ایک شبہ اور اس کا جواب
مولانا اقبال رنگونیسوال: دونوں امام (یعنی سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ)جب کہولت کو پہنچ کر شہید ہوئے ہیں تو شباب کس طرح کہلائے؟
جواب: حدیث میں جو مضمون ہے: الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اور حدیث أَبُوبَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ
اس میں خدشہ ہوا کرتا ہے کہ عمر ہر دو امامین کی بھی تو کہولت (سن رسیدہ) کو پہنچی ہے کیونکہ سیدنا حسنؓ کا انتقال قریباً 45 سال کی عمر میں ہوا اور سیدنا حسینؓ قریباً 56 برس کی عمر میں شہید ہوئے پھر ان کو شباب جوان کیسے فرمایا؟ اگر اس کا جواب یہ دیا جائے کہ یہاں شباب شیوخت کے مقابلہ میں ہے چونکہ امامین کی عمر سن شیوخت تک نہیں پہنچی اس لیے ان کو شباب (نوجوان) فرمایا تو اس کی توجیہ تو ہو جائے گی مگر یہ وجہ حضرات شیخین میں بھی مشترک ہے پھر ان کو کہول (سن رسیدہ) کہنے کی کیا حکمت ہے؟ سو توجیہ اس کی یہ مناسب معلوم ہوتی ہے کہ حضرات شیخین وفات کے وقت کہول تھے ان کے مجموعہ وفاتین کے وقت یعنی جب سیدنا عمر فاروقؓ کی وفات ہوئی ہے حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما شباب تھے پس لفظ شباب اپنے معنیٰ پر رہے گا۔(وعظ راس الربیعین: صفحہ 52)
حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھیؒ لکھتے ہیں:
حضرات حسنین رضی اللہ عنہما خاتونِ جنت کے لخت جگر لاڈلے اور آنحضرتﷺ کے پیارے نواسے ہیں کہ نسل انہی سے چلی جو سادات کہلاتے ہیں۔ ان کے فضائل بے شمار ہیں اور جس کو ذرا بھی محبت ہوگی محبوب خداﷺ کے ساتھ وہ سمجھے گا کہ آپﷺ کے نواسوں کے ساتھ محبت کس قدر بڑی نعمت ہے۔
(دررفرائد: صفحہ 335)
آنحضرتﷺ حضرات حسنین کریمینؓ کے لیے ہمیشہ دعا گوہ رہتے اور ان کی حفاظت کے لیے پڑھ کر انہیں دم کر دیا کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں حضورﷺ یہ دعا پڑھ کر حسن حسین رضی اللہ عنہما کو اللہ کی پناہ دیتے تھے:
أُعِيذُ كُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ الثَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ۔
(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 183)
ترجمہ: میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعہ وہم میں ڈالنے والے شیطان اور نظر بد سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ حضورﷺ نے اس کے بعد فرمایا
هَكَذَا كَانَ يُعَوِّذُ إِبْرَاهِيمُ ابْنَيْهِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ:
(ایضاً سنن ابی داؤد: جلد2 صفحہ 304)
تمہارے جد امجد ابراہیم حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہم السلام کے لیے ان کلمات سے پناہ مانگا کرتے تھے (یعنی ان کلمات کو پڑھ کر دم کرتے تھے۔)
سیدنا جابرؓ کہتے ہیں: جس نے جنتی آدمی دیکھنا ہو، وہ سیدنا حسینؓ کو دیکھ لے، کہ میں نے حضورِ اکرمﷺ سے ان کے بارے میں یہ بات سنی ہے۔
(مسند ابی یعلیٰ: جلد 2، صفحہ 348، البدایہ: جلد 8، صفحہ 206)
ایک مرتبہ سیدنا حسنؓ نے سیدنا ابوہریرہؓ کو سلام کیا تو آپ نے ان کے جواب میں فرمایا:
وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا سَيِّدِی۔
پوچھنے پر انہوں نے کہا: میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ سید ہیں۔
(مسند ابی یعلیٰ: جلد 6، صفحہ 91)
ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے حالتِ احرام میں مچھر مارنے کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے ان سے کہا: تم کہاں سے ہو؟ اس نے کہا: عراق سے ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اسے دیکھو کہ ایک مچھر کے قتل کے بارے میں مسئلہ پوچھتا ہے، جبکہ ان لوگوں نے حضورِ اکرمﷺ کے نواسے کو شہید کر دیا۔ اور میں نے حضورِ اکرمﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:
إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَيْحَانَتَای مِنَ الدُّنْيَا۔
ترجمہ: بے شک حسن و حسین میرے دنیا کے پھول ہیں۔ (مسند ابی یعلیٰ: جلد 5، صفحہ 287،
اسد الغابہ: جلد 2، صفحہ 26)
حضرت زید بن اسلم کہتے ہیں:
میں نے اہلِ بیتؓ میں کسی کو سیدنا حسنؓ جیسا نہیں پایا۔
مَا جَالَسْتُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ مِثْلَهُ، يَعْنِی الْحَسَنَ۔
(المصنف لابنِ ابی شیبہ: جلد 2 صفحہ 186)
مشہور شیعہ صدوق کہتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے یزید کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:
سیدنا حسینؓ کے بارے میں تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ انہیں حضورِ اکرمﷺ سے قرابت کی نسبت ہے اور وہ حضورِ اکرمﷺ کے جسمِ مبارک کا ٹکڑا ہیں اور ان کا جسم حضورِ اکرمﷺ کی طرف سے پرورش یافتہ ہے اور میں جانتا ہوں کہ اہلِ عراق ضرور انہیں اپنی طرف بلائیں گے اور پھر ان کی مدد سے ہاتھ اٹھا لیں گے اور ان کو اکیلا چھوڑ دیں گے اگر تجھے ان پر غلبہ ملے تو ان کی عزت کے حق کو پہچاننا اور حضورِ اکرمﷺ کے ساتھ ان کی قرابت کے مرتبے کو یاد رکھنا اور ان کے کاموں کا مواخذہ نہ کرنا اور میں نے ان کے مابین جو روابط اس مدت میں قائم رکھے ہیں، ان کو قطع نہ کرنا خبردار! انہیں کوئی مکروہ و تکلیف دہ چیز نہ پہنچانا۔ (جلاء العیون: صفحہ 388)
افسوس صدِ افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا سیدنا حسینؓ میدانِ کرب و بلا میں مرتبہِ شہادت پا کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے اللہ رب العزت کی کروڑوں رحمتیں آپؓ اور آپ کے اہل و عیال پر نازل ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
