ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 4

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنتِ حیی رضی اللہ عنہا

اجمالی خاکہ
نام: صفیہؓ
والد: حیی بن اخطب
والدہ: حزہ بنتِ سموئیل
سنِ پیدائش: بعثتِ نبوی سے 2 سال بعد تقریباً
قبیلہ: بنو نضیر
زوجیتِ رسولﷺ: 7 ہجری
سنِ وفات: 50 ہجری
مقامِ تدفین: جنت البقیع مدینہ منورہ
کل عمر: 65 سال
نام و نسب:
صفیہ نام تھا، سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے: صفیہ بنتِ حُیی بن اخطب بن سعید بن عامر بن عبید بن خزرع بن ابی حبیب بن نضیر۔ جب کہ والدہ کا نام "برہ" یا "ضرہ" تھا۔ جو قبیلہ بنو قریظہ کے سردار سموئیل کی بیٹی تھیں۔
 ولادت:
آپؓ کی ولادت نبی کریمﷺ کے اعلانِ نبوت سے تقریباً 2 سال بعد میں ہوئی۔
خاندانی پسِ منظر
سیدہ صفیہؓ کا قبیلہ بنو نضیر تھا، یہ یہود کا بہت ممتاز قبیلہ تھا، آپؓ کے والد "حُیی پر پیش اور ی کو دو بار پڑھنا ہے پہلی بار زبر کے ساتھ اور دوسری پر جزم قبیلہ بنو نضیر کے سردار تھے۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ اولادِ نبی اور قبیلہ کے سردار ہونے کی وجہ سے آپ کو معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ والدہ کی طرف سے بھی آپؓ کے خون میں سرداری کے اوصاف پائے جاتے تھے۔
پہلا نکاح:
آپؓ کی عمر جب 14 برس کی ہوئی تو آپ کی شادی سلام بن مشکم القرظی سے کر دی گئی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد سلام بن مشکم نے آپؓ کو طلاق دے دی۔ سلام بن مشکم اپنے قبیلہ بنو نضیر کا سردار تھا، اسلام کی دشمنی میں بہت سرگرم رہا کرتا تھا۔ غزوہِ بدر کے بعد جب قریشِ مکہ کے رئیس سیدنا ابوسفیانؓ اپنے مقتولینِ بدر کا انتقام لینے کے لیے دو سو اونٹ سواروں کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے تو سیدھے اسی سلام بن مشکم قرظی کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے سیدنا ابوسفیانؓ کا پر جوش استقبال کیا، اعلیٰ قسم کے کھانے کھلائے، شراب پلائی اور حملہ کرنے کے لیے مدینہ طیبہ کے مخفی راز بھی سیدنا ابوسفیانؓ کو دیے۔
نوٹ: یہ اس وقت کی بات ہے جب سیدنا ابوسفیانؓ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے۔ بعد میں آپ ایمان لے آئے اور جلیل القدر صحابی بنے۔
مدینہ سے جلا وطنی:
جب آپﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے، اسلام کی دعوت دی، لوگوں نے اسلام کو قبول کیا، مدینہ میں پہلے سے موجود مذہبی اثر رسوخ کے مالک یہود کے مذہبی وقار میں خاطر خواہ کمی آنے لگی۔ بت پرست مشرکوں میں تسلسل کے ساتھ پھیلتی ہوئی یہودیت، سکڑ گئی۔ دوسری طرف مکہ کے قریشی بدر میں ہلاک ہونے والے اپنے سرداروں کا انتقام لینے اور اسلام کو ختم کرنے کے لیے مدینہ کے یہودیوں کو اپنے ساتھ ملا رہے تھے۔ گویا مشرکینِ مکہ اور یہود مدینہ دونوں اسلام کو مٹانے کے لیے اکٹھے ہو گئے۔
