مطاعن عثمانی
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 495: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بعثت کے کون سے سن میں مسلمان ہوئے؟
جواب: پہلے ہی سال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ترغیب پر مسلمان ہوئے۔ (تاریخِ اسلام ندوی)
سوال نمبر 496: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پہلے اسلام لائے یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پہلے مسلمان ہوئے؟
جواب: پہلے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔
سوال نمبر 497: دونوں میں قبولِ اسلام کا درمیانی وقفہ کتنی مدت تھا؟
جواب: تقریباً 5 سال۔
سوال نمبر 498: دونوں میں سے کس کا درجہ اسلام اولیٰ تھا؟
جواب: قبولیتِ اسلام میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا درجہ اولیٰ تھا۔ مگر خصوصیات اور کمالات ہر کسی کے جدا جدا ہوتے ہیں۔ زندگی کے تمام اعمال کی گنتی اور ترتیب سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو باجماعِ امت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر فضیلت حاصل ہے۔
سوال نمبر 499: باعثِ امتیاز درجات اور کیا وجوہ ہیں؟
جواب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مرادِ رسولﷺ تھے مسلمان ہوتے ہی تمام مسلمانوں کو تقویت نصیب ہوئی اور وہ خانہ کعبہ میں علانیہ نماز پڑھنے لگے۔ فراست و شجاعت میں یکتا تھے۔ خلافت کے کارنامے اور اس میں امن و امان کی فراوانی آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔
سوال نمبر 500: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قبل از اسلام کون سے کسبِ معاش سے وابستہ تھے؟
جواب: تجارت۔ تاریخِ اسلام ندوی صفحہ 196 پر ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اصل ذریعہ معاش تجارت تھا۔ اسلام کے قبل سے ان کا یہ مشغلہ تھا اور اسلام کے بعد بھی قائم رہا۔
سوال نمبر 501: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا اسلام سے پہلے کیا کاروبار تھا؟ جائیداد اور معاشی دولت کا گوشوارہ مرتب فرما دیجیے؟
جواب: کاروبار تجارت تھا نوعمر تھے۔ اس وقت آپؓ کے خاص دولت مندی کا تذکرہ نہیں ملتا۔ ہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ مشرکین کے ظلم و ستم کا شکار ہو گئے اپنے چچا حکم بن ابی العاص نے رسی میں باندھا صفوں میں لپیٹ کر دھواں دیا۔ نیا دین چھوڑنے پر مجبور کیا مگر آپؓ نے فرمایا خدا کی قسم یہ دین کبھی نہ چھوڑوں گا۔ بالآخر حبشہ کو ہجرت کی پھر مدینہ کو کی۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 38)
سوال نمبر 502: قبولِ اسلام کے وقت کتنی دولت بارگاہِ نبویﷺ میں نذر کی؟
جواب: آپ اس وقت بھی ہر جمعہ غلام آزاد کرتے تھے۔ جب سے میں مسلمان ہوا ایک جمعہ بھی نہ گزرا کہ غلام آزاد نہ کیا ہو بجز اس کے میرے پاس کبھی مال نہ ہو تو بعد میں آزاد کر لیا۔ (تاریخ الخلفآء: صفحہ، 125) اس وقت اسلام کو افراد کی ضرورت تھی۔ مالی چندے کی نہ تھی حضرت ابوبکر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اپنے اثر و رسوخ سے لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچ رہے تھے اور غریب غلاموں کو کافروں سے خرید کر آزاد کر دیتے تھے چنانچہ حضرت بلال، سیدنا ابوفیکہ، سیدنا عامر بن فہیرا، زہرا، نہدیہ، نہدیہؓ کی بیٹی لبینہ مؤملیہ ام عبیس رضی اللہ عنہم ان سب کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہی خرید کر آزاد کیا۔ (اصابہ: جلد، 4 صفحہ، 475) اگر شیعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس مالی ایثار کو خراجِ عقیدت نہیں پیش کر سکتے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی قدر کیا کریں گے۔ جو ایسے سوال کرتے ہیں۔
سوال نمبر 503: حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی دولت اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی دولت کا تقابلی گوشوارا مرتب فرمائیے؟
جواب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں جناب ابو طالب یا کسی ہاشمی کا ذکر کرتے تو بات مناسب تھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شیعہ رافضوں کا کیا تعلق وہ تو آپؓ کو اہلِ بیتِ رسولﷺ ہی نہیں مانتے بسترِ پیغمبرﷺ پر پیدا ہونے والی آپؓ کی تین بیٹیوں کو پیغمبرﷺ سے نفی نسب کو گالی دے کر حضرت خدیجہؓ پر ناپاک حملہ کرتے ہیں۔ ان کے کسی کمال اور بزرگی پر کوئی تقریب و مجلس نہیں مناتے۔ صرف والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور خوشدامن سیدنا مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہونے کے لحاظ سے وہ بدگوئی نہیں کر سکتے جو دیگر ازواجِ مطہراتؓ کی کرتے رہتے ہیں۔ سیدہ خدیجہؓ مالدار تھی۔ نکاح کے بعد اس سے حضور اکرمﷺ نے فائدہ اٹھایا وہ وَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰى (سورۃ الضحى: آیت 8) خدا نے تجھے تنگ دست پایا تو غنی کر دیا خدا نے سچ کر دیا اور بچوں کی تربیت خوشی حالی سے کی ابو طالب کا مالی لحاظ سے احسان مند نہ ہونے دیا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قدر دان ہم اہلِ سنت ہی ہیں آپﷺ کے خانگی ضروریات پر مالِ سیدہ خدیجہؓ صرف ہو یا حضرت عثمانؓ کا ہو بہر صورت ہم دونوں بزرگوں کے عقیدت کیش ہیں۔ اور شیعوں کو ان سے کچھ تعلق نہیں۔
سوال نمبر 504: انتقال کے وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مالی پوزیشن کیا تھی؟
جواب: اس وقت کافی کمزور ہو چکی تھی۔ کیونکہ دعویٰ نبوت کے بعد حضور اکرمﷺ کی سرگرمیاں تبلیغ کے لیے وقف ہو گئیں۔ کفار کی دشمنی اور مخالفت نے معمر اور خانہ نشین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اتنا موقع فراہم نہ کیا کہ وہ اپنے وکلاء اور مضاربوں کے ذریعے تجارتی سلسلہ کو بحال رکھتیں۔
سوال نمبر 505: بی بی صاحبہ (سیدہ خدیجہؓ) کی کتنی رقم حضور اکرمﷺ نے اسلامی مدّات میں خرچ فرمائی؟
جواب: نکاح کے بعد اب بی بی صاحبہ (حضرت خدیجہؓ) کی الگ دولت نہ رہی گھر کا مشترکہ سرمایہ تھا جو اولاد کی تربیت اور خانگی اخراجات میں صرف ہوا۔
مکی زندگی میں ایسے اسلامی ضروریات اور مدات پیدا نہ ہوئی تھی جو مدینے میں جا کر پیدا ہوئیں کیونکہ ابھی تک جہاد و صدقاتِ واجبہ اور مسلم معاشرہ کی وسعت سامنے نہ آئی تھی جن پر خرچ کیا جاتا۔
سوال نمبر 506: کیا کسی روایت میں حضور اکرمﷺ نے یہ اقرار کیا ہے کہ ان کے ذمہ بی بی معظمہ (سیدہ خدیجہؓ) کا اتنا قرض ہے؟
جواب: نہیں۔
سوال نمبر 507، 508: وہ قرض کتنا تھا اور ادائیگی کس طرح فرمائی؟
جواب: نہ قرض تھا، نہ ادائیگی کا سوال تھا۔
سوال نمبر 509: ہجرتِ رسول اللہﷺ کے وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں تھے یا نہ؟
