Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام

  علی محمد الصلابی

مدینہ کی زندگی میں انھیں کئی بار زہر دیا گیا، جب آخری بار زہر دیا گیا تو طبیب آیا اور کہا: زہر نے سیدنا حسنؓ کی آنتوں کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 97-98)

عمیر بن اسحاق کہتے ہیں: میں اور قریش کا ایک آدمی دونوں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، آپ اٹھے اور بیت الخلاء میں داخل ہوئے، پھر نکل کر کہا: میرے کلیجہ کا ایک ٹکڑا گرا ہے، جسے میں اس چھڑی سے الٹ پلٹ رہا تھا، مجھے کئی بار زہر دیا گیا، اس مرتبہ کا زہر سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں: اس قرشی آدمی سے سیدنا حسنؓ کہنے لگے: مجھ سے مانگ لو قبل اس کے کہ مانگنے کا موقع نہ رہ جائے، اس نے کہا: اللہ آپ کو اچھا کر دے میں آپ سے کچھ نہیں مانگ رہا ہوں، عمیر بن اسحاق کہتے ہیں: ہم سیدنا حسنؓ کے پاس سے چلے آئے، دوسرے دن سیدنا حسنؓ کے پاس گئے تو آپ جاں کنی کی حالت میں تھے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے اور سر کے پاس بیٹھ گئے اور پوچھا: بھائی جان! آپ کو زہر دینے والا کون ہے؟ پوچھا: تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو؟ کہا: ہاں، انھوں نے کہا: اگر مجھے زہر دینے والا وہی ہے جسے میں سوچ رہا ہوں تو بلاشبہ میرے لیے بدلہ لینے میں اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سخت ہے اور اگر وہ نہیں ہے تو مجھے پسند نہیں کہ میری وجہ سے کسی بَری شخص کو قتل کر دو۔

(الطبقات: تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 335، اس کی سند ضعیف ہے۔)

ا: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وصیت:

ابن عبدالبر کہتے ہیں: کئی طرق سے ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ سیدنا حسنؓ کی وفات جب قریب ہوئی تو اپنے بھائی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہا: اے بھائی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہمارے والد کی نگاہ اس خلافت پر تھی، انھیں امید تھی کہ وہی صاحب خلافت ہوں گے، لیکن من جانب اللہ انھیں خلافت نہ مل سکی، خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوئے، جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات قریب ہوئی تب بھی ان کی نگاہ اس پر تھی، لیکن ان کے بجائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت ملی، جب سیدنا عمر فاروقؓ جاں کنی کے عالم میں ہوئے انھوں نے خلافت چھ رکنی شوریٰ کے حوالے کر دی جس کے ایک ممبر وہ بھی تھے، انھیں یقین تھا کہ خلافت انھی کو ملے گی، لیکن ان کے بجائے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دی گئی، جب سیدنا عثمانؓ کی وفات ہوئی تو آپ کے لیے خلافت کی بیعت کی گئی، پھر خلافت ان سے چھینی جانے لگی تو تلوار نکال لی اور اسے طلب کرنے لگے، اس کے بعد نزاع سے پاک و صاف آپ کی خلافت نہیں رہی، اللہ کی قسم میرے رائے میں ہم اہل بیت میں اللہ تعالیٰ نبوت و خلافت کو جمع نہیں کرے گا، تمھارے حق میں بے وقوف کوفیوں کا تمھیں بھڑکانے اور خروج پر آمادہ کرنے کو میں برداشت نہیں کروں گا۔

(الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 391)

ابن عبدالبر نے اپنی روایت کی سندوں کو ذکر نہیں کیا اور حدیث کے متن میں نکارت ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ حدیث خلافت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو مقدم کرنے کی ثابت شدہ حقیقت کے منافی ہے، سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سیرت سے متعلق اپنی دونوں کتابوں میں میں نے اس چیز کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

ب: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا آسمان کی نشانیوں میں غور و فکر کرنا اور اپنی جان کے جانے پر اللہ کے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کرنا:

جب حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کا وقت قریب آیا تو کہا: مجھے صحن میں کر دو، تاکہ میں آسمان کی نشانیوں میں غور و فکر کروں، چنانچہ انھیں وہاں کر دیا گیا، آپ نے سر اٹھا کر دیکھا اور کہا: میں اپنی جان کے جانے پر اے اللہ! تیرے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کر رہا ہوں، بلاشبہ میری جان مجھے سب سے عزیز ہے، اللہ کا ان کے ساتھ احسان یہ تھا کہ انھوں نے اپنی جان کے جانے پر اللہ کے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 209)