سیدہ صفیہؓ کے قبیلے بنو نضیر نے ایک بار سازش کر کے آپﷺ کو پتھر گرا کر قتل کرنا چاہا۔ لیکن آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس سازش کی اطلاع کر دی۔ آپﷺ دوسرے راستے سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ دوسری بار قریشِ مکہ کے کہنے پر بنو نضیر نے آپﷺ کو قتل کرنا چاہا اور چال یہ چلی کہ آپﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ تین آدمی لے کر ہمارے پاس تشریف لائیں۔ ہم بھی تین علماء کو ساتھ لے کر آتے ہیں۔ آپ اسلام سمجھائیں اگر ہمارے علماء نے آپ کی دعوت کو تسلیم کر لیا تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے۔ آپﷺ نے اسے منظور فرمایا۔ راستے میں آپﷺ کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ تلواریں باندھ کر آپ کو قتل کرنے کے درپے ہیں۔ تب آپﷺ نے ان کا محاصرہ کیا۔ کئی دن تک یہ محاصرہ جاری رہا۔ لشکرِ اسلام نے ان کی معاشی قوت کے استیصال کے لیے ان کے باغات تک جلا دیئے۔ جب یہ ہر طرف سے بے بس ہو گئے تو انہوں نے صلح کی درخواست کی۔ بالآخر بنو نضیر کو مدینہ سے جلا وطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا وہ اس شرط کے ساتھ راضی ہوئے کہ جس قدر مال و اسباب اونٹوں پر لے جا سکیں، لے جانے دیں تو ہم مدینہ سے نکل جائیں گے۔ چنانچہ جلا وطنی پر مجبور ہونے والوں میں سیدہ صفیہؓ کے والد حیی بن اخطب اور سلام بن ابی الحقیق، کنایہ بن الربیع کے علاوہ چند دیگر لوگ بھی بنو نضیر سے خیبر کی طرف چلے گئے، وہاں لوگوں نے ان کا اس قدر احترام کیا کہ خیبر کا سردار تسلیم کر لیا۔
دوسرا نکاح:
خیبر پہنچ کر آپؓ کے والد نے آپؓ کا نکاح کنانہ بن ابی الحقیق سے کر دیا۔ کنانہ خیبر کے سردار ابورافع کا بھتیجا تھا اور خود بھی خیبر کے قلعہ القموص کا حاکم تھا۔
جنگ کی تیاریاں:
آپؓ کے والد حیی بن اخطب جب خیبر آئے تو یہاں اسلام کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے کی تیاریاں شروع کیں۔ آس پاس کے قبائل کو اس کے لیے تیار کیا۔ یہاں تک کہ ایک بڑا لشکر جنگ کے لیے تیار کر لیا۔
غزوہِ ذی قرد:
یہود نے قبیلہ غطفان کو بھی لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ عیینہ بن حصن فزاری نے چند افراد کے ساتھ مل کر یہ شرارت کی کہ مقام ذِی قَرد چراگاہ کا نام ہے جہاں آپﷺ کی اونٹنیاں چر رہی تھیں ان پر حملہ کر دیا۔ اونٹنیوں کی حفاظت پر مامور سیدنا ابوذرؓ کے بیٹے کو قتل کر دیا۔ ان کی بیوی کو گرفتار کر لیا اور 20 اونٹنیاں ساتھ بھگا لے گئے۔ سیدنا سلمہؓ بن الاکوعؓ کو اس حملے کا علم ہوا تو انہوں نے تیز رفتاری سے پیدل دوڑ کر حملہ آوروں کو جا لیا۔ ابھی وہ ایک جگہ پر اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ سیدنا سلمہؓ نے ان پر اتنی پھرتی سے تیر برسائے کہ تمام حملہ آور زخمی ہو کر فرار ہو گئے، سیدنا سلمہؓ تمام اونٹنیاں واپس چھڑا لائے اس کے تین دن بعد غزوہِ خبیر ہوا۔
غزوہِ خیبر:
مدینہ کے شمال مغرب میں خیبر نامی ایک شہر آباد تھا یہ نہایت زرخیز مقام تھا یہاں پر یہودیوں نے چند قلعے بنا رکھے تھے۔ یہود دیگر قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر مدینہ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک عرصے سے جنگی اسلحہ جمع کر رکھا تھا۔ قبیلہ بنو غطفان اور قبیلہ بنو اسد کو نصف کجھوروں کے باغات کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا چکے تھے۔
صفحہ 1 از 4