جواب: مکہ میں نہ تھے۔ حبشہ میں دوسری مرتبہ اپنی بیوی سیدہ رقیہؓ بنتِ رسول اللہﷺ کے ساتھ ہجرت کر گئے تھے۔ تمام سنی شیعہ سیرت نگاروں کا اس پر اتفاق ہے۔
سوال نمبر 510: اگر مکہ میں تھے تو مالی حالت کیسی تھی؟
جواب: مکہ میں تھے ہی نہیں۔
سوال نمبر 511: مکہ سے مدینہ کوچ کرتے وقت کتنا مالی نقصان اٹھانا پڑا؟
جواب: جب حبشہ کو دو مرتبہ ہجرت کی تو سب کاروبار ختم ہو گیا۔
سوال نمبر 512: بوقتِ ہجرت کتنی رقم یا اثاثے حضور اکرمﷺ کو دیئے؟
جواب: حضور اکرمﷺ کو تو اس وقت رقم کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ مسافرِ ہجرت کو زادِ سفر چاہیے تھا تو حکمِ رسولﷺ کے تحت کچھ مال ساتھ لے گئے۔
سوال نمبر 513: مدینہ جا کر کون سا دھندا شروع کیا؟
جواب: حبشہ پہنچ کر یا پھر مدینہ آ کر تجارت مبرور کو پیشہ بنایا۔
سوال نمبر 514: حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیویاں کتنی تھیں؟
جواب: سیدہ رقیہؓ بنتِ رسولﷺ آپؓ کی پہلی بیوی تھیں۔ ان پر سوکن کوئی نہ تھی۔ تاریخِ طبری جلد، 4 صفحہ، 420 پر سیدہ رقیہؓ و سیدہ اُمِّ کلثومؓ بناتِ رسول اللہﷺ کو سب سے پہلے ازواج میں لکھا ہے۔ پھر فاختہ بنتِ غزوان بن جابر کا ذکر ہے جن سے عبداللہ اصغر پیدا ہوا تھا۔ تو معلوم ہوا کہ سیدنا عبداللہ اکبر اس سے پہلے حضرت رقیہؓ سے ہوا تھا تو وہی پہلی بیوی تھیں۔
سوال نمبر 515: جب حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا تو کتنی ازواج کے شوہر تھے؟
جواب: کوئی نہ تھیں۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حسنِ دامادگی کے پیشِ نظر حضور اکرمﷺ کو آپؓ پر ترس آیا اور سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا خود بیاہ دی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جو اپنی بیٹی سیدہ حفصہؓ کا نکاح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کرنا چاہتے تھے اسے خود بیاہ لیا۔ چنانچہ رشتوں میں تبدیلی کے وقت فرمایا: میں حضرت عثمانؓ کو حضرت حفصہؓ سے بہتر بیوی اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا عثمانؓ سے بہتر شوہر دیتا ہوں۔ (کتبِ حدیث)
سوال نمبر 516: حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کب ہوا بی بی (سیدہ رقیہؓ) کی عمر کتنی تھی؟
جواب: سن 4 نبوت میں ہوا۔ بی بی (حضرت رقیہؓ) کنواری تھیں، 13 برس کی عمر تھیں کیونکہ تمام سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ جب اعلانِ نبوت کے تین سال بعد وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ (سورۃ الشعراء: آیت 214) نازل ہوئی تو چچا ابولہب نے بیٹوں سے حضور اکرمﷺ کی بیٹیوں کے رشتے، منگنیاں تڑوا دیں۔ پھر باقاعدہ نکاح و رخصتی حضرت عثمانؓ کے گھر ہوئی اور 5 نبوت میں پہلی ہجرتِ حبشہ ہوئی ان میں سر فہرست سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنت النبیﷺ کا تذکرہ باقر علی مجلسی جیسے متعصب شیعہ نے بھی کیا ہے۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 305 منتی الامال: جلد، 1 صفحہ، 48)
سوال نمبر 517: فرزندِ ابولہب سے نکاح ہوا تو کتنا عرصہ شوہر کے گھر رہیں؟
جواب: رخصتی ہونے سے پہلے اس نے چھوڑ دیا تھا۔
سوال نمبر 518: جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح ہوا تو کتنی عمر تھی؟
جواب: وہ بعثت سے قبل صغر سنی میں بطورِ نسبت و منگنی تھا۔ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش بعثت سے 10 سال پہلے ہوئی تو اس وقت سات آٹھ برس کی ہوں گی۔
سوال نمبر 519: جنگِ بدر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کتنے کافر مارے؟
جواب: آپ ضد اور عناد سے تجاہل عارفانہ کر رہے ہیں ورنہ تمام سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا شدید بیمار تھیں۔ بدر کو جاتے وقت حضور اکرمﷺ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حکماً سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری کے لیے چھوڑ گئے اور فرمایا تمہیں غازیوں کا ثواب اور غنیمت کا حصہ پورا یہیں ملے گا۔ چنانچہ حضور اکرمﷺ جنگِ بدر جیت کر واپس آئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سیدہ رقیہؓ کو دفنا چکے تھے۔ آپﷺ نے اشک بارانہ قبر پر دعا فرمائی۔
سوال نمبر 520: جنگِ احد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شامل تھے یا نہیں؟ ثابت قدمی دکھائیں؟
جواب: شامل تھے اور ثابت قدم بھی رہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ایک صحابیؓ کی ثابت قدمی کی صراحت ہم تک بھی پہنچے۔ جن 14 یا کم و بیش ثابت قدم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام خاص موقع پر مورخین نے لکھے ہیں ان میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام نہ ہونے سے فرار کا بلا ثبوت الزام و گمان درست نہ ہو گا جنگی حکمتِ عملی کے تحت مجاہدین آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں۔ ثابت قدمی کی کئی روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی نہیں خصوصاً ابنِ قمیئہ کے سخت قاتلانہ حملے کے وقت جب سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ کٹوا کر وار روکا۔
بالفرض اگر ایسا ہوا اور بنصِ قرآنی ایک جماعت کے قدم ڈگمگا گئے تو قرآن کریم ہی نے وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ فرما كر ان کو معاف کر دیا۔ پیغمبرﷺ کو بھی معاف کرنے کا اور ان سے بدستور مشورے لینے کا حکم دیا اور آپﷺ نے اس پر عمل فرمایا۔ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ (سورۃ آل عمران: آیت 159)
اب جو شخص خدا کا حکم، قرآنی فیصلہ اور سنتِ پیغمبرﷺ کو نہ مانے اور حضرت عثمانؓ یا دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر فرار کا طعن کستا رہے وہ ملعون پکا کافر ہو گا یا سبائی مسلمان؟ وضاحت کریں۔
سوال نمبر 521: کیا حضور اکرمﷺ معاہدہ کے پابند تھے یا عہد شکن بھی تھی؟
جواب: تکمیل معاہدہ کے بعد پابند ہوتے تھے، قبل تکمیل پابندی ضروری نہیں۔
سوال نمبر 522: اگر حضور اکرمﷺ بات کے پکے تھے تو صلح حدیبیہ کا شرائط نامہ نقل کیجیے؟
جواب: تاریخِ اسلام ندوی صفحہ 48 اور نجیب آبادی جلد 1 صفحہ 168 پر شرائط نامہ لکھا ہے:
1: مسلمان اس سال عمرہ نہ کریں گے آئندہ سال آ کر کریں گے۔
2: اگلے سال آئیں گے تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں گے۔
3: ہتھیار لگا کر نہ آئیں گے صرف تلواریں بانیام ساتھ ہوں گی۔
4: اگر قریش میں سے کوئی شخص بلا اجازت اپنے دلی کے مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا تو قریش کی طرف واپس کیا جائے گا۔ لیکن اگر کوئی مسلمان قریش کے پاس آ جائے گا تو واپس نہ کیا جائے گا۔
5: صلح کی معیاد 10 سال ہو گی کوئی فریق دوسرے کے جان و مال سے تعرض نہ کرے گا۔
6: عرب کا ہر قبیلہ آزاد ہو گا۔ وہ فریقین میں جس کا چاہے حلیف بن جائے۔
