سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا - دفاعِ…

سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فوج کو شام بھیجنے کا عزم کر لیا، لوگوں کو جہاد کی دعوت دی اور شام کو فتح کرنے کے لیے چار افواج تیار کیں۔

لشکر یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما: یہ پہلا لشکر تھا جو شام کی طرف آگے بڑھا، اس کے ذمہ دمشق پہنچ کر اس کو فتح کرنا اور دیگر تین لشکروں کی بوقت ضرورت مدد کرنا تھا۔ لشکر یزید کی تعداد ابتدا میں تین ہزار تھی۔ پھر خلیفہ نے مزید امداد بھیجی، جس سے اس کی تعداد تقریباً سات ہزار ہو گئی۔ لشکر یزید کے روانہ ہونے سے قبل خلیفہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اعلیٰ درجہ کی اثر انداز وصیت کی جو جنگ و صلح کے میدان میں واضح حکمت پر مشتمل تھی۔ پیدل چل کر ان کو الوداع کہا اور انہیں مندرجہ ذیل وصیت کی:

’’میں نے تمہیں والی مقرر کیا تاکہ تمہیں آزماؤں، تمہارا تجربہ کروں اور تمہیں تجربہ کار بناؤں اگر تم نے اپنے فرائض بحسن و خوبی ادا کیے تو تمہیں دوبارہ تمہارے کام پر مقرر کروں گا اور اس میں مزید اضافہ کروں گا اور اگر تم نے کوتاہی کی تو تمہیں معزول کر دوں گا۔ اللہ کے تقویٰ کو تم لازم پکڑو، وہ تمہارے باطن کو اسی طرح دیکھتا ہے جس طرح ظاہر کو دیکھتا ہے۔ اللہ کے زیادہ حقدار وہ ہیں جو زیادہ اللہ سے دوستی کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ سے سب سے زیادہ قریب وہ ہیں جو اپنے اعمال سے اس کا زیادہ تقرب چاہنے والے ہیں۔ میں نے خالد (خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے استعفاء داخل کر دیا تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کا استعفاء قبول بھی کر لیا تھا۔)کی جگہ تم کو مقرر کیا ہے۔ خبردار! جاہلی تعصب سے بچنا۔ اللہ کو یہ اور ایسا کرنے والا انتہائی ناپسند ہے۔ اپنے لشکر کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، ان کے ساتھ خیر سے پیش آنا اور ان کو خیر کا وعدہ دلانا اور جب انہیں وعظ ونصیحت کرنا تو مختصر کرنا کیونکہ جب بات زیادہ ہو جائے تو فضول ہو جاتی ہے۔ تم اپنے نفس کو درست رکھو، لوگ تمہارے لیے درست ہو جائیں گے اور نمازوں کو ان کے اوقات پر رکوع و سجود کو مکمل کرتے ہوئے ادا کرنا، اس میں خشوع وخضوع کا مکمل اہتمام کرنا اور جب دشمن کے سفیر تمہارے پاس آئیں تو ان کا اکرام کرنا، انہیں جلد رخصت کرنا تاکہ وہ تمہاری فوج کے بارے میں کچھ نہ جان سکیں اور اپنے امور پر ان کو مطلع نہ ہونے دینا کہ انہیں تمہارے نقص و عیب کا پتہ چل جائے، انہیں اپنی فوج کے جمگھٹے میں رکھنا تاکہ مسلمانوں کی قوت سے مرعوب ہو جائیں۔ اپنے لوگوں کو ان سے بات کرنے سے روک دینا، تم خود بات کرنا، راز ظاہر نہ کرنا اور جب مشورہ لینا بات سچ کہنا، صحیح مشورہ ملے گا۔ مشیر سے اپنی خبر مت چھپانا ورنہ تمہاری وجہ سے تمہیں نقصان پہنچے گا۔ اپنے ساتھیوں سے رات میں گفتگو کرنا، دن بھر کی خبریں تمہیں مل جائیں گی اور پردے ہٹ جائیں گے۔ حفاظتی دستہ میں زیادہ افراد کو رکھنا اور انہیں اپنی فوج میں پھیلا دینا اور بغیر اطلاع دیے اچانک ان کے پاس پہنچتے رہنا، جس کو اپنی ذمہ داری سے غافل پانا اس کی اچھی طرح تادیب کرنا اور بغیر افراط کے سزا دینا اور رات میں ان کی باری مقرر کرنا۔ اول شب کی باری آخر شب سے لمبی رکھنا کیونکہ دن سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ باری آسان ہوتی ہے۔ مستحق سزا کو سزا دینے سے مت ڈرنا، اس میں نرمی نہ برتنا، ہاں سزا دینے میں جلدی نہ کرنا، اس کے لیے بہانے تلاش کرنا۔ اپنی فوج سے غافل نہ رہنا کہ وہ خراب ہو جائیں اور ان کی جاسوسی کر کے ان کو رسوا نہ کرنا،ان کے راز کی باتیں لوگوں سے نہ بیان کرنا، ان کے ظاہر پر اکتفا کرنا، بے کار قسم کے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھنا، سچے اور وفادار لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرنا۔ دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت ڈٹ جانا، بزدل نہ بننا ورنہ لوگ بھی بزدل ہو جائیں گے۔ مال غنیمت میں خیانت سے بچنا، یہ محتاجی سے قریب کرتی ہے اور فتح ونصرت کو روکتی ہے۔ تمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو عبادت خانوں میں مشغول عبادت ہوں گے، ان کو مت چھیڑنا، انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا۔‘‘

علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ والیان و امراء کے لیے انتہائی نفع بخش اور بہترین وصیتیں ہیں۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 64، 65)

فوائد: اس وصیت میں متعدد فوائد ہیں

امارت و منصب کسی کا دائمی حق نہیں بلکہ یہ اچھی کارکردگی اور فرائض کی کامیاب ادائیگی کی مرہون منت ہے اگر کوئی شخص اچھی کارکردگی نہ دکھائے اور فرائض میں کوتاہی کرے تو نگران اعلیٰ کی ذمہ داری ہے کہ اس کو معزول کر دے۔

یہ شعور انسان کو اپنے عمل میں کامیابی کے اعلیٰ معیار کو پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت کرنے اور طاقت صرف کرنے پر ابھارتا ہے اور جب اسے یہ معلوم ہو جائے کہ وہ جو کچھ بھی کرے اسے کوئی یہاں سے ہٹانے والا نہیں تو پھر عمل میں کوتاہی اور دنیا طلبی کی طرف مائل ہو جاتا ہے پھر فرائض کی ادائیگی میں خلل واقع ہوتا ہے اور اپنے ماتحتوں کو مختلف قسم کے فساد، انار کی اور اختلاف ونزاع کا شکار بنا دیتا ہے۔

تقویٰ عمل میں کامیابی کے اہم عوامل میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے ظاہری و باطنی اعمال سے بخوبی واقف ہے اگر وہ اپنے باطن میں اللہ تعالیٰ سے خوف رکھتے ہیں تو ظاہر میں بدرجہ اولیٰ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں گے اور اس طرح والی و حاکم بگاڑ اور افساد کے تمام مظاہر سے دور رہے گا جو عام طور پر بے لگام جذبات کا نتیجہ ہوا کرتا ہے، جس میں اللہ سے تقویٰ کا التزام نہیں پایا جاتا ہے۔

آبائی اور قومی عصبیت سے احتراز لازم ہے کیونکہ یہ تعصب انسان کے صراط مستقیم سے انحراف کا باعث ہوتا ہے جبکہ آباء واجداد کا طریقہ استقامت کے مخالف ہو۔ مزیدبرآں یہ عصبیت اخوت فی اللہ کے اسلامی رابطہ میں ضعف و کمزوری کا سبب بنتی ہے۔

صفحہ 1 از 5