ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 8

امُ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

نام: عائشہ
کنیت:  امِ بداللہ
القابات: حبیبۃ الرسول، صدیقہ، حمیرا
والد: ابوبکر صدیقؓ
 قبیلہ: قریش شاخ بنو تمیم
والدہ: امِ رومانؓ قبیلہ قریش شاخ بنو کنانہ
سنِ پیدائش: 5 نبوی بعثت نبوی کے پانچ برس بعد
قبیلہ: قریش شاخ بنوتمیم
زوجیتِ رسولﷺ: 1 ہجری ہجرت کے 1 برس بعد
سنِ وفات: 58 ہجری
مقامِ تدفین: جنتُ البقیع مدینہ منورہ
کل عمر: 67 سال تقریباً
نام و نسب:
نام عائشہؓ ہے، والد کی طرف سے سلسلہ نسب اس طرح ہے: عائشہ بنتِ ابی بکرؓ بن ابی قحافہؓ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک۔ جب کہ والدہ محترمہ کی طرف سے سلسلہ نسب کچھ یوں ہے: عائشہ بنتِ امِ رومان زینبؓ بنتِ عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ۔
کنیت:
آپؓ کی کنیت اُمِ عبداللہ ہے۔ اگرچہ سیدہ عائشہؓ کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ایک مرتبہ آپؓ نے رسول اللہﷺ سے عرض کی کہ خواتین نے تو اپنی اولادوں کے نام پر اپنی اپنی کنیت رکھ لیں، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ آپﷺ نے فرمایا: اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر رکھ لو۔ اس وجہ سے آپ نے اپنی کنیت امِ عبداللہ رکھ لی۔ سیدنا عبداللہؓ یہ سیدہ اسماء بنتِ ابی بکرؓ کے بیٹے ہیں، سیدہ اسماء بنتِ ابی بکرؓ کی شادی مشہور صحابی رسول سیدنا زبیر بن عوامؓ سے ہوئی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کے نمایاں کارنامے حدیث و تاریخ کی کتب میں بکثرت موجود ہیں۔
القابات و خطابات:
سیدہ عائشہؓ چونکہ متعدد خوبیوں کی مالک تھیں اس لیے آپ کےالقاب بھی متعدد ہیں۔ چند یہ ہیں: (صدیقہ) ہمیشہ سچ بولنے والی (حبیبۃ الرسول) یعنی آپؓ سے رسول اللہﷺ بہت زیادہ محبت فرماتے(المُبرۃ) جس کی پاکدامنی کی گواہی اورآپ پر لگنے والےجھوٹے الزام سے برات اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں نازل فرمائی(طیبہ، طاہرہ) پاکباز اور پاکیزہ سیرت کی مالکہ (حمیراء) سرخ رنگت والی۔ اس کے علاوہ آپﷺ نے آپؓ کو بنتِ الصدیق کا خطاب بھی عنایت فرمایا۔ اسی طرح حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے آپؓ کو محبت میں یا عائش بھی فرمایا۔
خاندانی پسِ منظر:
سیدہ عائشہؓ کا والد کی طرف سے کا نسب رسول اللہﷺ کے نسب سے مرہ بن کعب پر آٹھویں پشت میں مل جاتا ہے جبکہ والدہ کی طرف سے آپؓ کا نسب رسول اللہﷺ کے نسب سے مالک بن کنانہ پر گیارہویں پشت میں مل جاتا ہے۔ یوں آپ کا ننھیال اور ددھیال دونوں رسول اللہﷺ کے نسب میں مل جاتے ہیں۔
ولادت:
آپؓ کی ولادت نبی کریمﷺ کے اعلانِ نبوت کے5 سال بعد ماہِ شوالُ المکرم مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
بچپن:
سیدہ عائشہؓ کا بچپن بہت خوشگوار گزرا ہے، جہاں آنکھ کھولی وہ گھر صداقت کا گہوارہ تھااور بچپنے میں ہی جہاں جا کر ازدواجی زندگی بسر فرمائی وہاں نبوت کا بسیرا تھا۔ اس لیے چاق وچوبند ہونے کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتوں نے آپؓ کی شخصیت کو خوب نکھارا۔ علم و ادب سے گہری وابستگی، فطری حاضر جوابی، ذکاوت و ذہانت، مذہبی واقفیت اور غیر معمولی قوتِ حافظہ کی وجہ سے آپؓ کو اپنی سہیلیوں میں امتیازی مقام حاصل ہے۔
لباس:
عام طور پر ایک سادہ مگر پاک و صاف جوڑا زیب تن فرماتیں، آپ کے پاس ایک ایسا کرتا بھی تھا جس کی قیمت پانچ درہم تھی، اس زمانے کے اعتبار سے اسے قیمتی جوڑا شمار کیا جاتا، شادی بیاہ کے موقعوں پر دلہنیں اس جوڑے کو عاریتاً منگواتی اور کچھ دنوں بعد آپؓ کو واپس کر دیتیں۔ کبھی کبھار اپنے کپڑے کو زعفران میں رنگ کر استعمال فرما لیتیں۔ آپ کے پاس سرخ رنگ کا کرتا بھی موجود تھا، ایک سیاہ رنگ کا دوپٹہ بھی تھا۔ آپؓ کے پاس ایک بڑی چادر بھی تھی ایامِ حج و عمرہ میں طوافِ کعبہ کے دوران اسے اوڑھ لیا کرتیں تاکہ لوگوں سے پردے میں رہیں۔ مہندی اور خوشبو بھی استعمال فرماتیں۔
زیور:
آپؓ کبھی کبھی گلے میں یمنی ہار پہنتیں جو سیاہ و سفید مہروں سے بنا ہوا تھا، انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں بھی پہنا کرتی تھیں۔
کھیل کود:
کھیل کود بچپنے کا لازمی حصہ ہےاور صحت مند ذہن کا عکاس آپؓ کو بھی کھیل کود کا شوق تھا اور ان میں دو کھیل آپ کے پسندیدہ تھے۔ گڑیوں سے کھیلنا اور جھولا جھولنا۔
آپﷺ جب گھر میں تشریف لاتے، سیدہ عائشہؓ اپنی سہیلوں کے ساتھ گڑیوں سے کھیل رہی ہوتیں تو آپﷺ کی آمد پر آپؓ کی چھوٹی چھوٹی سہیلیاں چھپ جاتیں اور گڑیوں کو بھی چھپا لیتیں۔ آپﷺ بچیوں کو بلاتے اور سیدہ عائشہؓ کے ساتھ کھیلنے کو کہتے۔
رسول اللہﷺ غزوہ تبوک یا غزوہ خیبر (کسی ایک) سے واپس تشریف لائے تو میرے طاقچے کے آگے پردہ پڑا ہوا تھا۔ اتنے میں ہوا ذرا تیز ہوئی تو اس نے پردے کی ایک جانب اٹھا دی تب سامنے میرے کھلونے اور گڑیاں نظر آئے۔ آپ نے پوچھا عائشہ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ میری گڑیاں ہیں۔ آپ نے ان میں کپڑے کا ایک گھوڑا بھی دیکھا جس کے دو پر تھے۔ آپﷺ نے اس گھوڑے کے بارے بطورِ خاص پوچھا میں ان کے درمیان یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا: یہ گھوڑا ہے۔ آپﷺ نے پوچھا اور اس کے اوپر کیا ہے؟ میں نے کہا: اس کے دو پر ہیں۔ آپﷺ نے کہا کیا گھوڑے کے بھی پر ہوتے ہیں؟ میں نے کہا کہ: آپ نے سنا نہیں کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے پر تھے؟ سیدہ عائشہؓ خود فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ بہت ہنسے یہاں تک کہ میں نے آپﷺ کی داڑھیں مبارک دیکھیں۔
آپؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن میری والدہ امِ رومانؓ آئیں، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی۔
خواب میں بشارت:
صفحہ 1 از 8