سوال نمبر 523: کیا صلح نامہ میں یہ شرط تھی کہ اگر کوئی کفار کا آدمی مدینے آئے گا تو اسے واپس کر دیا جائے گا اور اگر کوئی مسلمان مکہ میں پکڑا جائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا؟
جواب: یہ شرط نمبر 4 تھی جو بالا مذکورہ ہے۔ مگر اپنے اسلاف مشرکین جن کی نمائندگی آپ اب کر رہے ہیں سے سیکھی ہوئی آپ کی بدعہدی اور خیانت کو آفرین ہے کہ شرط نقل کرنے میں کتنی غداری کی۔ خط کشیدہ جملہ کس عربی فارسی لفظ کا ترجمہ ہے۔ صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار کرنے کے لیے یہ جھوٹا جملہ آپ نے تراشا ہے ورنہ اس شرط کا تقاضا و مفاد یہ ہے کہ کفار کا آدمی (مسلمان ہو کر) مدینہ آ جائے تو مسلمان واپس کر دیں گے جیسے سہیل کے لڑکے سیدنا ابو جندلؓ مظلوم مسلمان کو کفار کتابتِ معاہدہ سے قبل ہی شرط کی بناء پر واپس چھڑا لے گئے۔
اور اگر کوئی مسلمان (معاذ اللہ مرتد ہو کر) مکہ چلا جائے تو کافر اسے واپس نہ کریں گے۔
یہ دو طرفہ شرط مسلمانوں کے خلاف اور اشتعال انگیز تھی تبھی تو حضور اکرمﷺ اور خاص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بے چین مسلمانوں کو وجہ حکمت یہ سمجھائی کہ جو مرتد ہو گیا ہمیں اسے کیا غرض وہ کافروں کے ہاں ہی رہے اور جو مسلمان ہو جائے وہ کافروں میں رہ کر بھی اپنی تبلیغ کرتا رہے گا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہ مرتد ہوئے تھے نہ وہاں رہائش کرنے گئے تھے بلکہ حضور اکرمﷺ کے خاص سفیر اور نمائندے بن کر گئے تھے۔ سائل شیعہ کی خیانت نے یہ دوہرا ظلم کیا کہ اس شرطِ ارتداد و لحاق کا مصداق معاذ اللہ حضرت عثمانؓ کو بنا ڈالا۔ حالانکہ دنیا کے کسی بھی دستور میں سفیر کے ساتھ بدسلوکی و زیادتی ناقابلِ معافی جرم ہے۔
سوال نمبر 524: اگر شرط مسلمہ تھی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی گرفتاری پر رسولﷺ معاہدے سے کیسے پھر سکتے تھے؟
جواب: آپ کو جہالت بھی مبارک ہو۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر جب بھیجا وہ عمرہ کی اجازت لینے گئے تھے ابھی تک کوئی شرائط اور معاہدہ طے نہ ہوا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے قتل کی خبر سن کر حضور اکرمﷺ کا اور مسلمانوں کا مشتعل ہونا کسی معاہدہ سے انحراف نہ تھا۔ کتبِ تاریخ غور سے دیکھیں۔
سوال نمبر 525: کفارِ مکہ نے کون سی خلاف ورزی کی تھی؟
جواب: حرم کعبہ جو ہر شخص کی پناہ گاہ ہے وہاں مسلمانوں کو عمرہ کی اجازت نہ دی الٹا ان کے سفیر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو زد و کوب کیا اور دو تین مرتبہ مسلمانوں پر شبخون مارا۔ (کتبِ تاریخ)
سوال نمبر 526: کیا خدا بھی وعدہ و عہدہ کا پاس نہ کرتا؟
جواب: وعدہ کا پاس کیا تبھی تو غداروں کے خلاف بیعتِ رضوان منعقد کرائی۔ جس سے شیعہ ناراض ہیں
سوال نمبر 527: اگر کرتا تو بیعتِ شجرہ کو ایک غیر آئینی اور خلافِ عہد وجہ کی بناء پر منعقد کرنے کا حکم کیوں دیتا، کیونکہ بیعتِ رضوان بقولِ شما حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے تھی؟
جواب: رافضی کی دراز زبان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ و حضور اکرمﷺ سے بڑھ کر رحمان تک جا پہنچی
فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُكۡهُ يَلۡهَث ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا (سورۃ الأعراف: آیت 176)
ترجمہ: اس کی مثال کتے جیسی ہے تو اس پر حملہ کرے تو بھی بھونکے، نہ کرے تو بھی بھونکے، یہی بھونک ان لوگوں کی بھی ہے جو ہماری آیات کے منکر ہیں۔
واقعی خدا نے بیعتِ رضوان حضرت عثمانؓ کی بزرگی ظاہر کرنے کے لیے کرائی اور سورت فتح میں اس کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور بیعت کرنے والوں کو اپنی رضا اور جنت کی بشارت سنائی ہے۔ یہ ایک آئینی اور بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی ہو جانے پر منعقد کرائی۔ 1500 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو اس بیعت سے جنت کے وارث بن گئے۔ مگر اب 15 سو سال بعد مشتاق جیسے مسلمانوں کے دشمن اور کفار کے ایجنٹ خود خدا پر بھی سیخ پا ہو رہے ہیں۔ کفار کی نمک حلالی کا واقعی حق ادا کر دیا ہے۔
سوال نمبر 528: قتلِ سیدنا عثمانؓ افواہ جھوٹی تھی۔ خدا کو اس کا علم تھا تو پھر ایک جھوٹی افواہ کے باعث اتنا اہتمام کیوں کیا گیا؟
جواب: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حضرت عثمانؓ سے محبت اور جذبہ فدائیت و جان نثاری کا امتحان لینا تھا۔ خدا سے پوچھیے کہ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح نہ کرانا تھا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ ڈرامہ کیوں کرایا اور قرآن میں ذکر کا اہتمام کر کے حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کا درجہ کیوں بڑھایا؟
سوال نمبر 529: جب معلوم ہوا کہ حضرت عثمانؓ زندہ ہیں تو پھر یہ اقدام کیوں نہ روک دیا؟
جواب: بالا کافی ہے۔ نیز شیعہ علماء نے شہادتِ حضرت حسینؓ کے واقعے میں لکھا ہے کہ جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تھے تو خدا نے فرشتوں کی جماعت نصرت کے لیے بھیجی، کیوں؟
سوال نمبر 530: اگر بیعتِ رضوان کا باعث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا واقعہ مانا جائے تو خدا کے علم کی نفی، رسولﷺ کی امانت و صداقت کا انکار اور وحی مصنوعہ جیسے رکیک امور جنم لیتے ہیں کیا یہ صداقتِ دین پر کاری ضرب نہیں ہے؟
جواب: اگر قرآنی واقعہ شانِ نزول کا آپ انکار کر دیں تو کوئی اور واقعہ تراش کر خدا کے علم رسولﷺ کی امانت و صداقت کو بچا لیں اور خیالی دین سچا کر دکھائیں۔ مسلمانوں کے ہاں تو خدا، قرآن، رسول اللہﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جذبہ شہادت بیعتِ رضوان اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خبر شہادت پر یہ اشتعالِ اہلِ ایمان سب برحق امور ہیں۔
نوٹ: 531 سے 547 تک سوالات غزوۂ حنین سے متعلق ہیں۔ ان کے جوابات ہم سنی کیوں ہیں؟ میں ہم دے چکے ہیں۔ یہاں مختصراً اشارات کافی ہوں گے۔
سوال نمبر 531، 532: جن لوگوں نے بیعتِ رضوان توڑی کیا وہ فضیلت کے مستحق ہیں؟
جواب: بیعتِ رضوان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کی خاطر تھی۔ مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قتل کر دیئے گئے آنحضرتﷺ کو سخت صدمہ ہوا آپﷺ نے قصاص کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جانبازی کی بیعت لی۔ (بخاری کتاب الشروط، تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 479)
تو عہدِ نبوت میں نہ سیدنا عثمانؓ شہید ہوئے نہ عہد شکنی کا موقع آیا۔ البتہ جب بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا اور کچھ لوگوں نے قصاص لینے میں عمداً رکاوٹ ڈالی طالبینِ قصاص کو اپنا دشمن جان کر جنگ کی۔ وہ عہد شکنی کا مصداق ہیں مگر بحمد اللہ بیعتِ رضوان والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قصاص میں کوتاہی اور عہد شکنی سے پاک ہیں۔
