منصب خلافت اور خلیفہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

منصب خلافت اور خلیفہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

امتِ اسلامیہ نے اپنے امور کی تنظیم اور مصالح کی رعایت و نگرانی کے لیے جو طرزِ حکومت اور اسلوب سیاست اختیار کیا اور اس پر اجماع و اتفاق کیا وہ اسلامی خلافت کا منہج ہے۔ امت کو جب اس کی ضرورت پیش آئی اور اس پر مطمئن ہوئے تو خلافت کا وجود ہوا، اسی لیے رسول اللہﷺ کا خلیفہ منتخب کرنے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جلدی کی۔ امام ابو الحسن ماوردی فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کی قدرت بڑی بے پایاں ہے امت کو اس قائد کے اختیار کرنے کی طرف متوجہ کیا جس کو نبی کی نیابت عطا کی اور اس کے ذریعہ سے ملت کی حفاظت کی، اسی کو سیاست کی باگ ڈور عطا کی تا کہ دین کی حفاظت ہو سکے اور امت صحیح بات پر اکٹھی ہو جائے۔ پس امامت ایک ایسی اصل قرار پائی، جس پر ملت اسلامیہ کے قواعد کا استقرار ہوا اور عام لوگوں کے مصالح منظم ہوئے، یہاں تک کہ عام امور کے اندر ثبات و استقرار آیا اور اس سے خاص امارتیں وجود میں آئیں۔

(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ، 3)

امتِ اسلامیہ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ رسول اللہﷺ کی وفات کی وجہ سے جو مشکل حالات رونما ہوئے تھے ان کا مقابلہ کرے اور بڑی تیزی اور حکمت کے ساتھ ان کا علاج کرے اور اختلاف و انتشار کے لیے موقع نہ چھوڑے کہ جس سے لوگوں کے نفوس میں شکوک و شبہات جنم لیں اور ضعف و کمزوری کو موقع نہ دے کہ وہ رسول اللہﷺ کے قائم کردہ اسلامی قلعہ پر اثر انداز ہو۔

(عصر الخلفاء الراشدین، د، فتحیۃ النبراوی صفحہ، 22)

خلافت چونکہ اسلامی نظام حکومت ہے اس لیے اس کے اصول و مبادی اسلامی دستور کتاب و سنت سے ماخوذ ہیں۔

(عصر الخلفاء الراشدین، د: فتحیۃ النبراوی: صفحہ، 23)

فقہائے امت نے اسلامی خلافت کی اساس و بنیاد کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ شورائیت اور بیعت یہ دو اصول ہیں جن کی طرف قرآن پاک میں اشارہ کیا گیا ہے۔

(عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ، 23)

منصب خلافت پر امامت و امارت کا اطلاق بھی ہوتا ہے۔ خلافت کے وجوب پر امت اسلامیہ کا اجماع ہے اور مسلمانوں پر خلیفہ کی تعیین فرض ہے تا کہ وہ امت کے مسائل کی نگرانی کرے، حدود قائم کرے، اسلامی دعوت کی نشر و اشاعت کا اہتمام کرے اور جہاد کر کے دین و امت کی حفاظت کرے، شریعت کا نفاذ کرے، لوگوں کے حقوق کی نگرانی کرے، مظالم کو دور کرے، ہر فرد کی ضروریات کو مہیا کرے۔

یہ کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔

(الخلافۃ و الخلفاء الراشدون: صفحہ، 58)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ.

(سورۃ النساء: آیت نمبر، 59)

ترجمہ: اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول اللہﷺ کی اور تم میں سے امر والوں (حکام) کی۔

اور ارشاد ربانی ہے،

يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ۔

(سورۃ ص: آیت نمبر، 26)

ترجمہ: اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا، تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔

اور رسول اللہﷺ نے فرمایا:

من خلع یدا من طاعۃ لقی اللہ یوم القیامۃ لا حجۃ لہ ، ومن مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃ۔

ترجمہ: جس شخص نے امام وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا قیامت کے دن اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جس کی گردن میں کسی امام وقت کی بیعت نہیں اور اسی حالت میں وہ مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

(مسلم: جلد، 3 صفحہ، 1477/1851)

رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مسئلہ خلافت کے سلسلہ میں آپﷺ کی تدفین کا انتظار نہ کیا بلکہ امام و خلیفہ کے انتخاب میں جلدی کی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبولِ خلافت کا سبب بیان کرتے ہوئے یہ وضاحت فرمائی کہ خلیفہ کے عدم تعیین کی صورت میں امت کے اندر فتنہ رونما ہونے کا خوف تھا۔

(الخلافۃ والخلفاء الراشدون: صفحہ، 59)

چنانچہ امام شہرستانی فرماتے ہیں نہ تو حضرت ابوبکرؓ کے دل میں اور نہ کسی اور کے دل میں یہ خیال آیا کہ زمین کا بغیر خلیفہ کے ہونا جائز ہے۔ یہ سب باتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب اس بات پر متفق تھے کہ امام کا ہونا ضروری ہے تو اس طریقہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ اجماع امام مقرر کرنے کے وجوب پر دلیل قاطع ہے۔

(المِلَل والنِّحل للشُّہرستانی: جلد، 7 صفحہ، 83 نظام الحکم، محمود الخالدی، صفحہ، 248/237)

اور دشمنانِ اسلام جو یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ قیادت و سیادت کے لالچ نے لوگوں کو نبی کریمﷺ کی تدفین سے ہٹا کر خلافت کے مسئلہ میں مشغول کر دیا یہ بالکل بے بنیاد ہے، صحت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

(الخلافۃ والخلفاء الراشدون: صفحہ، 49)

علامہ ابنِ خلدون خلافت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں، خلافت اخروی اور دنیوی مصالح میں شرعی فکر و نظر کے مقتضیات پر تمام لوگوں کو ابھارنا و تیار کرنا ہے، کیونکہ دنیا کے جملہ امور شارع کے نزدیک آخروی مصالح کی اساس پر ہی معتبر ہیں، لہٰذا خلافت حقیقت میں دین اسلام کی حفاظت اور دنیا کی سیاست میں صاحب شریعت کی نیابت ہے۔

(المقدمۃ لابن خلدون: صفحہ، 191)

علامہ ابو الحسن علی ندوی نے نبی کریمﷺ کی خلافت کی شرائط اور اس کے تقاضوں کو بیان کیا ہے اور سیرت صدیقی کی روشنی میں دلائل و براہین سے ثابت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اندر خلافت و امامت کی تمام شرائط موجود تھیں، ہم یہاں اختصار کے ساتھ ان شرائط کو بیان کریں گے، ان کے شواہد و دلائل کو ذکر نہیں کریں گے، جن کو علامہ ندویؒ نے ذکر کیا ہے، کیونکہ ان کو اس کتاب کے مختلف مقامات پر ہم بیان کر چکے ہیں۔ ان شرائط میں سے اہم ترین یہ ہیں،

صفحہ 1 از 3