وحیدالزمان غیر مقلد کی کتب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وحیدالزمان غیر مقلد کی کتب

  محمد علی

صفحہ 1 از 4

وحیدالزمان غیر مقلد کی کتب

شیعہ اور سنی دو متقابل نظریات میں شیعہ لوگ اہلِ سنت میں بریلویوں دیوبندیوں اور غیر مقلدوں (اہلِ حدیث) سبھی کو شمار کرتے اور سنی کہتے ہیں کیونکہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے عقیدت کا دعویٰ اور اس کا اظہار یہ سب لوگ کرتے ہیں دوسری طرف شیعہ وہ ہیں جو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عموماً اور خلفائے ثلاثہؓ کو بالخصوص غاصبین خلافت کہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ انہیں خارج از اسلام گردانتے ہیں شیعوں کا ایک اور گروہ جو تفضیلی شیعہ کہلاتا ہے وہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمر فاروقؓ پر فضیلت کا معتقد ہے جبکہ تمام سنی سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمر بن خطابؓ کی افضلیت کے معتقد ہیں شیعوں کا تیسرا ٹولہ وہ ہے جو سیدنا امیر معاویہؓ کا امیر المومنینؓ اور دوسرے باعزت الفاظ کی بجائے گستاخانہ الفاظ سے نام لیتے ہیں "دشمنان سیدنا امیر معاویہؓ" نامی اپنی تصنیف میں فقیر نے ان گستاخیوں کی فہرست دی جو فوری طور پر سامنے آ گئے جب "میزان الکتب" کا مسودہ تیار کر رہا ہوں کہ جس میں اصل موضوع یہ ہے کہ کون کون سی کتب ایسی ہیں جنہیں شیعہ علماء اور مصنفین اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے حوالہ سے پیش کرتے ہیں حالانکہ یا تو اہلِ سنت کی کتب ہی نہیں اگر ہیں تو وہ غیر معتبر ہیں اور پختہ اہلِ سنت کے مسلک کے آدمیوں کی تصنیف شدہ نہیں ہیں تو اس سلسلہ میں کچھ سنی اور دیوبندی مصنفین کا ذکر ہوا لہٰذا مناسب سمجھا کہ وحید الزمان غیر مقلد کا بھی کچھ ذکر ہو جائے کیونکہ شیعہ لوگ اسے بھی سنی کہتے اور سمجھتے ہیں اور اس تعلق کی بنا پر اس کی بعض عبارات اپنے مسلک کی تائید میں پیش کر کے ہم پر حجت قائم کرتے ہیں لہٰذا اس کی اپنی عبارات سے ہم بتانا چاہتے ہیں کہ یہ شخص غیر مقلدیت کے روپ اور اہلِ حدیث کے بہروپ میں شیعہ تھا اس امر کی وضاحت وحید الزمان کے سوانح نگار مولوی عبد الحلیم سے سنیے اس نے وحیدالزمان نامی کتاب تصنیف کی۔

 وحید الزمان: اس مسئلہ میں قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے کہ سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ دونوں میں کون افضل ہے لیکن شیخینؓ کو اکثر اہلِ سنت سیدنا علیؓ سے افضل کہتے ہیں اور مجھ کو اس امر پر بھی کوئی دلیل قطعی نہیں ملتی نہ یہ مسئلہ کچھ اصول اور ارکان دین سے ہے زبردستی اس کو متکلمین نے عقائد میں داخل کر دیا ہے ایک اور مقام پر لکھتے ہیں سیدنا علیؓ اپنے تیع سب سے زیادہ خلافت کا مستحق سمجھے تھے اور ہے بھی یہی آپ بلحاظ قرابت قریبہ اور فضیلت اور شجاعت کے سب سے زیادہ پیغمبر کی قائم مقامی کے مستحق تھے مگر چونکہ آنحضرتﷺ نے کوئی صاف و صریح نص خلافت کے باب میں وفات کے وقت نہیں فرمائی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی رائے اور مشوروں سے بلحاظ مصلحت وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ بنا لیا آپ صبر کر کے خاموش ہو رہے اگر اس وقت تلوار نکالتے اور مقابلہ کرتے تو دین اسلام مٹ جاتا اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ پہلے سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ ہوں پھر سیدنا عمرؓ پھر سیدنا عثمانؓ اور پھر سیدنا علیؓ اس میں یہ حکمت تھی کہ چاروں کو خلافت کی فضیلت مل جائے اگر سیدنا امیر معاویہؓ پہلے پہل خلیفہ ہو جاتے تو یہ تینوں حضرات اس فضیلت سے محروم رہتے ایک مقام پر سیدنا امیر معاویہؓ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں بھلا ان پاک نفسوں پر سیدنا امیر معاویہؓ کا قیاس کیونکر ہو سکتا ہے جو نہ مہاجرین میں سے نہ انصار میں سے نہ انہوں نے حضرت محمدﷺ کی کوئی خدمت اور جاں نثاری کی بلکہ آپ سے لڑتے رہے اور فتح مکہ کے دن ڈر کے مارے مسلمان ہو گئے پھر آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد سیدنا عثمانؓ کو یہ رائے دی کہ سیدنا علی اور سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ کو قتل کر ڈالیں آگے لکھتے ہیں ایک سچے مسلمان کا جس میں ایک ذرہ برابر بھی پیغمبر صاحب کی محبت ہو دل یہ گوارا کرے گا کہ وہ سیدنا معاویہؓ کی تعریف اور توصیف کرے البتہ ہم اہلِ سنت کا یہ طریق ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سکوت کرتے ہیں اس لیے سیدنا معاویہؓ سے بھی سکوت کرنا ہمارا مذہب ہے اور یہی اصلاً اور قرین قیاس ہے مگر ان کی نسبت کلمات تعظیم مثل سیدنا معاویہؓ کہنا سخت دلیری اور بے باکی ہے اللہ محفوظ رکھے۔

(حیات وحید الزمان: صفحہ 103 تا 109 مطبوعہ نور محمد آرام باغ کراچی پاکستان)

صفحہ 1 از 4