سوال نمبر 533: قرآن سے جنگِ حنین سے متعلق آیات کا صرف ترجمہ لکھیے؟
جواب: بے شک اللہ تعالیٰ نے بہت سی جنگوں میں تمہاری مدد کی اور حنین کے دن بھی کی جب تم کو اپنی کثرت پر ناز آ گیا تھا تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آیا اور باوجود کشادگی کے زمین تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ دے کر ہٹ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسلی اپنے رسولﷺ پر اور مؤمنین پر اتاری اور وہ لشکر اتارا جو تم نے نہ دیکھا اور کافروں کو خوب سزا دی۔ کافروں کا بدلہ یہی ہے پھر اللہ تعالیٰ رحمت متوجہ کرتا ہے جس پر چاہے اور اللہ بڑے بخشنے والے مہربان ہیں۔ (سورۃ التوبة: رکوع، 4 پارہ، 10)
نوٹ: آیات کا ترجمہ بلا تفسیر حاضر ہے شیعہ کا طعن ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ شکست پائی کا سبب کثرت پر ناز کرنا بتایا ہے۔ بزدلی یا نفاق نہیں اور یہ اتفاقی سبب اور درسِ حکمت تھا جو نکث بیعت کا مستحق نہ ہو گا کیونکہ وقتی پسپائی کے بعد مسلمانوں نے تائیدِ ایزدی سے ایسے ڈٹ کر حملہ کیا کہ سب سے عظیم فتح اور مالِ غنیمت کی کثرت یہاں حاصل ہوئی۔
پھر ثابت قدم نہ رہنے والوں پر اپنی توجہ توبہ کا ذکر خیر فرمایا اور معافی کا پروانہ دے دیا۔ خدا کا یہ انعام و فضل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمن سبائیوں کو جلانے کے لیے کافی ہے ان کو چاہیے کہ کالا لباس پہن کر ماتم کریں اور حسد و کینہ کی آگ میں جل مریں۔ ذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ۔
سوال نمبر 534، 535: حنین میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شجاعت کی کوئی مثال صحیح حدیث سے نقل کریں آپؓ کے ہاتھ سے صرف ایک مقتول کا نام لکھیں؟
جواب: مسلمانوں کا لشکر بارہ ہزار تھا۔ فتح مکہ کے دو ہزار نو مسلموں کے اولاً قدم ڈگمگائے اور وہ بھاگے تو دوسروں کو بھی سراسیمہ و متزلزل کر دیا۔ مگر آنحضورﷺ کی ہمت اور انا النبی لا كذب انا ابن عبدالمطلب۔ ترجمہ: میں نبی ہوں جھوٹ نہیں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ کے رجز نے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی آواز نے سب کو پھر اکٹھا کر دیا اور وہ ایسے جم کر لڑے کہ ہزاروں کفار کو قتل کر کے چھ ہزار قیدی بنا لیے۔ چوالیس ہزار اونٹ، چوالیس ہزار سے زیادہ بھیڑ بکریاں، چار ہزار اوقیہ چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آئی۔ (تاریخِ اسلام نجیب آبادی: صفحہ، 188)
اب ہر مجاہد کی تفصیلی شجاعت اور کاروائی سامنے نہیں آ سکتی تاکہ کسی خاص صحابی پر طعن کسا جائے۔ آخر شیعہ جن چار اصحاب حضرت سلیمان، حضرت ابوذر، حضرت عمار، و حضرت مقداد رضی اللہ عنہم کو مانتے ہیں۔ ان کی بھی ایسی مثال اور مقتلوں کے نام دکھا سکتے ہیں؟
اگر وہاں جرأت نہیں تو کیا سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ دامادِ پیغمبرﷺ ان سے کم رتبہ ہیں کہ ان کی یا وہ گوئی کر رہے ہیں۔
سوال نمبر 536: اگر کہا جائے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مدینہ میں نہ تھے تو ثبوت درکار ہے؟
جواب: دشمنِ اصحابِؓ رسولﷺ رافضی کو یہ علم نہیں کہ حنین کی جنگ مدینہ کے پاس نہ تھی بلکہ مکہ کے مشرق میں طائف کی طرف قبائل ہوازن اور ثقیف جو بڑے جنگ جو تیر انداز تھے کے درمیان ہوئی تھی۔ مسلمان ابھی وادی کے بیچ در بیچ راستوں سے صبح کاذب کی تاریکی میں نیچے اتر رہے تھے کہ مورچہ بند تیار کفار نے یک دم تیروں کی بارش کر دی اور ابتداءً مسلمان سنبھل نہ سکے۔ ہوا جو کچھ ہوا۔ جب ڈٹ کر مسلمانوں نے حملہ کیا تو جنگ کا نقشہ بدل گیا اور عظیم فتح حاصل ہوئی۔ صد افسوس ہے کہ دشمنِ اسلام رافضی پورا واقعہ سامنے نہیں لاتا صرف وقتی بھگدڑ پر مطاعن کے قلعے تعمیر کرتا ہے۔
سوال نمبر 537: جن لوگوں نے بیعتِ شجرہ کے بعد عہد شکنی کی ان کی مذمت کرنا آپ صحیح جانتے ہیں یا نہیں؟
جواب: جب ہم عہد شکنی تسلیم ہی نہیں کرتے تو مذمت کیسے کریں؟
سوال نمبر 538: اگر نہیں سمجھتے تو قرآن میں یہ مذمت کیوں آئی؟
جواب: قرآن پر یہ ناپاک بہتان ہے کوئی مذمت نہیں آئی ہے صرف ایک جملہ میں صورت واقعہ کا ذکر کر کے مسلمانوں کو اپنی نصرت، سکینت اور غفران و رحمت سے نوازا گیا ہے اور کافروں کے عذاب و جزا پانے کی مذمت مذکور ہے۔ (پارہ: 10 رکوع، 10)
سوال نمبر 539: اگر مذمت صحیح سمجھتے ہیں تو شیعوں کے خیال کو ناگوار کیوں خیال کرتے ہیں؟
جواب: جب قرآن میں مذمت ہے ہی نہیں۔ شیعوں نے اصحابِ رسولﷺ کے بغض میں مشہور کر رکھی ہے پھر اگر وہ اسے مطابقِ واقعہ جانتے ہیں تو غیبت اور حرام ہے وہ درندے بن کر اپنے بزرگ بھائیوں کا گوشت نوچ رہے ہیں اور اگر مذمت کی وجہ ہی نہیں ہے۔ پھر ڈھٹائی سے تقریریں کرتے، رسائل چھاپتے، مناظروں کے چیلنج دیتے اور اصحابِ رسولﷺ پر بہتان تراشتے ہیں تو یہ بہتان بازی بڑا جرم ہے ہم ان کے الزام کو ناگوار ہی نہیں بلکہ خود ان کو اسلام و ایمان سے محروم جانتے ہیں۔
سوال نمبر 540، 541: کیا کسی کتاب میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگِ حنین میں بھاگے ہوں؟ حوالہ و عبارت لکھیں۔
جواب: اگر کہیں ہو بھی تو ہم اس کی تلاش میں ایمان ضائع نہ کریں گے۔ نہ ایسی روایت سے فرار کا نتیجہ نکالیں گے جہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہ ملے کیونکہ حضرت علیؓ سمیت تمام مسلمان مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کی ہم عزت کرتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ کے فرار کی صراحت کہیں نہیں ہے۔
سوال نمبر 542: اگر نہیں ہو سکتی تو مکمل اتفاق ہوا کہ حضرت امیرؓ نے عہد نہیں توڑا۔ اب بتائیں کہ ایک شخص کے عہد نہ توڑنے کا 100 فیصد یقین ہو۔ دوسروں کے متعلق متضاد گواہیاں ہوں تو یقینی بری الذمہ کون ہو گا؟
جواب: ہمارے ہاں کسی نے عہد نہ توڑا۔ شیعوں کے ہاں کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اور خارجیوں کے ہاں مختلف واقعات کی بناء پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے توڑا۔ مگر یہ دونوں مذہب غلط اور صحابہؓ دشمنی کا آئینہ ہیں اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس اتہام سے بری الذمہ ہیں ہم اس میں بحث و کرید مہلک ایمان مانتے ہیں۔
سوال نمبر 543 تا 545: جن کتب میں حنین میں اصحابِ کرامؓ کے فرار کا تذکرہ ہے کیا وہ اہلِ سنت کی نہیں ہیں اگر شیعوں کی ہیں تو آپ کے ہاں کیوں رائج ہیں جبکہ شیعہ سے روایت لینا آپ جائز نہیں سمجھتے مگر شمر کی روایت نقل کر لیتے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تبرّا پر شیعہ مجرم کیوں؟
