کیا حسنین کریمین رضی اللہ عنہما،سلمان فارسی رضی اللہ عنہ،…

کیا حسنین کریمین رضی اللہ عنہما،سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، مقدادرضی اللہ عنہ، ابوذررضی اللہ عنہ، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ،جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ،عمار بن یاسررضی اللہ عنہ، بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی زندگی کے احوال نامعلوم ہیں؟

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 3

سوشل میڈیا پر شیعہ کی ایک من گھڑت جھوٹ پر مبنی تحریر کی حقیقت

کیا حسنین کریمینؓ، سلمان فارسیؓ، مقدادؓ، ابوذرؓ، ابوایوب انصاریؓ، جابر بن عبداللہؓ، عمار بن یاسرؓ، بلال حبشیؓ کی زندگی کے احوال نامعلوم ہیں؟

محرم شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شیعہ کی طرف یہ تحریر وائرل ہوتی نظر آئی۔ آئیے دیکھتے ہیں اس قلم کار نے کیا لکھا ہے کتنا بڑا محقق ہے اور کتنی سچائی ہے اس کی باتوں میں اور فیصلہ آپ کیجیے۔

سب سے پہلے عوام الناس کو مخاطب کر کے لکھتا ہے

شیعہ:"آپ نے کبھی سوچا کہ امام حسن ع اور امام حسین ع کے پانچ چھ سال کی عمر تک تو واقعات ملتے ہیں مگر اس کے بعد تاریخ میں ان کا ذکر صرف تب ہوا جب ان کی شہادت ہوئی۔ کئی نامور اصحاب حضرت سلمان فارسی کہ جس کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو اہل فارس وہاں پہنچ جائیں۔
حضرت ابوذر کہ جنہیں زمین پر سب سے سچا انسان قرار دیا۔ حضرت مقداد جن کی جنت مشتاق ہے۔
حضرت ایوب انصاری جو نبی کریم کے مدینہ میں میزبان تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری جو نبی کریم سے لے کر ان کی پانچویں نسل تک حیات رہے۔
حضرت عمار بن یاسر جن کی شان میں آیات نازل ہوئیں۔
حضرت بلال حبشی جو موذنِ رسول تھے۔
تاریخ ان کے بارے میں مکمل خاموش نظر آتی ہے۔

اہلسنّت: پہلی بات ان اصحابِ رسولﷺ کے فضائل و مناقب سے کون انکار کرتا ہے؟؟؟ اہلسنّت کی کوئی بھی ایسی کتاب یا عالم نہیں جو ان اصحابِ رسولﷺ کو نہ مانتا ہو الحمدلله اہلسنت تمام اصحاب و اہلبیت رسولﷺ کو مانتے ہیں اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ قرآنی شخصیات ہیں تاریخی نہیں، علوم میں علمِ تاریخ سب سے آخری درجے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مقدس ہستیوں کا ذکر قرآن پاک میں فرمایا ہے اور تم لوگ تاریخ سے ان کے عیب تلاش کر کے امت مسلمہ کو گمراہ کرتے ہو۔

تیسری بات جن اوقاتِ زندگی کی تم بات کرتے ہو کہ وہ بیان کیے گئے ہیں، آخر وہ کس نے بیان کیے ہیں؟ انہی اصحابِ رسولﷺ نے نا جن کو تم کاذب اور غاصب کہتے نہیں تھکتے۔

سیرت الصحابہؓ پڑھ لو اگر تمہیں کہیں اور سے ان بزرگوں کا تذکرہ نہیں ملا تو اس کتاب سے مل جائے گا۔

شیعہ: ایسا لگتا ہے کہ جیسے وفات نبی کریم کے بعد وہ اس دنیا سے غائب رہے اور بس شہادت یا وفات کے وقت دنیا میں کچھ دیر کے لئے آئے۔ آخر کہیں تو کچھ غلط ہوا ہے کہ ان شخصیات کا ذکر کرنا عیب سمجھا گیا۔

اہلسنّت: کچھ غلط نہیں ہوا، آپ شیعہ کا اصل مقصد صحابہ کرامؓ کو آپس میں ایک دوسرے کا دشمن اور مخالف قرار دے کر دینِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنا ہے تاکہ مسلمان دینِ اسلام سے دور ہو جائیں اور رسولﷺ کی مقدس اور کامیاب جماعت صحابہؓ جن کے ذریعہ اسلام ہم تک پہنچا ان پر بہتان تراشی اور الزامات لگا ان سے مسلمانوں کو متنفر کیا جائے۔

