Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی سیف البحر کی جانب لشکر کشی

  علی محمد الصلابی

سیف البحر کی جانب سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی لشکر کشی قریش کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے، اور لمبی مدت تک ان کے اقتصادی محاصرے سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فوجی حکمت عملی کا حصہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو تین سو سواروں کے ساتھ ساحل کی جانب بھیجا تاکہ وہ قریش کے قافلے کی تاک میں رہیں، وہ لوگ راستے ہی میں تھے کہ زاد سفر ختم ہونے لگا، ابوعبیدہؓ کے حکم کے مطابق فوج کا زادِ سفر اکٹھا کیا گیا جو دو تھیلی کھجور تھا، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ انھیں اس میں سے تھوڑا تھوڑا کھانے کے لیے دیتے تھے، تاآنکہ آخر میں ایک آدمی کے حصے میں صرف ایک کھجور آتی تھی، فوج والوں کو اس مشکل وقت کا پورا احساس تھا، اس لیے انھوں نے بغیر غصہ و ناراضی کشادہ دلی سے اس فیصلے کو قبول کر لیا، بلکہ اپنے قائد کے اس تنگ دستی والے منصوبے کو کامیاب کرنے میں پورا پورا حصہ بٹایا، اور کوشش کرنے لگے کہ ایک کھجور کو زیادہ سے زیادہ وقت تک باقی رکھیں۔

( السرایا و البعوث النبویۃ: صفحہ 118)

جابر رضی اللہ عنہ جو اس فوج کے ایک فرد تھے کہتے ہیں:ہم اس کھجور کو بچے کی طرح چوستے تھے پھر پانی پی لیتے تھے اور یہ ہمارے لیے دن بھر کافی ہوتا تھا۔

(شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد 13، صفحہ 84)

وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ایک کھجور سے کیا ہوتا ہے؟ جواب دیا، ختم ہو جانے کے بعد اس کے نہ ملنے کا ہمیں شدید احساس تھا۔

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 77)

وہ فوج درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہو گئی، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، ہم اپنی چھڑیوں سے درخت کے پتے توڑ کر پانی میں بھگو کر کھاتے تھے،

(شرح النووی: جلد 13 صفحہ 84)

 اس لیے اس فوج کا نام ’’جیش الخبط‘‘ رکھا گیا۔

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 78)

قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اس فوج میں تھے، اس معاملے نے ان کو کافی متاثر کیا، چنانچہ انھوں نے فوج کے لیے تین اونٹ ذبح کیے، پھر تین اونٹ ذبح کیے، پھر تین اونٹ ذبح کیے، پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے انھیں منع کردیا۔

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 78)

تاریخ ابن عساکر میں قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی مذکورہ سخاوت بالتفصیل مذکور ہے، چنانچہ داؤد بن قیس، ابراہیم بن محمد، خارجہ بن حارث سے مروی ہے۔کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کے ساتھ ساحلِ بحر کی جانب ایک خاص مدت کے لیے بھیجا، جس میں انصار و مہاجرین تھے، ان کی تعداد تین سو تھی، انھیں سخت بھوک سے دوچار ہونا پڑا، (یہ حالت دیکھ کر) قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کون مجھ سے اونٹوں کے بدلے کھجور خریدے گا، یہاں مجھے اونٹ دے دے میں اسے مدینہ میں کھجور دے دوں گا، چنانچہ قبیلۂ جہینہ کا ایک آدمی ملا، قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے چند اونٹ بیچ دو، میں مدینہ میں تمھیں چند وسق کھجور دے دوں گا۔ جہینہ کے اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم میں تمھیں نہیں پہچانتا، تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں سعد بن عبادہ بن ولیم کا بیٹا ہوں، اس جہنی شخص نے کہا: میں آپ کے نسب کو اچھی طرح جانتا ہوں، اور کچھ دوسری باتیں ذکر کیں، چنانچہ اس سے پانچ اونٹ خریدے، ہر اونٹ ایک وسق کھجور کے بدلے، اس جہنی بدوی نے آلِ ولیم کی سخت اور ذخیرہ کی ہوئی کھجور کی شرط لگائی، قیس رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کر لیا، اس نے کہا: اس پر انصار کے کچھ لوگوں کو گواہ بنا لو، ان کے ساتھ کچھ مہاجرین بھی تھے، قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے تم چاہو گواہ بنا لو، جنھیں اس نے گواہ بنایا ان میں سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، انھوں نے کہا: میں گواہ نہیں بنوں گا، یہ قرض لے رہے ہیں جب کہ ان کے پاس کوئی مال نہیں ہے، مال ان کے باپ کا ہے، اس پر جہنی نے کہا: اللہ کی قسم چند وسق کھجور کے لیے سعد اپنے بیٹے کو رسوا نہیں کریں گے، میں انھیں اچھی ذات اور اچھے اخلاق والا سمجھتا ہوں، قیس نے اونٹوں کو لے لیا اور ان کے لیے تین جگہوں پر اونٹوں کو ذبح کیا، ہر دن ایک اونٹ، جب چوتھا دن ہوا تو امیر نے انھیں روک دیا اور کہا: تمھارے پاس مال بھی نہیں ہے کیا تم چاہتے ہو کہ اپنا ذمہ توڑ دو؟