جواب: ان کتب کے نام اور پھر اہلِ سنت کے ہاں معتبر نہ ہونا بباطن رافضیوں کی تصانیف ہونا۔ ہم، ہم سنی کیوں ہیں؟ میں وضاحت کر چکے ہیں۔ مراجعت کریں۔
علانیہ شیعوں سے روایت تو ہم نہیں لیتے مگر قرونِ اولیٰ میں شیعہ موجودہ دَور کی طرح مسلمانوں سے الگ تھلگ اپنا مذہب اور قومی وجود نہ رکھتے تھے۔ تقیہ کرنے میں بہت ہوشیار تھے۔ ہمارے بہت سے علماء نے ان کی ظاہری عدالت و شکل پر اعتبار کر لیا اور روایتیں لے لیں۔ وقت گزرنے پر پتہ چلا کہ وہ اپنا زہر اور بغضِ اصحاب کا گندا مواد ہماری کتب میں چھوڑ گئے ہیں تو اب ہم کتاب اللہ، حدیثِ نبویﷺ، اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اصولِ شریعہ پر ایسی روایات کو پرکھتے ہیں اور روایتی جرح کر کے شیعوں کی موضوع و دخیل روایات کو پٹخ دیتے ہیں یہاں کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں مگر طوالت کے خوف سے صرف کلیہ کا ذکر کافی ہے۔ شمر کی روایات بھی نہیں لیتے۔ تقریب التہذیب میں جس شمر کا ذکر ہے وہ اور شخص ہے چھٹے طبقے کا
صدوق ہے وفات دوسری صدی کے نصف آخر میں ہوئی۔ بھلا وہ شمر کیسے ہو سکتا ہے جو 37 ھ میں حضرت علیؓ کا خاص شیعہ تھا۔ پھر حضرت حسینؓ کا قاتل بنا۔ ان شیعوں سےخدا بیزار ہے۔
سوال نمبر 546: اگر آپ کے خیال میں چند افراد نے ایسا نہ کیا تھا تو جنگِ حنین کے متعلق ان کے کارنامے تلاش کر کے شیعوں کا منہ بند کیوں نہیں کر دیتے؟
جواب: کتبِ تاریخ میں ہے: مسلمان وادی کی شاخ در شاخ اور پیچیدہ گزر گاہوں میں ہو کر نشیب کی طرف اترنے لگے تھے۔ اور صبح کاذب کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی کہ اچانک دشمنوں کی فوجوں نے کمین گاہوں سے نکل نکل کر تیر اندازی اور شدید حملے شروع کر دیئے۔ اس اچانک آ پڑنے والی مصیبت اور بالکل غیر متوقع حملہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان سراسیمہ ہو گئے اور اہلِ مکہ کے دو ہزار آدمی سب سے پہلے حواس باختہ ہو کر بھاگے ان کو دیکھ کر اور مسلمان بھی جدھر جس کو موقع ملا منتشر ہونے لگے۔ آنحضرتﷺ وادی کے داہنی جانب تھے آپﷺ کے ہمراہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت عباسؓ، حضرت فضل بن حیانؓ، حضرت ابو سفیانؓ الحارث اور ایک مختصر سی جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رہ گئی۔ (تاریخِ اسلام از نجیب آبادی: جلد، 10 صفحہ، 187 سیرت ابنِ ہشام: جلد، 4 صفحہ، 85)
اس بھگدڑ کو حضور اکرمﷺ نے بھی معاف کر دیا۔
سیرت ابنِ ہشام: جلد، 4 صفحہ، 88 میں ہے کہ حضرت اُمِّ سلیمؓ نے حضور اکرمﷺ سے کہا: آپﷺ ان لوگوں کو قتل کریں جو آپﷺ سے بھاگے۔ جیسے جنگ کرنے والوں کو آپﷺ قتل کرتے ہیں۔ تو رسول اللہﷺ نے کہا: اے اُمِّ سلیمؓ کیا اللہ کافی نہیں ہے؟ ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفایت کی ہے اور اچھا کیا ہے۔
یہاں سیرت کے حاشیہ پر ہے کہ حضور اقدسﷺ نے حضرت اُمِّ سلیم رضی اللہ عنہا کو تردیدی جواب سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ حنین کے دن مسلمانوں کا فرار کبیرہ گناہوں سے نہ تھا۔ علماء نے صرف بدر کے دن فرار کو کبائر میں گِنا ہے کہ اللہ نے فرمایا: اور اس دن جو پیٹھ پھیرے گا۔ (یہ بطورِ شرط و کلیہ کے ہے ورنہ تمام سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ جنگِ بدر میں ایک مسلمان بھی نہیں بھاگا۔) الخ۔ احد میں فرار کرنے والوں کو معاف کر دیا وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اور حنین والوں کے متعلق بھی معافی اتری۔ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ اِذۡ اَعۡجَبَـتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡئًـا وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّـيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ ثُمَّ يَتُوۡبُ اللّٰهُ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ (سورۃ التوبة: آیت 25، 27)
شیخین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ثابت قدمی واضح اور بزرگی کی دلیل ہے لیکن کیا یہ حضرت علیؓ کی تعلیم ہے کہ باقی سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کیچڑ اچھالتے رہو۔ محل و موقعہ کی نزاکت، بے بسی اور خدا و رسولﷺ کے معافی اور ان کے دیگر کارناموں کو بالکل نظر انداز کر دو اور کافروں سے بھی بڑھ کر کمینہ پن کا ثبوت دو پھر یہ جنگ جو عظیم الشان فتح سے آبدار ہوئی کیا یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے تیروں تلواروں اور نیزوں کی رہینِ منت نہ تھی؟ کیا کسی رافضی نے بھی یہاں تیر چلایا تھا یہ آپ کے 3 یاروں نے بھی کوئی کمال دکھایا تو سامنے لایئے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مقتولوں کی فہرست بنائیے۔ سیرت ابنِ ہشام سے تو ایک مقتول نہیں ملتا۔ ایک کے اونٹ کی ٹانگیں سیدنا علیؓ نے کاٹیں وہ گرا تو انصاری ساتھی نے اسے قتل کیا۔ (ابنِ ہشام: جلد، 4 صفحہ، 88) اس کے سوا باقی ہزاروں کفار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تلواروں سے ہی جہنم رسید نہیں ہوئے؟ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے 20 کو قتل کیا اور ہتھیار لیے۔ (ابنِ ہشام: جلد، 4 صفحہ، 91) سیدنا ابو عامرؓ نے 9 مشرکوں کو قتل کیا۔ (ایضاً: جلد، 4 صفحہ، 99) کیا حقائق کو جھٹلانا اور خیرِ امّت کی کردار کشی کر کے رسولِ خداﷺ کا بھی دل دکھانا کسی مسلمان کی شان ہے۔
سوال نمبر 547: اگر آپ ایسے شواہد پیش کرتے ہیں مگر شیعہ ہٹ دھرمی سے آپ کی بات کا اعتبار نہیں کرتے تو ایسی مثال دیں جسے شیعوں نے نامعقول جرح کر کے جھٹلایا ہو؟
جواب: عہدِ نبویﷺ کے 37 غزوات و سرایا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بہادری اور عظیم فتوحات سے لبریز ہیں کسی میں شکست یا پسپائی نہ ہوئی صرف دو جنگوں میں وقتی پسپائی ہوئی اور اس کا سبب بھی قرآن نے خود یہ بتایا کہ احد میں امیر کی حکم عدولی تھی اور حنین میں اپنی کثرت پر ناز تھا بطورِ درسِ حکمت اللہ نے قدم ڈگمگا کر یہ مسئلہ بتایا کہ فتح و شکست میرے قبضے میں ہے۔ کثرت اور جنگی مہارات سے صرف وابستہ نہیں ہے پھر احد و حنین میں بھی دل شکنی کے باوجود دوبارہ جرأت مندانہ حملے، ثابت قدمی، میدان جیت لینا متعلقہ مباحث میں کتبِ تاریخ سے ہم نقل کرتے آ رہے ہیں لیکن وہ کون سی مثال ہے جسے شیعہ نے انصاف سے مان لیا اور نہ معقول جرح نہ کی اور حقیقت کو نہ جھٹلایا۔ دراصل شیعوں نے قرآن کو، مشنِ نبوت کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان و کردار کو جھٹلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی وہ تاریخی صحیح واقعات کو کہاں مانتے ہیں؟ ان کا مقصد صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مافوق البشر (خدا) اور نبی سے افضل باور کرانا ہے۔ باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکذیب اور کردار کشی کرنا ہے۔ شیعہ مقرروں کا ایک ایک جملہ، مصنفوں کا ایک ایک پیرا گراف مشتاق دنیا کا ایک ایک سوال یہی بتاتا ہے کہ نامعقول ہفوات سے شیعوں نے ہر حقیقت کو جھٹلایا ہے۔ ان 17 سوالوں میں بھی یہی تکذیب ہے اس لیے ہم دیانۃً یہ لکھنے کو مجبور ہیں کہ شیعوں کا اس اسلام سے رائی برابر بھی تعلق نہیں جو رسولِ خداﷺ نے 23 سال میں اپنی امت کو پڑھایا سکھایا اور ان کو نمونہ ہدایت بنا کر اپنی یادگار چھوڑا۔ وہ قرآن، سنتِ رسولﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قطعی منکر و مکذب ہیں ذرا بھی خوفِ خدا، رسول اللہﷺ سے رشتے کا پاس اور اسلام سے محبت ہوتی تو یہ ژاژہ خائی کبھی نہ کرتے جو کوئی ہندو، سیکھ، عیسائی، یہودی مؤرخ بھی نہیں کر سکتا۔