ہر لمحے کی زندگی بیان نہیں کی جاتی، اہم اہم واقعات ان سب صحابہ کرامؓ کے کتب سیرت میں موجود ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو تمہارے آباؤ اجداد نے تاریخ میں داخل کر دیے ہیں جن سے ان سے محبت کے بجائے ان کے بارے میں منفی تاثرات ذہن میں آتے ہیں، اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو تمہارے شر سے محفوظ رکھے، آمین۔

شیعہ: دوسری طرف جو افراد نبی کریم کی وفات سے سال دو سال قبل مسلمان ہوئے، ان کی سوانح عمری سے تاریخ بھری نظر آتی ہے۔

اہلسنّت: رسولﷺ کے جن جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے بارے میں تم یہ لکھ کر اپنے اندر کا بُغض نکال رہے ہو وہ دو سال نہیں بلکہ ابتداء ہی میں اسلام لائے۔
اس کے علاوہ زیادہ تذکرہ اسی کا کیا جاتا ہے جس کے دشمن زیادہ ہوں، جتنی تم نے ان اصحابِ رسولﷺ خصوصاً سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہم پر تبرا بازی کی اتنا ہی اہلسنت نے ان کے صحیح فضائل و مناقب بیان کیے ہیں تاکہ رسولﷺ کی تربیت کا دفاع کیا جا سکے۔
جتنے لوگ حضرت علیؓ کے دشمن ہوئے اتنا ہی اہلسنت نے ان کا دفاع کیا اور روافض اور خوارج کی گندگی کو ان کے پاک کردار سے دور کیا۔ ایسا ہی باقی اصحابِ رسولﷺ کا بھی معاملہ ہے۔

شیعہ: نبی کریم کی وفات کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ان کی آل اور بہت سے وفادار اصحاب کو تاریخ نے مکمل نظرانداز کر دیا۔

اہلسنّت: اصحابِ و اہلبیت رسولﷺ قرآنی شخصیات ہیں کسی دور میں بھی مسلمانوں نے ان کو نظر انداز نہیں کیا، تاریخ کی غلاظت سے آپ باہر نکلیں تاکہ قرآن وحدیث میں موجود ان سب کے فضائل و مناقب آپ کو ملیں اور پتہ چلے ان کی حقیقی تعلیمات کیا تھیں۔

شیعہ: کہاں کچھ غلط ہوا کہ نبی کریم کی وفات کے بعد ان کی آل کے کسی بھی فرد کی طبعی وفات نہ ہوئی۔

اہلسنّت: بلکل جھوٹ ہے سیدہ فاطمہؓ کی طبعی وفات ہوئی، سیدنا حسنؓ کی وفات ہوئی، اور بہت سے اہلبیت کی طبعی وفات ہوئی آپ شیعہ مذہب میں تو تقیہ کرنا ثواب ہے اس لیے آپ لوگ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے بارے بھی جھوٹ پھیلاتے ہو کہ ان کو شہید کیا گیا جبکہ ان کی طبعی وفات ہوئی جن کے نام پر آپ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو یعنی سیدہ فاطمہؓ ان کے بارے میں طرح طرح کے قصے کہانیاں شروع کر رکھی ہیں جو سب من گھڑت ہیں۔ ان کی طبعی وفات کو شہید اور گھر جلانا اور نجانے کیا کیا گھڑ رکھا ہے۔ 

اصحابِ رسولﷺ میں سے اکثر ہی شہید ہوئے، حضرت عمرؓ کو ابولؤلؤ نے شہید کیا، حضرت عثمان غنیؓ کو تو تم نے جتھہ بنا کر شہید کیا اور آج تک ان کی شہادت کے دن پر جشن مناتے ہو، اور بھی بے شمار ہیں جن کے نام لے کر گنوانا شروع کریں تو صفحات ختم ہو جائیں لیکن تمہارا کام تو صرف صحابہ کرامؓ پر الزام تراشی ہے جو دل و جان سے تم کرتے ہو۔

شیعہ: تمام قتل ہوئے اور قاتل بھی وہ جو ان کے جد کا کلمہ پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔

اہلسنّت: آپ کو اتنا نہیں پتہ اللہ کی راہ میں جو مارا جائے وہ قتل نہیں بلکہ شہید ہوتا ہے،
اور یہ آپ کا جھوٹ ہے کہ قاتل کلمہ پڑھنے والے تھے۔
سیدنا علیؓ کا قاتل ابن ملجم شیعہ میں سے تھا جیسا آپ کے بہت بڑے علامہ نعمت اللہ الجزائری نے لکھا ہے، 
اس کے علاوہ سیدنا حسینؓ کے قاتل بھی کوفی شیعہ ہیں جو تم جیسے بے دین لوگوں کے ہی آباؤ اجداد تھے۔

صفحہ 1 از 3