(تاریخ ابن عساکر: جلد 52، صفحہ 280)

دوسری روایت میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے اور کہا: میں تمھیں سختی کے ساتھ حکم دے رہا ہوں کہ اونٹوں کو ذبح نہ کرو، کیا تم چاہتے ہو کہ اپنا ذمہ توڑ دو؟ قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبیدہ! آپ کا کیا خیال ہے، ابوثابت جو لوگوں کا قرض ادا کر دیتے ہیں، بے سہاروں کا سہارا بنتے ہیں، قحط سالی میں کھانا کھلاتے ہیں کیا وہ فی سبیل اللہ مجاہدین کے لیے میری جانب سے چند وسق کھجور نہیں ادا کریں گے؟ قریب تھا کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے لیے نرم پڑ جائیں، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ سختی سے حکم دیں، چنانچہ سختی سے حکم دیتے ہوئے اونٹوں کو ذبح کرنے سے روک دیا، دو اونٹ باقی رہ گئے، ان پر باری باری سوار ہو کر قیس رضی اللہ عنہ مدینہ اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، انھوں نے پوچھا: بھوک کے وقت تم نے کیا کیا؟ کہا: میں نے اونٹ ذبح کیا۔ کہا: ٹھیک کیا۔ کہا: پھر کیا کیا؟ کہا: اونٹ ذبح کیا۔ کہا: ٹھیک کیا۔ کہا: پھر کیا کیا؟ کہا: اونٹ ذبح کیا۔ کہا: ٹھیک کیا۔ کہا: پھر کیا کیا؟ کہا: مجھے منع کردیا گیا۔ کہا: کس نے تمھیں منع کیا؟ کہا: میرے امیر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے۔ کہا: پھر کیا ہوا؟ کہا: ان کا خیال تھا کہ میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے، مال تو میرے والد کا ہے، تو میں نے کہا: میرے والد دور کے لوگوں کا قرض ادا کر دیتے ہیں، بے سہاروں کا سہارا بنتے ہیں، قحط سالی میں کھانا کھلاتے ہیں، کیا وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کریں گے؟ کہا: تمھیں چار باغ دے رہا ہوں، جن میں سے کمتر باغ ایسا ہے جس سے تم پچاس وسق کھجور توڑ سکتے ہو۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 52، صفحہ 280)

 بدوی قیس رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا تھا، اسے مطلوبہ پانچ وسق کھجور دی، اسے سواری مہیا کردی اور کپڑا بھی پہنایا۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 52، صفحہ 280)

اس واقعے میں بہت ساری عبرت انگیز اور سبق آموز باتیں ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:

أ: دعاۃ کو صبر کی ضرورت، اس لیے کہ وہ بہت ساری مشقتوں سے گزرتے ہیں۔

ب: بچوں کو سخاوت، انسانیت اور مکارم اخلاق کی تربیت دینے کی اہمیت، سعد رضی اللہ عنہ کی جانب سے اپنے بیٹے قیس رضی اللہ عنہ کی تربیت میں یہ چیز نمایاں ہے، چنانچہ انھوں نے ان کو بہت سارا مال اس لیے دے دیا کہ انسانیت اور سخاوت سے متعلق ان کی ہمت افزائی کریں۔

ج: نیک بندے کے پاس پاک و صاف مال ہونے کی اہمیت، اگر سعد رضی اللہ عنہ کے پاس زیادہ مال نہ ہوتا تو قیس رضی اللہ عنہ بھوک کے بحران کو حل کرنے میں حصہ نہیں بٹا سکتے تھے۔

د: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے:

اَللّٰہُمَّ ہَبْ لِیْ حَمْدًا وَ مَجْدًا لَا مَجْدَ إِلَّا بِفَعَالٍ، وَ لَا فَعَالَ إِلَّا بِمَالٍ، اَللّٰہُمَّ لَا یُصْلِحُنِیَ الْقَلِیْلُ۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 52 صفحہ 284)

’’اے اللہ! میں تجھ سے قابل تعریف کام اور عزت و شرافت کا طالب ہوں، عزت و شرافت بغیر اچھے کاموں کے ناممکن ہے، اور اچھے کام بغیر مال کے ناممکن ہیں، اے اللہ میرے لیے کم مال مناسب نہیں۔‘‘