ابن ملکا اور اس کے متبعین کا فلاسفہ کے اسلاف پر رد - ردِ…

ابن ملکا اور اس کے متبعین کا فلاسفہ کے اسلاف پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

ابن ملکا اور اس کے متبعین کا فلاسفہ کے اسلاف پر رد 

رہے ابو البرکات یعنی صاحب ’’المعتبر‘‘ اور اس کے امثال تو وہ لوگ اس باب میں ان دونوں فریقین کی بہ نسبت اچھے قول کو اختیار کرنے والے ہیں اس لیے کہ ایک تو وہ لوگ ان کی تقلید نہیں کرتے دوسرے وہ عقلی نظر کے طریقے پر چلے ہیں بغیر تقلید کے اور انوارِ نبوت سے بھی ان کو استفادہ حاصل ہے پس اس نے اللہ تعالیٰ کے لیے جزئیات کا علم ثابت کیا اور اپنے سلف پراس نے اچھے طریقے سے رد کیا ،ایسے ہی اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے افعال کو بھی ثابت مانا اور اس کے سلف میں سے جو خطا کرنے والے تھے ان کی خطا کو واضح طور پر بیان کر دیا اور اسبابِ حوادث میں ان کے قول کے فساد کے وہ قائل ہوئے پس وہ ان لوگوں کے طریقے سے اس بات کی طرف پھر گئے کہ اس نے رب تعالیٰ کے لیے ایسے ارادات کو ثابت کر دیا جو حوادث کے لیے موجب ہیں یعنی حوادث کو پیدا کرنے والے ہیں اور اس کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور ان کا قول اس مقام کے علاوہ اور کسی جگہ میں تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکا ہے ۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ :بے شک حوادث دھیرے دھیرے وجود میں حادث ہوئے بوجہ ان اسبابِ موجبہ کے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہیں پس وہ ایسے امور کو ثابت نہیں کرتے جو دھیرے دھیرے حادث ہوں ،مختلف الحقائق ہوں اورایک ذاتِ بسیطہ سے صادر ہوں جس کے لیے نہ کوئی صفت اور نہ کوئی فعل ثابت ہو جس طرح کہ اگلوں نے کہا تھا بلکہ وہ فلاسفہ کے بڑے بڑے آئمہ کے قول کے موافق ہیں وہ آئمہ جو ارسطوسے پہلے تھے جو اللہ کی ذات کے لیے صفات اور افعال کو ثابت کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ حادثِ معین اسی وقت پیدا ہواجب اس کی علت تامہ موجود ہوئی جو کہ صرف اور صرف اس کے حدوث کی حالت میں تام بنتی ہے اور علت کا تمام بوجہ اس کے ارادہ اور افعال کے ہے جو رب تعالیٰ پیدا فرماتے ہیں اور اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے ،اسی وجہ سے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ بات ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس عالم کے لیے مدبر بنیں مگر اس کے ارادوں اور اس کے علوم کے حدوث کے قول پر (یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادوں اور علوم کو حادث مانے بغیر اس کو اس عالم کامدبر یعنی انتظام سنبھالنے والا نہیں کہا جاسکتا )۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب میں سے یا دوسرے طوائف کے لوگوں میں سے جس شخص نے بھی اس بات کی نفی کی ہے تو اس نے کسی دلیلِ عقلی کے ذریعے نفی نہیں کی جو اس پر دلالت کرے بلکہ محض اللہ کی ذات کی تنزیہ اور اس کے اجلال اور توقیر کے لیے کی ہے جوکہ بالکل ایک مجمل اور ناتمام بات ہے اور یقیناً اللہ کے ذات کی تنزیہ اور اس کا اجلال تو واجب ہے پس ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ حادثِ ثانی کے وجود کے وقت تو علت ِ تامہ کا وجود ضروری ہے اور صرف اول کا عدم کافی نہیں تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ارادہ جاز مہ اور قدرت تامہ کا کمال تو حاصل ہو چکا ہے جس نے مقدور کے حدوث کو ثابت کر دیا ۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ فاعل کی حالت (حادثِ ثانی کے حدوث سے )پہلے اور (حادثِ ثانی کے حدوث کے )بعد میں ایک طرح ہے اور اس میں ایک ایسے امر کا کوئی تجدد نہیں آیا جس کے ذریعے وہ حادثِ ثانی کو وجود دے بلکہ فاعل کے احوال متنوع اور مختلف ہوتے رہتے ہیں اور خود اس کی ذات ہی تو ان احوال کے لیے موجب ہے جو اس کے ساتھ قائم ہے لیکن حالتِ ثانیہ کا وجود اس حال کے عدم کے ساتھ مشروط ہے جو اس کے ضد اور مخالف ہے اور نفسِ فاعل ہی امورِ وجودیہ کا موجب ہے جو کہ حادث ثانی کے لیے موجب ہے پس واجب الوجود ذات احداث کی صفت میں غیر کی طرف محتاج نہیں ہے جیسے کہ ممکنات کا حال ہے بلکہ خود اس کی ذاتِ واجبہ ہی ہر حادث کے لیے موجب اور محدث ہے ۔

