خیال شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خیال شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 3

شیعہ کا اس بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ جنگِ احد کے معرکہ میں سارے کا سارا لشکر بھاگ گیا تھا، صرف حضرت علیؓ اور ابو دجانہ انصاریؓ باقی رہ گئے تھے۔ جیسا کہ فروع کافی: جلد 3، صفحہ 149 میں درج ہے: "انهزم الناس يوم احد الا علی وابو دجانة الانصاری" 

(احد کے دن بغیر علیؓ اور ابو دجانہؓ انصاری کے سب لوگ بھاگ گئے) 

سو اگر شیعہ کا یہ قول مان لیا جائے اور یہ الزام ناقابل عفو جرم ٹھہرایا جائے تو حضرت علیؓ کے علاوہ صرف ابو دجانہؓ مسلمان رہ جاتے ہیں اور شیعہ کے مسلمہ خالص مومنین مقدارؓ، ابوذرؓ، سلمانؓ، عمارؓ وغیرہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ وفاتِ رسولﷺ کے بعد بقول شیعہ صرف یہی معدودے چند اشخاص مسلمان رہ گئے تھے۔ باقی سب مرتد ہو گئے تھے اور اس سے ابو دوجانہؓ الانصاری بھی مستثنیٰ نہیں رکھے گئے۔ (سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ)

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب فسانے یار لوگوں کے گھڑے ہوئے اور بالکل خرافات ہیں جن کی کوئی اصلیت نہیں۔ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ جنگِ احد میں اصحابِ ثلاثہؓ حضرت علیؓ کی طرح ثابت قدم رہے تھے البتہ جن لوگوں کے پاؤں بوجہ ان کی غلطی کے لغزش کھا گئے تھے اور ریٹائرڈ ہو گئے تھے وہ بھی دوبارہ آ کر جم گئے اور دشمن سے سینہ سپر ہو کر لڑے اور اس وجہ سے ان کے غلطی معاف ہو گئی اور (وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ‌) کا سرٹیفیکیٹ عطا ہوا۔

17: وَقَذَفَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ  ۞

(سورۃالحشر: آیت 2)

ترجمہ: اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھ سے بھی اجاڑ رہے تھے۔ 

اس آیت میں جن مسلمانوں نے رسولِ پاکﷺ کے حکم سے یہود کے گھروں کو برباد کیا تھا، خدا ان کے ایمان کی گواہی دیتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ ان مومنوں کے سرگروہ اور قافلہ کے سردار تھے اور انہی کی شمولیت اور تدبیر سے یہود کے گھر تباہ کیے گئے تھے، افسوس کے قرآن جا بجا ان پاک نفوس کے فضائل بیان کرتا ہے مگر شیعہ کے دلوں میں ایسی مہر لگ گئی ہے کہ سمجھنے سے رہے۔

18: وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ۞

(سورۃآل عمران: آیت 104)

ترجمہ: اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

اب بتاؤ کہ کیا اصحابِ ثلاثہؓ میں یہ اوصاف نہ تھے؟ جبکہ انہوں نے اپنی زندگی اس کام میں وقف کر دی اور ملک کے ملک فتح کر کے ان میں توحید کی روح پھونک دی تھی تو وہ بمنطوق اس آیت کے مفلحون ماننے پڑیں گے۔

19: فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ ۙاَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌ ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞

(سورۃالمائدة: آیت 54)

ترجمہ: اللہ ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے۔

بتاؤ یہ قوم کون تھی؟ جو نبی کریمﷺ کے سچے دل سے محب اور نبی کریمﷺ ان سے محبت رکھتے تھے۔ کیا اصحابِ ثلاثہؓ اس کے مصداق نہیں؟ کیا اصحابِ رسولﷺ اور یارانِ غار کا نام دنیا میں یوں ہی مشہور ہو گیا؟ سوچو اور پھر سوچو۔

20: وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ وَمَا كَانُوۡۤا اَوۡلِيَآءَهٗ‌ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۞‏ 

(سورۃالأنفال: آیت 34)

ترجمہ: اور بھلا ان میں کیا خوبی ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے جبکہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں ہیں۔ متقی لوگوں کے سوا کسی قسم کے لوگ اس کے متولی نہیں ہو سکتے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔

بتائیے! مزید الحرام کے متولی کون لوگ تھے؟ جن کے متقی ہونے کی الٰہی شہادت مل رہی ہے۔ مسجد الحرام کے متولی بعد وفات نبویﷺ وہی آپﷺ کے خلفائے راشدینؓ تھے جن کو شیعہ نا فہمی سے منافقوں کا خطاب دیتے ہیں، حالانکہ رب العزت ان کو مُتَّقُوۡنَ کا لقب عطا فرما چکا ہے۔ یہی لوگ مسجد کے متولی رہے اور خدا کے گھر (کعبہ شریف) کی کنجیاں بھی انہی کے ہاتھ میں رہیں اور بشہادتِ الٰہی مسجد الحرام کعبۃ اللہ کے متولی متقین ہی ہو سکتے ہیں۔ (وَلٰكِنَّ الشِّيْعَةَ لَا يَعْلَمُوْنَ) 

21: وَمِنۡهُمُ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ النَّبِىَّ وَيَقُوۡلُوۡنَ هُوَ اُذُنٌ‌ قُلۡ اُذُنُ خَيۡرٍ لَّـكُمۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَرَحۡمَةٌ لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ‌ ۞

(سورۃالتوبۃ: آیت 61)

ترجمہ: اور انہی (منافقین) میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبیﷺ کو دکھ پہنچاتے ہیں اور ان کے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ: وہ تو سراپا کان ہیں۔ کہہ دو کہ: وہ کان ہیں اس چیز کے لیے جو تمہارے لیے بھلائی ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کی بات کا یقین کرتے ہیں اور تم میں سے جو (ظاہری طور پر) ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے وہ رحمت (کا معاملہ کرنے والے) ہیں۔ 

صفحہ 1 از 3