اللهم اخذل الشيعة واهلكهم و دمر ديارهم وشتت شملهم كما اهلكت عاداً وثمودا واهلكت الايرانيين المتشيعين من ايدى العراق- اللهم خذهم اخذ عزيز مقتدر-
سوال نمبر 548، 549: کیا آپ کے عقیدے میں فرشتے بے حیاء ہو سکتے ہیں؟ اگر ہو سکتے ہیں تو ایسے تین فرشتوں کا تعارف کرائیے؟
جواب: وہ شیعہ نہیں کہ بے حیاء بن کر مسلمانوں کی پردہ دری کریں بلکہ مسلمان اور باحیاء ہیں۔ کسی کے عیب تلاش نہیں کرتے۔ تین کے عیب تلاش کرنے والا گروہ ایمان، اسلام، صداقت دنوں سے محروم ہے۔
سوال نمبر 550: اگر فرشتے معصوم اور حیا دار ہیں تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کون سی خصوصی حیاء کرتے ہیں؟
جواب: حیا اس فطری وصفِ خیر کا نام ہے جو کسی میں کچھ کمی کوتاہی یا مکروہ حالت دیکھ کر اسے چھپانے اور رسوا نہ کرنے پر صاحبِ حیا کو امادہ کرتا ہے مثلاً احیاناً کسی کا ستر دیکھ لیا یا بدن کا عیب نظر آ گیا یا توقع کے خلاف ناپسند بات دیکھ لی تو اگر دیکھنے والے نے شرم سے خاموشی اختیار کر لی تو کہا جائے گا اس نے شرم و حیاء سے کام لیا۔ مگر جس نے اسے مشہور کیا تو کہا جائے گا اس نے بےحیائی سے کام لیا۔ حیاء کا ایک مفہوم کسی کا عملی احترام ہے اور یہ جذبہ شرم و حیاء شخصیات کے اعتبار سے کم و بیش ہوتا رہتا ہے اور محاورہ میں کسی شخص سے شرم و حیاء کرنا اس کی خاص بزرگی اور احترام کا اقرار ہوتا ہے۔ مثلاً ہم بے تکلف بول چال کر رہے ہوں اچانک استاد یا والدین یا کوئی خاص بزرگ سامنے آ جائے تو ہم شرم و حیاء سے بالکل چپ سادھ لیں گے دبک بیٹھیں گے۔ فرشتوں کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے حیاء کرنا اسی دوسرے مفہوم کے اعتبار سے ہے کہ وہ ان کو دیکھ کر ہی سر تا پا احترام بن جاتے ہیں جیسے حضور اکرمﷺ نے پنڈلی پر کپڑا برابر کر کے حضرت عثمانؓ کے اس احترام و حیاء کا اظہار کیا تھا۔ اس لحاظ سے فرشتوں کو دوسروں کے حق میں بے حیاء نہ کہا جائے گا بلکہ سیدنا عثمانؓ کی کمالِ بزرگی کی دلیل و فضیلت سمجھا جائے گا یعنی فرشتے جتنا احترام اور پاس و لحاظ حضرت عثمانِ غنیؓ کا کرتے ہیں، اوروں کا نہیں کرتے تعجب ہے کہ متعرض تو نرے بے حیاء ہی نکلے کہ وہ مفہوم اوّل کے اعتبار سے بھی سیدنا عثمان غنیؓ کی اپنے خیال میں کمی اور کوتاہی کو چھپاتے نہیں بلکہ وقاحت و بے حیائی سے دنیائے عالم میں رسوا کرتے رہتے ہیں۔ واقعی فرشتے باحیاء ہیں۔ شیعہ محروم از حیاء ہیں۔
سوال نمبر 551: اگر حضرت عثمان ذوالنورینؓ تھے تو پھر ابولہب کو دو نوروں کا باپ کیوں نہ مان لیا جائے کہ وہ ان کا والد نسبتی تھا؟
جواب: بے حیائی اور گستاخی کی حد کر دی دو نوروں کا باپ حضور اکرمﷺ کا وصف اور خاصہ تھا اس نے ابولہب کٹر کافر کو یہ وصف الاٹ کر دیا۔ جب ابولہب نے دشمنی رسول میں آپﷺ کی بیٹیاں لینے ہی سے انکار کر دیا تو وہ ان کا خسر اور نسبتی باپ کیسے بنا؟
سوال نمبر 552: اس فضیلت میں ابولہب کو خاص مقامِ فضیلت حاصل ہو جاتا ہے؟
جواب: ہرگز نہیں۔ اس کی بدبختی اجاگر ہوتی ہے کہ اس نے نبوتﷺ کے ان معصوم نوروں کو گھر نہ آنے دیا۔ ابولہب کی فضیلت شیعہ کے ہاں ہو گی جو کفر و شرک میں شیعہ کا ہاشمی پیشوا تھا اور بناتِ رسولﷺ کا دشمن اور منکرِ فضیلت تھا۔
سوال نمبر 553: رسولِ مقبولﷺ کی صحیح مرفوع حدیث پیش کریں کہ آنحضرتﷺ نے اپنی ان ربیبہ بیٹیوں کو نور فرمایا؟
جواب: ہمیں کیا ضرورت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضور اکرمﷺ کی نور چشم تب تسلیم کریں کہ ایسا فرمانِ رسولﷺ ملے ورنہ نہیں۔ رشتہ اولاد ظاہر ہونے کے لیے کسی بھی محاورہ اور لفظ کا استعمال کافی ہوتا ہے۔ خواہ وہ باپ کرے یا کوئی اور نورِ چشم، نورِ عین بیٹی کے لیے عربی، اردو، فارسی میں کثیر الاستعمال لفظ ہے۔ اسی محاورہ سے ان دو صاجزادیوں کو آپ کے دو نور کہا جاتا ہے۔ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ذوالنورین سے ملقب ہیں۔ اور حدیث صحیح مرفوع بھی موجود ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے اللہ نے وحی بھیجی کہ میں اپنی دو آنکھوں (نورِ چشم بیٹیوں) کو سیدنا عثمانؓ سے بیاہ دوں۔ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔
(ریاض النضرۃ: جلد، 2 صفحہ، 114 طبع مصر)
کریمتان لغت (مصباح اللغات: صفحہ، 746) میں دو آنکھوں کو کہتے ہیں۔ نور و لطافت میں بیٹی کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے اور نورِ چشم کا بیٹی پر اطلاق اسی وجہ سے ہے۔
سوال نمبر 554: حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کیوں سفیر بنائے گئے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذمہ داری کیوں قبول نہ کی؟
جواب: یہ طعن مطاعنِ فاروقی میں کرنا چاہیے تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے تو یہ سفارت باعثِ صد فضیلت ہے اولاً حضور اکرمﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ہی چنا تھا پتہ چلا کہ وہ کامل مومن اور پیغمبرﷺ و مومنین کے نمائندہ تھے لیکن وجہ معقول خود یہ عرض کی کہ میرا جانا بار آرو ثابت نہ ہو گا کیونکہ میرا مزاج تیز ہے قریش کو میرے ساتھ دشمنی ہے وہ مجھے چھیڑ کر جنگ کریں گے۔ میری برادری بھی وہاں نہیں ہے تو صلح کی بجائے حالات اور کشیدہ ہو جائیں گے۔
لیکن اگر آپﷺ حضرت عثمانؓ کو بھیجیں گے تو مفید رہے گا کیونکہ یہ بردبار ہے ان کے برادری اور حمایتی بھی مکہ میں ہیں۔ ان کو اگر چھیڑا بھی گیا تو برداشت کر لیں گے یا پھر قوم اپنی تحفظ میں لے لے گی اور سفارت کا مفید نتیجہ سامنے آ جائے گا۔ حضور اکرمﷺ نے اس مشورہ پر عمل کیا۔
بہرحال دونوں بزرگوں کا ایمان نبی کریمﷺ کا ان پر اعتماد اور نمائندہ اہلِ اسلام ہونا ثابت ہوا جس کے شیعہ منکر ہیں۔ حضورﷺ نے سیدنا عثمانؓ کی طرف سے خود اپنا ہاتھ دوسرے پر رکھ کر بیعت کی اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا کام کرنے گئے ہیں تو حضورﷺ کا ہاتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے بہتر تھا۔ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 118)