ایک دوسری روایت میں ہے: اے اللہ! میں اپنی جان کے جانے پر تیرے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کر رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر اس جیسی مصیبت مجھے لاحق نہیں ہوئی۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 762)

اس خوفناک منظر اور عظیم مؤقف سے پتہ چلتا ہے کہ سچے دل سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ صرف اللہ کی جانب متوجہ تھے جو اپنی کبریائی، عظمت و طاقت میں منفرد ہے، ان عبارتوں سے اللہ کے لیے خشوع و خضوع، اسی سے مکمل امید باندھنے اور صرف اللہ سے دل لگانے کے معانی کے چشمے پھوٹتے ہیں اس لیے ہمیں غیر اللہ سے اپنے دلوں کو نہیں لگانا چاہیے۔ اسی طرح وہ دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں تب بھی آسمانوں کی مخلوقات اور ان کی نشانیوں میں غور و فکر کرنے کی عبادت کو نہیں بھول رہے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے 

اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِى الۡاَلۡبَابِ ۞(سورۃ آل عمران آیت 190)

ترجمہ: بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے بار بار آنے جانے میں ان عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

پھر اپنی جان پر غور کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھی، اس کے جانے پر اللہ کے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کیا:

وَفِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ‌ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ۞(سورۃ نمبر الذاريات آیت 21)

ترجمہ: اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی۔ کیا پھر بھی تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

بلاشبہ کائنات و ذات میں اور نظر آنے والی اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرنا، ایمان کا نہایت مضبوط و قوی ذریعہ ہے، اس لیے کہ ان چیزوں میں پیدا کرنے والے اللہ کی ایسی عظمت ہوتی ہے جو ان کے خالق کی قدرت و عظمت کا پتہ دیتی ہے، اور اس لیے بھی کہ ان میں عقلوں کو حیران کر دینے والی خوبصورتی، ترتیب اور مضبوطی ہوتی ہے، جس سے اللہ کے علم کی وسعت اور اس کی حکمت کی شمولیت کا پتہ چلتا ہے، اور اس لیے بھی کہ ان میں انواع و اقسام کے منافع اور بے شمار نعمتیں ہیں جو اللہ کی رحمت، اس کی سخاوت اور اس کے احسان کی وسعت پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کے خالق کو عظیم سمجھنے، اس کا شکریہ ادا کرنے، اس کے ذکر میں مشغول رہنے، دین کو اسی کے لیے خاص کرنے کی جانب دعوت دیتی ہیں اور یہی ایمان کی روح اور اصل ہے۔

(التوضیح و البیان لشجرۃ الإیمان للسعدی: صفحہ 69، الوسطیۃ فی القرآن الکریم للصلابی: صفحہ 239)

جب ہم اللہ کی تمام مخلوقات پر غور کرتے ہیں تو ہر طرح سے انھیں اپنے رب کا محتاج پاتے ہیں، پلک جھپکنے تک وہ اللہ سے مستغنیٰ نہیں ہو سکتیں، خاص طور سے محتاج ہونے کی جن دلیلوں کا مشاہدہ تم اپنی ذات میں کرتے ہو یہ چیز بندے پر واجب کر دیتی ہے کہ دینی و دنیاوی نقصانات کو روکنے اور دینی و دنیاوی منافع کو حاصل کرنے میں وہ اللہ کے لیے مکمل خشوع و خضوع کا اظہار کرے، بکثرت اسی سے دعا کرے اور اسی کے سامنے روئے گڑگڑائے، نیز بندے پر یہ بھی واجب کر دیتی ہے کہ اپنے رب پر مضبوط بھروسا رکھے، اس کے وعدہ پر مکمل اعتماد کرے، اس کی بھلائی اور احسان کی شدید امید رکھے، اس سے ایمان کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور عبودیت مضبوط ہوتی ہے، اس لیے کہ دعا عبادت کا مغز اور اصل ہے۔ 

(التوضیح و البیان لشجرۃ الإیمان: صفحہ 51، الوسطیۃ للصلابی: صفحہ 239)

سیدنا حسنؓ نے اپنی دنیاوی زندگی کے آخری لمحات میں غور و فکر کی عبادت کو اچھی طرح انجام دیا ہے، اور عبادت کے وسیع مفہوم کے عظیم معانی ہمیں سکھلائے ہیں۔