حق سبحانہ وتعالیٰ ملزوم اور اس کے لوازم دونوں کا فاعل ہیں اور دو متنافین میں سے ہر ایک کا فاعل ہیں دوسرے کے عدم کے وقت اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتاہے لیکن باتفاق عقلاء اجتماع ضدین تو کوئی شے نہیں بلکہ وہ تو جسم کو حرکت دینے پر قادر ہے اس کی تسکین کے بدلے میں اور اس کی تسکین یعنی اس کی حرکت کو ختم کرنے پر قادر ہیں اس کی تحریک کے بدلے میں (یعنی ہر ایک پر علی سبیل البدل قادر ہیں )اور اسی طرح اس کو کالا رنگ دینے پر قادر ہیں اس کے تبییض (سفید رنگ دینا )کے بدلے میں اور اس کے تبییض یعنی سفید رنگ دینے پراس کے تسوید کے بدلے میں اور وہ احد الضدین کو وجود دے سکتے ہیں دوسرے کے بغیر جب کہ اس کا وہ ارادہ تام وجود میں آجائے جو قدرتِ کاملہ کے ساتھ ہوتی ہے ۔

اس کی ذات ہی تو ان تمام امور کے لیے موجب اور محدث ہے اگرچہ اس کا فعلِ اول کا احداث ثانی کے حصول میں شرط ہے پس اس کے اندر وہ غیر کی طرف محتاج نہیں ہے بلکہ اس ذات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ سب اس کی طرف محتاج ہے اور وہ خود اپنے تمام ماسوا سے مستغنی اور بے نیاز ہے۔

ان لوگوں نے ان اشکالات سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جو ان کے سلف اور اگلوں پر وارد ہوئے تھے اور ان کے تمثیل کے فساد سے اور یہ لوگ جب اپنے قول کی مثال اس امر کے ساتھ دیتے ہیں جو معقول ہوتا ہے مثلا حرکت ِ حیوان اور حرکتِ شمس تو ان کے اوپر پھر فرق کا اور نقض کا اور اس کے علاوہ دیگر امور کا اعتراض نہیں ہوتا جو کہ ان اگلوں کے اقوال پر ہوتا ہے لیکن ان سے یہ کہا جائے گا کہ تمہارے لیے عالم میں سے کسی شے کا قدم کہاں ثابت ہوتا ہے اور عقلیات میں کوئی ایسی بات نہیں پائی جاتی جو اس پر دلالت کرتی ہو اور وہ امور جو تم اور تمہارے امثال اور لوگ بھی ذکرکرتے ہیں وہ تو فعل کے دوام پر دلالت کرتے ہیں نہ کہ کسی فعل معین کے دوام پر اور نہ کسی مفعولِ معین کے دوام پر پس کہاں تمہارے لیے فلک کے دوام یا مادہ فلک کا دوام یا عقول یا نفوس کا دوام یا اس کے علاوہ دیگر ثابت ہوتے ہیں جو کہ ان لوگوں کا اختیار کردہ قول ہے جو قدم عالم کے قائل ہیں یعنی کہ وہ قدیمِ ازلی ذات ہے وہ ازل سے ہے اور ہمیشہ رہیں گے اور وہ رب تعالیٰ کے ساتھ مقارن ہیں اور اس اپنی قدم کے ساتھ قدیم ہیں اور اپنی ابدیت کے ساتھ ابدی ہیں ۔پس اولا تو ان سے بات کی جائے گی دلیل کے مطالبہ کی اور ان کے ہاں اس پر کوئی دلیلِ صحیح قطعا موجودنہیں ۔

صفحہ 1 از 4