سوال نمبر 555: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کیا ریاستی ذمہ داری رکھتے تھے؟
جواب: مدینہ کے مفتی، کابینہ خاص اور شورٰی کے ممبر تھے اور پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا آخری وصیت نامہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ہی لکھی اور تصدیق حضرت ابوبکرؓ نے کی۔ (تاریخِ اسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 121) تفصیل تاریخِ اسلام نجیب آبادی صفحہ 268 پر دیکھیں۔
سوال نمبر 556: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے مروان کو افریقہ کا خمس معاف کر دیا اور رشتہ داروں کو کافی مال دیا۔ کیا یہ قومی اثاثہ تھا یا ذاتی ملکیت تھا؟
جواب: نجشیش کی بات غلط ہے مروان نے پانچ لاکھ میں افریقہ کا خمس خرید لیا تھا۔ (ابنِ خلدون: جلد، 2 صفحہ، 129)
تاریخِ اسلام ندوی صفحہ 222 پر ہے بیت المال میں تصرف کے سلسلے میں جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں وہ نہایت مسخ شدہ شکل میں ہیں۔ اصلی شکل میں وہ قابلِ اعتراض نہیں مثلاً مروان کو طرابلس کے مالِ غنیمت کا کوئی حصہ آپؓ نے عطا نہیں کیا تھا بلکہ اس نے پانچ لاکھ میں خریدا تھا۔
رشتہ داروں کو عطایا ذاتی مال سے دیتے تھے خود اس اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں:
لوگ کہتے ہیں کہ میں اپنے خاندان والوں سے محبت کرتا ہوں اور ان کو دیتا لیتا ہوں لیکن میری محبت نے مجھے ظلم کی طرف مائل نہیں کیا بلکہ میں ان کے واجبی حقوق ادا کرتا ہوں۔ جو کچھ میں ان کو دیتا ہوں میں اپنے ذاتی مال سے دیتا ہوں۔ مسلمانوں کا مال نہ میں اپنے لیے حلال سمجھتا ہوں نہ کسی دوسرے کے لیے۔ میں رسول اللہﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی اپنے ذاتی مال سے ان کو بڑی بڑی رقمیں دیتا تھا حالانکہ اس زمانے میں مَیں بخیل و حریص تھا اور اب جب کہ خاندانی عمر کو پہنچ چکا ہوں۔ زندگی ختم کے قریب ہے اور اپنا تمام سرمایہ اپنے اہل و عیال کے سپرد کر دیا ہے تو ملحدین ایسی باتیں مشہور کرتے ہیں۔
(تاریخِ طبری: صفحہ، 2952 و ندوی: صفحہ، 222)
سوال نمبر 557: تاریخ الخلفاء میں ہے کہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے لوگوں کی جاگیریں مقرر کیں۔ تو اسلام میں سب سے پہلے جاگیرداری کا بانی کون ہوا؟
جواب: کچھ لوگوں کو خدماتِ دینیہ کے صلے میں زمین الاٹ کر دینا فی نفسہٖ گناہ نہیں۔ بلکہ سنتِ نبویﷺ سے ثابت ہے۔ خیبر کی فتح کے بعد آنحضرتﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک قطعہ اراضی ثمغ نامی مرحمت فرمایا تھا۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 196)
نیز اسلام کا قانون من احیا ارض الموات فھی له۔ جو بنجر زمین کو آباد کر کے قابلِ کاشت بنائے تو وہ اس کا مالک ہو جاتا ہے۔ بہت یہ عراقی زمینیں اس طرح آباد ہو کر جاگیریں بنیں۔ وہ جاگیردارانہ نظام مزموم ہے جس میں ظلم تعدی کی خاطر اپنے ٹوڈیوں کو زمینیں دے دی جائیں اور وہ عوام کے حقوق کا استحصال کریں جیسے انگریزوں کے دور میں کہیں شیعہ رئیس جاگیردار بنائے گئے۔
سوال نمبر 558: جمعہ کی اذان اوّل کب رائج ہوئی؟ دورِ رسالت اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اذان کا رواج کیوں نہ تھا؟
جواب: عہدِ نبوتﷺ میں اور شیخینؓ میں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے کی بہ نسبت مسلم آبادی محدود تھی، شر اتنا بڑا اور ترقی یافتہ نہ تھا۔ پہلی اذان کے وقت لوگ عموماً موجود ہوتے اور خطبہ معاً شروع ہو جاتا۔ عہدِ عثمانی میں تمدنی وسعت ہوئی۔ کاروبار میں انہماک ہوا۔ اذان پر لوگ جمع ہوتے ہوتے خطبہ سے محروم ہو جاتے تو دوسری اذان کے اضافے سے مکمل خطبہ سننے میں سہولت پیدا ہو گئی۔ سیدنا عثمانؓ خلیفہ راشد ہیں۔ اس کا اضافہ آپ کے لیے درست تھا۔ حضورﷺ کا فرمان ہے: لوگو تم میری سنت پر چلو اور میرے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقہ پر چلو۔ (ترمذی، ابوداؤد، احمد)
سوال نمبر 559: نمازِ عید سے قبل کس بادشاہ نے خطبہ خلافِ سنت پڑھا؟
جواب: سیوطیؒ نے اولیاتِ سیدنا عثمانؓ میں یہ بات لکھی ہے مگر دیگر مورخین اس سے مروان یا عبدالملک کی طرف نسبت کرتے ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت نہیں کرتے بالفرض اگر کبھی ایسا ہوا تو یہ اصطلاحی خطبہ نہ تھا۔ بلکہ بطورِ وعظ و تذکیر خطاب تھا۔ جیسے ہم آج کل عید و جمعہ سے پہلے تقریریں کرتے ہیں۔
سوال نمبر 560: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ولیدؓ شرابی کو کوفہ کا گورنر کیوں بنایا؟
جواب: سیدنا ولیدؓ میں انتظامی لیاقت کافی تھی اور اس کی شراب نوشی بعد میں ظاہر ہوئی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے متلون مزاج کوفی شاکی تھے۔ لہٰذا ان کے بجائے سیدنا ولید رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ پھر طبری کی تحقیق میں الزام شراب نوشی جھوٹا تھا۔ چونکہ اس پر گواہیاں چل گئیں تو احادیث میں بطورِ واقعہ ذکر آ گیا اور حضرت ولید رضی اللہ عنہ پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں شراب نوشی کی حد جاری کرائی اور وہ پاک ہو گئے تو کسی پر کوئی اعتراض نہ رہا
سوال نمبر 561: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بہن کو طلاق کیوں دی؟
جواب: خانگی معاملات میں دخل دینا ذلیل لوگوں کا کام ہے نکاح و طلاق کے واقعات ہر خاندان میں ہوتے رہتے ہیں۔ بتائیے خواہر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے خاوند سیدنا ابنِ جعفر نے کیوں طلاق دی تھی؟ تاریخ میں وجہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی مصر سے معزولی لکھی ہے۔
سوال نمبر 562: تاریخِ اعثم کوفی میں ہے کہ حضرت عمارؓ کو سیدنا عثمانؓ نے اتنا پٹوایا کہ مرضِ فتق ہو گیا۔ کیوں کیا سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں؟
جواب: اعثم کوفی رافضی ہے۔ روایت حجت نہیں۔ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں۔ اگر غلط فہمی سے کسی صحابی نے ایسی بات کی جو قابلِ مواخذہ تھی جیسے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سبائیوں کی بغاوت و انتشار پسندی سے متاثر ہو رہے تھے اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کچھ سزا دی ہو تو بحیثیتِ خلیفہ و حاکم ایسا حق رکھتے تھے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے بھی سیاسی مصالح کی بناء پر عمال کو اعلانیہ سزا دی تھی۔ تاریخِ طبری جلد 4 صفحہ 399 پر ہے۔ کہ سیدنا عمارؓ اور عباس بن اتیبہ بن ابی لہب کے درمیان جھگڑا اور گالی گلوچ ہوا۔ حضرت عثمانؓ نے دونوں کو تادیباً مارا تو اس سے آلِ عمار اور آلِ عتیبہ میں دشمنی ہو گئی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی یہی ناراضگی بنی۔
