فتوحات اسلامیہ کے لیے معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی
علی محمد الصلابیرابعاً: فتوحات اسلامیہ کے لیے معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اسلامی فتوحات ٹھوس منصوبہ بندی اور محکم حکمت عملی کے تابع رہیں، فتوحات میں ان کی سیاست کے بنیادی نکات یہ ہے:
1۔ رومیوں کے بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست:
اس حوالے سے انہوں نے بہت سے اقدامات کیے۔ اہداف کے حصول کے لیے موسم گرما اور موسم سرما کی کارروائیوں پر ارتکاز، ان میں سے چند اہداف مندرجہ ذیل ہیں:
رومیوں کی قوت کو کمزور کرنا۔
رومیوں کی جارحانہ پوزیشن کو ختم کرنا اور انہیں ہمیشہ دفاعی حالت میں رکھنا۔
رومیوں کو اپنی فورسز کو مختلف محاذوں پر تقسیم کرنے کے لیے مجبور کرنا، تاکہ وہ دولت اسلامیہ کے خلاف تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں۔
(فن الحرب الاسلامی: بسام العسلی: جلد 1 صفحہ 233)
رومیوں پر ان کے گھر کے اندر حملہ آور ہونا اور ان کے دار الحکومت کا محاصرہ کرنا اور اس طرح ان کی معنویات کو کمزور بنانا اور انہیں مرعوب کرنا۔
بحر شام میں واقع جزائر کو فتح کر کے رومیوں کی بحری صلاحیتوں کو محدود کرنا۔
(ایضاً: جلد 1 صفحہ 211)
اس کے نتیجے میں رومی کشتیوں کو ان کے اہم بحری اڈوں کے استعمال سے محروم کر دینا۔
2۔ شمالی افریقہ کے محاذ کے بارے میں ان کی اختیار کردہ سیاست:
الف: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغربی محاذ کو خصوصی اہمیت دی اور وہ ذاتی طور پر اس سے وابستہ رہے۔ 47ھ تک اس محاذ کے کمانڈرز کی کمان آپ کے ہاتھ میں رہی، اور اسی حوالے سے مغربی محاذ والی مصر کے سپرد کر دیا گیا۔
(ولاۃ مصر: صفحہ 61۔ النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 175)
ب: انہوں نے بلاد مغرب کے دل میں جہادی مرکز قائم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں، انہیں کی ہدایات کے تحت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے اسلام اور مسلمانوں کو تقویت دینے کے لیے قیروان تعمیر کروایا۔
3۔ سجستان، خراسان اور ماوراء النہر کے محاذ کے بارے میں ان کی حکمت عملی:
الف: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فاتح سجستان عبداللہ بن عامرؓ سے تعاون حاصل کرتے ہوئے انہیں اسے دوبارہ فتح کرنے کی ذمہ داری تفویض کرنا۔
ب: اس علاقے میں اسلامی حکومت کو مستحکم بنانے اور دعوت اسلام کو عام کرنے کے لیے پچاس ہزار عرب لوگوں کو ان کے اہل و عیال سمیت خراسان میں آباد کرنا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 364، 365)