Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ختنہ

  علی محمد الصلابی

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں دن سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی جانب سے عقیقہ کیا، اور ان کا ختنہ کردیا

(سنن البیہقی: جلد 8 صفحہ 324 اس کی سند ضعیف ہے۔)

اور محمد بن منکدرؒ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں دن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ختنہ کرایا۔

(صحیح البخاری: جلد 7 صفحہ 184، رقم: 6297)

ختنہ فطری امور میں سے ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فطری چیزیں پانچ ہیں: ختنہ، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھاڑنا۔ 

صحیح مسلم: رقم 257)

ختنہ حنیفیت کی پہچان ہے،یہ قائم مقام اس رنگ دار پانی کے ہے جس کے ذریعے صلیب پرست نصاریٰ بچوں کو عیسائی بناتے ہیں، وہ اپنے زعم باطل کے مطابق جب اس رنگ دار پانی سے اپنے بچوں کو رنگتے ہیں تو وہ انھیں پاک کردیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اب وہ نصرانی ہوگئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حنفاء کے لیے حنیفیت کی پہچان مقرر کی اور اس کی علامت ختنہ کو قرار دیا۔

(صحیح مسلم: 153)

اللہ کا فرمان ہے۔

صِبۡغَةَ اللّٰهِ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبۡغَةً وَّنَحۡنُ لَهٗ عٰبِدُوۡنَ ۞

(سورۃ البقرة آیت 138)

ترجمہ: (اے مسلمانوں! کہہ دو کہ) ہم پر تو اللہ نے اپنا رنگ چڑھا دیا ہے اور کون ہے جو اللہ سے بہتر رنگ چڑھائے؟ اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔

مقصود یہ کہ اللہ کا رنگ وہ حنیفیت ہے جس نے دلوں پر اللہ کی معرفت و محبت، اس کے اخلاص اور صرف اسی کی عبادت کا رنگ چڑھا دیا ہے، اور جسموں پر خصال فطرت (ختنہ، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھاڑنا، کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، مسواک کرنا، استنجا کرنا) کا رنگ چڑھا دیا ہے، اس طرح اللہ کی فطرت کا ظہور حنفاء کے قلوب و ابدان پر ہوتا ہے۔

(موسوعۃ تربیۃ الأجیال: صفحہ 75 )

ختنہ کی فقہی حکمتوں کو بیان کرتے ہوئے امام خطابی رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’ختنہ کا ذکر سنتوں میں کیا جاتا ہے، لیکن بہت سارے علماء کے نزدیک یہ واجب ہے، اس لیے کہ یہ دین کا شعار ہے، اسی سے مسلم و کافر کے مابین امتیاز ہوتا ہے، اگر غیر مختون مقتولین کے مابین کوئی مختون مل جائے تو اس پر جنازے کی نماز پڑھی جائے گی، اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا جائے گا۔‘‘

(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 69)