب سے بہترین مثال اور اس کا سب سے خوب صورت مفہوم ہے۔ 

(أصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 161 )

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام طبریؒ کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے یہ بات اس وجہ سے کہی تھی کہ لوگ ابھی نو مسلم تھے اور تازہ تازہ ہی بتوں کی عبادت چھوڑی تھی، آپ ڈرے کہ کہیں جاہل لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ حجرِ اسود کا بوسہ بعض پتھروں کی تعظیم کا ایک حصہ ہے، جیسے کہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے پس حضرت عمرؓ نے یہ بتانا چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں اس کا استلام کیا جاتا ہے۔ (پتھر کی عظمت کی وجہ سے نہیں۔)

اس کے بعد ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے اس فرمان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جن امور شرعیہ کی علت و حکمت نہ معلوم ہو سکے اس میں مسلمانوں کو تسلیم و رضا کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بہتر طریقے سے اتباع کرنا چاہیے۔ اتباع نبوی کے باب میں یہ ایک عظیم قاعدہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کی سنت کا مکمل اتباع ہونا چاہیے اگرچہ آپ کی سنت کی حکمتیں سمجھ میں نہ آئیں۔ 

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 590 591 )

سنت نبوی کا اتباع اور اس پر جان نثار ہونے کا جذبہ ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی غیبی نصرت و تائید کا سبب تھا۔ وہ بخوبی جان چکے تھے کہ اللہ کی محبت پانے اور اس کی مدد و تائید کے استحقاق کے لیے سنت نبویﷺ کا اتباع ضروری ہے۔ 

(من اخلاق النصر فی جیل الصحابۃ: صفحہ 23)