سوال نمبر 563: حضرت ابوذرؓ کو سیدنا عثمانؓ نے ملک بدر کیوں کیا؟
جواب: جھوٹا طعن ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ از خود ربذہ میں جا ٹھہرے تھے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ جائز سرمایہ داری کے بھی خلاف تھے۔ ان کے مشرب میں کل کے لیے کچھ اٹھا رکھنا جائز نہ تھا وہ شام میں سرمایہ داری کے خلاف وعظ کرتے پھرتے تھے۔ (جو بولتا ڈنڈا دے مارتے تھے) اس سے بدامنی پھیلنے کا اندیشہ تھا اس لیے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ ان کو شام سے بلا لیجیے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے امنِ عامہ کے خیال سے اپنے پاس بلا لیا اور فرمایا کہ آپ میرے پاس رہیے۔ آپ کی کفالت میں کروں گا لیکن وہ ایک بے نیاز بزرگ تھے جواب دیا مجھے تمہاری دنیا کی ضرورت نہیں ہے اور خود مدینہ کے قریب ایک ویرانہ ربذہ میں سکونت اختیار کر لی۔ (ابنِ سعد: جلد، 1 قسم اوّل صفحہ، 167 تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 221 تاریخِ اسلام نجیب آبادی: صفحہ، 246)
سوال نمبر 564: صحیح بخاری کتاب المناسک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے میں حضورﷺ کی حدیث کو کسی کے قول سے نہیں چھوڑ سکتا۔ ایسا کیوں فرمایا؟
جواب: یہ ایک فقہی مسئلہ میں مستحب اور افضل ہونے نہ ہونے کے بارے میں اختلاف کا ذکر ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مفرد حج کو افضل سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں براہِ راست احرام حج ہی کے لیے ہوتا ہے تو حجِ تمتع اور حجِ قِران سے تنزیہاً یہاں منع کرتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اختلاف تھا کہ سنتِ رسولﷺ تمتع اور قِران کی موجود ہے لہٰذا میں اسے نہیں چھوڑتا۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 212)
سوال نمبر 565: اذانِ جمعہ کا اجراء؟
جواب: جواب گزر چکا ہے۔
سوال نمبر 566: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے ایامِ حج منیٰ میں قصر نہ کی چار رکعت پڑھائیں۔ کیوں؟
*جواب:* سیدنا عثمانؓ نے قیام کی نیت کر لی تھی۔ نیتِ قیام سے بحکمِ نبویﷺ نماز پوری پڑھی جاتی ہے چنانچہ خود لوگوں کے جواب میں یہی وجہ بیان فرمائی۔ (مسند احمد بن حنبل: جلد، 1 صفحہ، 62)
سوال نمبر 567: حضرت مروانؓ بن حکم کو مدینہ واپس کیوں بلایا فدک کی جاگیر اسے کیوں دی؟
جواب: حضرت مروانؓ شیخینؓ کا کچھ نہ لگتا تھا نہ انہیں اس کی ضرورت تھی۔ مگر سیدنا مروانؓ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا چچا زاد بھائی تھا۔ مجرم اور در بدر شدہ اس کا باپ تھا حضرت مروانؓ نہ تھا وہ تو صغیر السِّن ہونے کی وجہ سے باپ کے ساتھ تبعاً در بدر ہوا تھا۔
پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حضور اکرمﷺ سے ان کے لیے معافی طلب کر لی تھی اور آپؓ کو مل گئی تھی جس کا دوسروں کو پتہ نہ تھا۔ اب حضرت عثمانؓ نے سابق اجازت اور صلہ رحمی سے بے قصور حضرت مروان رضی اللہ عنہ کو بلا لیا اور اس کی لیاقت و ہوشیاری سے کام لیا۔ یہ کوئی شرعاً گناہ نہیں ہے۔ مروانؓ کو فدک کی ادائیگی غلط الزام ہے۔ صحیح یہ ہے کہ سیدنا مروانؓ فدک کا والی اپنے دور میں ہوا اور عہدِ عثمانی میں فدک کا فائدہ بدستور بنو ہاشم اور فقراء اٹھاتے رہے۔
سوال نمبر 568: کیا یہ درست نہیں کہ عہدِ عثمانی میں ان کے سوا کسی کا تجارتی بیڑہ سمندر میں نہ چلتا تھا؟
جواب: ہماری نظر سے یہ تاریخی بات نہیں گزری۔ اگر ہو بھی تو دوسرا کوئی اتنا مالدار نہ ہو گا کہ وہ بیڑا بنا کر سمندر میں چلا سکے اجارہ داری کا طعن تب ہو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صراحۃً اوروں کو تجارتی جہاز چلانے سے منع کر دیا ہو۔ آپؓ عہدِ نبوت سے مالدار ترین تھے بیک دفعہ لاکھوں ہزاروں دراہم و دینار راہِ خدا میں خرچ کرتے تھے اور خدا دیتا بھی بے حساب تھا۔ یہ طعن تو ان کے مال و نعمت پر حسد کی پیداوار ہے۔
سوال نمبر 569: تاریخِ اسلام علامہ عباسی جلد 3 صفحہ 145 پر ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عوام الناس کو بارش کے پانی تک سے محروم کر دیا اور رشتہ دار فائدہ اٹھاتے رہے۔
جواب: اصل کتاب ہمارے پاس نہیں۔ ورنہ سائل کا دروغ ظاہر ہو جاتا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہود سے منہ مانگی قیمت پر کنوئیں خرید کر وقف کر دیئے صرف ایک پیالہ پانی اپنا حق سمجھا۔ بیت المال سے کبھی کھانا نہ کھایا۔ جو سامان ہوتا ہر کسی کو بقدرِ حصص تقسیم کر دیتے۔ ان پر بارش کا پانی بند کرنے کا ناپاک الزام شیعہ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ممکن ہے بات کا بتنگڑ اس سے بنایا ہو کہ بارشی پانی کے جو بند، تالاب، پہاڑی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ کوئی بند خاص اپنی زمین میں ہو اور لوگوں کے لیے دوسرے بند بھی ہوں تو اس بند کو رشتہ داروں کے لیے وقف خاص کیا ہو تو دشمنوں میں بے پرکی اڑائی ہو۔ حالانکہ یہ اپنی ملک میں تصرف ہے۔ شرعاً درست ہے۔
سوال نمبر 570: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی پسلیاں کس خطا پر مضروب کی گئیں؟
جواب: ناپاک بہتان ہے۔ صرف اتنی بات ہے کہ حضرت عبداللہؓ اپنا مصحف الگ رکھتے تھے اور اس کی تعلیم و اشاعت چاہتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مانگا انہوں نے نہ دیا تو قرآن کو اختلاف سے محفوظ کرنے کی خاطر تعدیب سے کام لیا کہ وظیفہ بند کر دیا۔ جس کا خلیفۃ المسلمین کو حق ہے اور حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما کو جلالتِ شان کے باوجود انکار نہ کرنا چاہیے تھا۔ (دیکھیے تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 221)
سوال نمبر 571: حضرت اُم المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کے وظیفے میں کمی کیوں کر دی گئی؟
جواب: تمہاری لگائی بجائی اور مسلمان دشمنی قابلِ داد ہے۔ پہلے تو کبھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے لیے اُم المؤمنین (قرآنی لقب) اور حضرت کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ دم گھٹ کر بی بی (سیدہ) عائشہؓ ہی لکھتے ہیں اب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا مخالف جتلانے کے لیے مومنوں کی ماں اور قابلِ احترام حضرت مان لیا۔ ذرا اسی پر پکے ہو جائیے۔ منافقت چھوڑ دیجیے۔ ماں بیٹے کے معاملات میں آپ کو دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ یہ الزام و بہتان ہمیں کسی کتاب میں نہیں ملا حوالہ آپ نے بھی نہیں دیا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔
سوال نمبر 572: ابنِ ابی سرح کے خلاف عوامی احتجاج کا جواب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا دیا؟
جواب: اس کی معزولی کا پروانہ لکھ دیا۔