سیدنا علی رضی اللہ عنہ فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں - دفاعِ…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

لفتح مکہ کے موقع پر متعدد پہلوؤں سے حضرت علیؓ نے اپنا کردار نبھایا، ذیل میں انھی مواقف پرروشنی ڈالی جارہی ہے۔

1: قریش کے مفاد کی جاسوسی کو ناکام بنانا:

حسن بن محمدؒ بن علیؓ، عبید اللہ بن ابو رافع سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علیؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے، زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہما کو اللہ کے رسولﷺ نے روضۂ خاخ جانے کا حکم دیا اور کہا کہ وہاں اونٹ پر سوار ایک عورت جارہی ہے اس کے پاس ایک خط ہے، اسے اس سے چھین لاؤ، ہم تیزی سے اپنے گھوڑوں کو ایک دوسرے سے آگے نکالتے ہوئے وہاں پہنچے، وہاں ہم نے اس عورت کو پا لیا ہم نے کہا: خط نکالو، عورت نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہم نے کہا: خط دے دو، ورنہ ہم کپڑے اتار کر تمھاری تلاشی لیں گے۔ چنانچہ اس نے سر کا جوڑا کھولا اور بال کے اندر سے خط نکال کر دے دیا، ہم وہ خط لے کر اللہ کے رسولﷺ کے پاس آئے، آپﷺ نے خط کھولا تو دیکھا کہ حاطب بن ابی بلتعہؓ کی طرف سے مشرکین مکہ کے نام لکھا ہے اور اس میں اللہ کے رسولﷺ کی بعض تیاریوں کا ذکر ہے۔ آپﷺ نے حاطب کو بلایا اور کہا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ حاطب نے کہا: میرے متعلق فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کیجیے: واقعہ یہ ہے کہ میں قریش میں ایک اجنبی کی حیثیت سے تھا اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں دور یا نزدیک سے ان کا کوئی نہ کوئی قریبی مکہ میں موجود ہے جو ان کے بال بچوں کی مدد کرتا ہے، پس چونکہ ان لوگوں سے میرا کوئی نسبی و خاندانی تعلق نہ تھا اور میرے اہل و عیال وہیں تھے، میں نے اس لیے سوچا کہ کیوں نہ ان کے ساتھ کوئی احسان کر دوں کہ جس کے بدلہ وہ ہمارے بال بچوں کی مدد کریں۔ آپ یقین کریں کہ میں نے کسی کفر نفاق یا ارتداد و دغا کی وجہ سے ایسا نہیں کیا ہے۔

 آپﷺ نے فرمایا: إِنَّہُ قَدْ صَدَقَکُمْ یہ سچ کہہ رہے ہیں۔ 

سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں میں اس منافق کی گردن ماردوں۔ آپﷺ نے فرمایا: 

إِنَّہُ قَدْ شَہِدَ بَدْراً، وَ مَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ اللّٰہَ قَدِ اطَّلَعَ إِلَی أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔

(مسند أحمد: الموسوعۃ الحدیثیہ حدیث نمبر 600)

’’یہ بدر میں حاضر ہو چکے ہیں، تمھیں کیا معلوم کہ اللہ نے ان پر نظر کرم کی، اور کہا: جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔‘‘

2: اے ام ہانی جسے تم نے امان دے دی ہم نے بھی اسے امان دی:

سیدنا علیؓ کی ہمشیرہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب اللہ کے رسولﷺ مکہ کے بالائی حصہ (کدائی) میں داخل ہوئے اس وقت میرے سسرالی رشتہ بنی مخزوم کے دو آدمی حارث بن ہشام اور زبیر بن امیہ بھاگ کر میری پناہ میں آگئے، وہ اس وقت ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی کی زوجیت میں تھیں، میرے بھائی حضرت علیؓ میرے پاس آئے اورکہا: اللہ کی قسم میں ان دونوں کو ضرور قتل کروں گا، میں نے ان دونوں کو گھر میں چھپا دیا، پھر اللہ کے رسولﷺ کے پاس آئی، آپﷺ مکہ کے بالائی حصہ پر قیام فرما تھے اور ایک ٹب پانی سے جس میں گوندھے ہوئے آٹے کا اثر تھا، آپﷺ غسل فرما رہے تھے۔ آپﷺ کی بیٹی فاطمہ ایک کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، غسل کے بعد آپﷺ نے اپنا کپڑا تبدیل فرمایا، پھر آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی، پھر میری طرف متوجہ ہوئے، مجھے خوش آمدید کہتے ہوئے پوچھا اے ام ہانی کیسے آنا ہوا؟ میں نے دونوں آدمیوں، اور علیؓ کے بارے میں آپ کو خبر دی۔ آپﷺ نے فرمایا:

قَدْ اَجَرْنَا مَنْ اَجَرْتِ وَ اَمَّنَّا مَنْ اَمَّنْتِ فَلَا یَقْتُلْہُمَا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 4 صفحہ 300، صحیح السیرۃ صفحہ 527)۔

’’جن کو تم نے پناہ دے دی انھیں ہم نے پناہ دے دی اور جن کو تو نے امان دی ان کو ہم نے بھی امان دے دی، علی انھیں قتل نہ کریں۔‘‘

اس واقعہ کی روشنی میں یہ مسئلہ مستنبط ہوا کہ اگر ایک مسلمان کسی حربی کافر کو امان دے دے تو اس کا امان دینا درست ہوگا اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ اسے کسی طرح تکلیف پہنچائے، … لیکن اس امان دہی کو ضرر رسانی سے پاک رکھنے کے لیے علمائے اسلام نے یہ شرط لگائی ہے کہ امان دینے والا کسی جانب داری سے متہم نہ ہو، اور وہ امان مزید نقصانات کا سبب نہ بنے، یا اس معاملہ کو حاکم وقت کے پاس پیش کر دیا جائے تاکہ وہ اپنی صواب دید سے مناسب فیصلہ کرے۔

(الجہاد والقتال فی السیاسۃ الشرعیۃ: جلد 3 صفحہ 1051)۔

3: حویرث بن نقیذ بن وہب کا قتل:

اس فتح عظیم میں آپﷺ نے اپنے لشکر کے امراء اور قائد ین سے عہد لیا کہ وہ بجز ان لوگوں کے جو ان سے آ کر لڑیں اور کسی کو قتل نہ کریں، مگر آپﷺ نے کچھ آدمیوں کا نام لے کر ان کا خون مباح کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جہاں مل جائیں، حتیٰ کہ خانہ کعبہ کے پردوں کے نیچے بھی تو انھیں وہیں قتل کردو، انھیں میں حویرث بن نقیذ بن وہب بھی تھا، یہ مکہ میں رسول اللہﷺ کو ایذاء پہنچایا کرتا تھا، عباس بن عبدالمطلب، رسول اللہﷺ کی دو صاحبزادیوں فاطمہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو مکہ سے مدینہ لے جا رہے تھے، اس نے چھڑی سے چونکا لگا کر اونٹ کو اکسا دیا، جس کی وجہ سے دونوں صاحبزادیاں زمین پر گر پڑیں، آج جب اس کا خون رائیگاں قرار دیا گیا اور سیدنا علیؓ نے اس پر قابو پا کر اسے قتل کردیا۔

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 11، السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد 4 صفحہ 58، 59) ۔

4: سیدنا علیؓ ایک اصلاحی مہم پر:

رسول اکرمﷺ نے آپ کو بنوجذیمہ کے پاس بھیجا تھا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ سے اپنی دعوتی مہم میں بعض افراد کو قتل کر دینے کی جو غلطی سرزد ہوگئی تھی اس کی تلافی کریں اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے فتح مکہ کے بعد 8ھ ہی میں خالد بن ولید کے زیرِ قیادت چند لوگوں کو بنوجذیمہ کی طرف دعوت اسلام کی غرض سے روانہ کیا، بنو جذیمہ کے لوگ ’’أَسْلَمْنَا‘‘ کہہ کر صاف طور سے اسلام کا اقرار نہ کر سکے بلکہ ’’صَبَاْنَا صَبَأْنَا‘‘ کہنے لگے، یعنی صابی ہو گئے صابی ہو گئے۔

(چونکہ اہل عرب آبائی مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے والے کو صابی بمعنیٰ بےدین کہتے تھے اس لیے خالدؓ کو غلط فہمی ہوئی کہ یہ اسلام قبول نہیں کرتے بلکہ اس پر طنز کرتے ہیں۔ مترجم)

صفحہ 1 از 2