آپ رضی اللہ عنہ کی پہلی ہجرت اور ابن الدغنہ کا مؤقف -…

آپ رضی اللہ عنہ کی پہلی ہجرت اور ابن الدغنہ کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

آپؓ کی پہلی ہجرت اور ابنِ الدغنہ کا مؤقف

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے جب آنکھیں کھولیں تو اپنے والدین کو اسلام پر پایا، ہر روز صبح وشام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لاتے تھے۔ جب مسلمانوں کی ابتلاء و آزمائش کا دور آیا تو میرے والد حبشہ کی طرف ہجرت کے ارادے سے مقام ’’برک الغماد‘‘ تک پہنچے، وہاں ابن الدغنہ جو قبیلہ قارہ (ابنِ الدغنہ کا نام بعض نے حارث بن یزید، بعض نے مالک ، اور بعض نے ربیعہ بن رفیع بتایا ہے، اور قارہ بنو ہون بن خزیمہ کا قبیلہ تھا۔) کا سردار تھا، آپ سے ملا۔

اس نے کہا: ابوبکر! کہاں کا ارادہ ہے؟

آپ نے کہا: میری قوم نے مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ روئے زمین میں سیر کروں اور آزادی سے اپنے رب کی عبادت کروں۔

ابنِ الدغنہ نے کہا: ابوبکر! آپ جیسا انسان نہ یہاں سے جا سکتا ہے اور نہ اس کو جانے دیا جائے گا۔ آپ تو محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں، لوگوں کا بوجھ یعنی قرض وغیرہ اپنے سر لے لیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، مصائب میں لوگوں کی مدد اور تعاون کرتے ہیں، میں آپ کو پناہ دیتا ہوں، آپ چلیں اور اپنے شہر میں اپنے رب کی عبادت کریں۔ آپ لوٹ آئے اور ابن الدغنہ آپ کے ساتھ آیا اور شام کے وقت قریش کے سرداروں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے کہا:ابوبکر جیسا نرالا انسان یہاں سے نہیں جا سکتا اور نہ انہیں نکالا جا سکتا ہے۔ کیا تم لوگ ایسے شخص کو یہاں سے نکالنا چاہتے ہو جو محتاجوں کی مدد کرتا ہے، رشتہ داروں کا خیال رکھتا ہے، دوسروں کا بوجھ اپنے سر اٹھاتا ہے، مصائب وآلام میں لوگوں کی مدد کرتا ہے؟

قریش کے سردار ابن الدغنہ کے پناہ دینے کو نہ جھٹلا سکے اور ابنِ الدغنہ سے کہا:آپ ابوبکر سے کہیں کہ وہ اپنے گھر کے اندر اپنے رب کی عبادت کریں، اس میں نماز ادا کریں اور جو چاہیں پڑھیں لیکن اپنی عبادت و قراء ت کے ذریعہ سے ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں اور سب کے سامنے اپنی دعوت کا اعلان کرتے نہ پھریں کیونکہ ہمیں اپنی عورتوں اور نوجوانوں کے گمراہ ہو جانے کا خطرہ ہے۔

ابنِ الدغنہ نے یہ بات ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہنچا دی، آپ اپنے گھر کے اندر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ اپنی نماز وتلاوت گھر سے باہر ظاہر نہیں کرتے تھے۔ پھر آپ کا ارادہ ہوا اور اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی اور اسی میں نماز و تلاوت کرنے لگے۔ آپ کی تلاوت پر کفار ومشرکین کی عورتیں اور نوجوان ٹوٹے پڑتے، ان کو یہ چیز پسند آتی، اس کو غور سے سنتے، اور آپ کی طرف متوجہ ہوتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ انتہائی نرم دل تھے جب قرآن کی تلاوت کرتے تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ پاتے اور رونے لگتے۔ اس سے سرداران قریش خوف زدہ ہو گئے اور ان کو فکر لاحق ہو گئی۔ انہوں نے ابنِ الدغنہ کو بلا بھیجا، جب وہ آگیا تو اس سے قریش نے کہا:

ہم نے ابوبکر کو تمہاری پناہ کی وجہ سے چھوڑ رکھا تھا اس شرط پر کہ وہ اپنے گھر میں عبادت کریں گے لیکن وہ اس سے تجاوز کر کے اپنے گھر کے سامنے مسجد بنا کر علی الاعلان نماز قائم کرتے ہیں اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ ہماری عورتیں اور نوجوان فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے، آپ ان کو اس سے روک دیجیے، اگر وہ اپنے گھر کے اندر رہ کر عبادت کریں تو ٹھیک ہے ورنہ آپ ان سے اپنی پناہ واپس لے لیجیے، ہم آپ کی بات کاٹنا نہیں چاہتے اور نہ ابوبکر کو علانیہ طور سے پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کرنے دینا چاہتے ہیں۔

اس کے بعد ابنِ الدغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ہمارے اور آپ کے درمیان جو طے پایا تھا وہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں، لہٰذا آپ یا تو اس بات پر قائم رہیں ورنہ ہماری پناہ واپس کر دیں، میں یہ نہیں چاہتا کہ عرب یہ سنیں کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دی لیکن اس کو توڑ دیا گیا۔

اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری پناہ کو لوٹاتا ہوں، میں اللہ کی پناہ کے ساتھ خوش ہوں۔(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 274)

جب آپ ابن الدغنہ کی پناہ سے دست بردار ہو گئے تو قریش کا ایک احمق شخص کعبہ جاتے ہوئے راستہ میں آپ کو ملا، اس نے آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ کے سر پر مٹی ڈال دی، اتنے میں آپ کے پاس سے ولید بن مغیرہ یا عاص بن وائل کا گذر ہوا، آپ نے اس سے کہا:

ذرا اس بے وقوف کو دیکھو کیا کر رہا ہے؟

اس نے کہا: یہ تم نے خود اپنے ساتھ کیا ہے۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے گذر گئے: اے میرے رب تو کتنا بڑا بردبار ہے، اے میرے رب تو کتنا بڑا بردبار ہے، اے میرے رب تو کتنا بڑا بردبار ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 95)

دروس و وعبر:

اس واقعہ میں بہت سے دروس وعبر ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل قوم میں آپ کا انتہائی اونچا مقام تھا، لوگوں کی نگاہ میں بڑی عزت تھی، چنانچہ ابنِ الدغنہ یہ شہادت دینے پر مجبور ہوا کہ اے ابوبکر! آپ جیسا عظیم المرتبت انسان یہاں سے نہیں جا سکتا اور نہ اسے کوئی یہاں سے نکال سکتا ہے، آپ تو مجبوروں کی مدد کرتے ہیں، رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں، دوسروں کا بوجھ یعنی قرض وغیرہ اپنے سر لے لیتے ہیں، مہمان نوازی اور ضیافت کرتے ہیں اور مصائب وآلام میں دوسروں سے تعاون کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے محض اللہ و ر سول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اسلام قبول کیا تھا، آپ کے پیش نظر جاہ و حشمت کا حصول نہیں تھا، آپ کا مقصود صرف اللہ کی رضا کا حصول تھا، جس کی وجہ سے ابتلاء و آزمائش کا سامنا کرنا پڑا، آپ نے اللہ کی عبادت کی خاطر اہل وعیال، خاندان و وطن کو خیر باد کہنا چاہا، کیونکہ اپنے وطن میں آپ کو آزادی کے ساتھ عبادت الہٰی سے روک دیا گیا۔ (استخلاف ابی بکر الصدیقؓ: صفحہ، 134)

صفحہ 1 از 2