سیدنا حسینؓ کی سخاوت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا حسینؓ کی سخاوت

  مولانا اقبال رنگونی

ایک دن سیدنا حسینؓ نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک فقیر آپؓ کے دروازے پر آیا اور اشعار کی صورت میں اپنی حاجت پیش کر کے امداد کا طالب ہوا آپؓ نماز پڑھ کر فوراً باہر آئے سائل کی حالت دیکھ کر غلام کو آواز دی کہ ہمارے خرچ اخراجات میں میں سے کچھ بچا کھچا ہو تو لے آؤ اس نے کہا کہ حضرت دو سو درہم باقی رہ گئے ہیں جو گھر کی ضروریات کے لیے ہیں آپؓ نے غلام سے کہا کہ وہ سب لے آؤ ہمارے گھر والوں کی بنسبت یہ شخص زیادہ حق دار ہے پھر آپؓ نے وہ درہم اس سائل کو دے دیے،

(مختصر تاریخ ابن عساکر: جلد 7 صفحہ 131 لابن منظور)

اور کہا کہ اس وقت ہمارے پاس اتنے ہی ہیں اور کم ہونے میں، میں معذرت کا طلب گار ہوں میرے پاس زیادہ ہوتے تو میں وہ سب دے دیتا۔

( تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 185)

ایک مرتبہ کسی شاعر نے سیدنا حسینؓ کی تعریف کی تو آپؓ نے اس کو بہت سا مال دیا اس پر کسی نے سیدنا حسینؓ سے کہا کہ آپؓ نے اتنا سارا مال دے دیا سیدنا حسینؓ نے کہنے والے کو سمجھایا کہ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں وہ یہ نا کہہ دے کہ تم فاطمہؓ بنت رسولﷺ اور علی بن ابی طالبؓ کی اولاد نہیں ہو اور پھر لوگ خواہ مخواہ اس بات کی تصدیق کرتے اور اس کو نقل کرتے اور یہ بات پھر ہمیشہ کے لیے کتابوں میں رہ جاتی اور بیان کرنے والوں کی زبان پر ہمیشہ رائج رہتی۔ سیدنا حسینؓ کا یہ حکمت بھرا جواب سن کر اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول کے بیٹے، خدا کی قسم! آپؓ مدح و ذم کی حقیقت مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ (الحسن و الحسین: صفحہ 60)

ایک مرتبہ طبقہ الشعراء کو رقم دینے پر آپ سے کہا گیا کہ آپؓ انہیں اتنی رقم نہ دیں تو آپؓ نے فرمایا:

کہ مال کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس سے کسی کی عزت محفوظ رہے۔

اِنَّ خَیْرَ الْمَالِ مَا وقی الْعِرْضَ

(المجالس و جواہر العلم لابوبکر الدینوری 333ھ، تاریخ ابن عساکر: جلد 4 صفحہ 323)

مدینہ منورہ کے آس پاس سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خدمت میں بہت سے چشمے تھے جو آپؓ نے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر رکھے تھے اور لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے تھے ان میں سے ایک چشمہ البغیغات کے نام سے مشہور تھا۔ یہ چشمہ جب سیدنا حسینؓ کے حصے میں آیا تو آپؓ نے اسے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفرؓ کو دے دیا کہ اب وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور ایک عرصے کے بعد پھر حضرت عبداللہ نے یہ چشمہ سیدنا معاویہؓ کو فروخت کردیا۔

(تاریخ مدینہ منورہ: جلد 1 صفحہ 138 لابن شبہ)

آپؓ ایک مرتبہ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں چند مساکین کو دیکھا کہ وہ خشک روٹیاں کھا رہے تھے جب آپؓ ان کے قریب آئے تو انہوں نے بھی آپؓ کو کھانے پر بلا لیا آپؓ سواری سے یہ کہتے ہوئے نیچے اترے کہ خدا متکبروں کو دوست نہیں رکھتے اور ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور کھانے میں شریک ہو گئے (ایک دوسری روایت کے مطابق آپؓ نے بوجہ صدقہ کھانے سے معذرت کر لی) پھر فرمایا کہ میں نے تمہاری دعوت قبول کر لی تم بھی میری دعوت قبول کرو اور ان سب کو اپنے گھر لے گئے اور خادمہ کو فرمایا کہ جو کچھ کھانے کے لیے موجود ہے سب لے آؤ انہوں نے کھانا کھایا پھر آپؓ نے انہیں اکرام کے ساتھ رخصت کیا۔ (جلد 2 صفحہ 110)

کسی نے سیدنا حسینؓ کے بیٹے کو سورۃ الحمد سکھا دی اور آپؓ نے اس سے وہ سورۃ سنی تو فرمایا کہ اس کو ہزار دینار طلا اور ہزار دینار رحلہ دینا، لوگوں نے کہا کہ اس کی مزدوری اتنی نہیں ہے آپؓ نے فرمایا: یہ اس عطا کے مقابلے میں جو اس نے میرے بیٹے کو تعلیم دی ہے کچھ بھی نہیں ہے۔ (ایضاً صفحہ 111)