سیدنا علیؓ نے اپنی جان کے جانے پر اپنے رب کے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی طرح اللہ کے پاس ثواب کی توقع کے معانی کو سمجھتے تھے، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے معاذ! تم قرآن کی تلاوت کیسے کرتے ہو؟ تو انھوں نے جواب دیا: میں رات کے پہلے پہر سو جاتا ہوں پھر اپنی نیند کا ایک حصہ پورا کر کے قیام اللیل کرتا ہوں، اور جو کچھ اللہ تعالیٰ میسر کرتا ہے تلاوت کرتا ہوں اور اپنے سونے پر بھی عند اللہ ویسے ہی ثواب کی توقع رکھتا ہوں جیسے قیام اللیل پر۔

(صحیح البخاری: کتاب المغازی حدیث نمبر 4342)

اسی طرح کھانے اور اپنی بیوی سے ہم بستری میں جب کوئی مسلمان اللہ سے ثواب کی توقع کرتا ہے تو من جانب اللہ اسے اجر و ثواب ملتا ہے۔

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنی جان کے جانے پر عند اللہ ثواب کی توقع کرتے ہیں اور مصیبتوں کے وقت احتساب و تفکر کی عبادت انجام دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، وہ لسانِ حال سے گویا یہ آیت تلاوت کر رہے تھے:

قُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۞ لَا شَرِيۡكَ لَهٗ‌وَبِذٰلِكَ اُمِرۡتُ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ۞(سورۃ الأنعام آیت 162، 163)

ترجمہ: کہہ دو کہ: بیشک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں اس کے آگے سب سے پہلے سرجھکانے والا ہوں۔

ج: اے بھائی میرا سابقہ من جانب اللہ ایک ایسے معاملے سے پڑ رہا ہے جس طرح کے معاملے سے اس سے پہلے نہیں پڑا تھا اور اللہ کی ایسی مخلوق دیکھ رہا ہوں جیسی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 210)

ابونعیم کہتے ہیں جب سیدنا حسنؓ کی تکلیف شدید ہو گئی تو وہ بے تاب ہو گئے، ان کے پاس ایک آدمی گئے اور کہا: اے ابومحمد! یہ بے تابی کیسی؟ معاملہ صرف اتنا ہے کہ آپ کی روح جسد خاکی سے الگ ہوگی اور آپ اپنے والدین علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما، اپنے نانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی نانی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، اپنے چچا حمزہ و جعفر رضی اللہ عنہما، اپنے ماموں قاسم، طیب، طاہر، اپنی خالہ رقیہ، ام کلثوم، زینب رضی اللہ عنہن کے پاس چلے جائیں گے، یہ سن کر آپ کی بے تابی ختم ہو گئی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 210)

دوسری روایت کے مطابق مذکورہ بات کے قائل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے اور یہ کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے بھائی میرا سابقہ من جانب اللہ ایسے معاملے سے پڑ رہا ہے جس طرح کے معاملے سے اس سے پہلے نہیں پڑا تھا، اور اللہ کی ایسی مخلوق دیکھ رہا ہوں جیسی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 109)

و فی روایۃ: یا أخی إنی أقدم علی أمر عظیم و ہول لم أقدم علی مثلہ قط

(تہذیب الکمال: جلد 6 صفحہ 254، سکب العبرات: جلد 1 صفحہ 148)

کتاب و سنت میں انسان کی روح نکلنے سے لے کر جنتیوں کے جنت اور جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہو جانے کی پوری تفصیل موجود ہے۔ اسی لیے سلف صالحین سوئِ خاتمہ سے ڈرتے تھے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کا خاتمہ کیسا ہو گا، اعمال کا دار و مدار تو خاتموں پر ہوتا ہے، اور مؤمنین قدم قدم پر سوئِ خاتمہ سے ڈرتے ہیں، انھیں کا اللہ تعالیٰ وصف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

وَّ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ (سورۃ المؤمنون آیت 60)

ترجمہ: ان کے دل اس بات سے سہمے ہوتے ہیں 

نیز سکرات الموت، قبض روح اور انجام کی آگہی سے ڈرتے رہتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:

اَللّٰہُمَّ ہَوِّنْ عَلَیَّ سَکَرَاتِ الْمَوْتِ۔

(سنن الترمذی: کتاب الجنائز حدیث نمبر 978)

’’اے اللہ! تو میرے لیے سکرات الموت کو آسان کر دینا۔‘‘

سکرات الموت کے خوف کے ساتھ ملک الموت کی شکل کی ہیبت نیز اس کا ڈر اور خوف دل میں رہتا ہے۔

(الإیمان أولا: صفحہ 94)

امام قرطبیؒ کہتے ہیں: ملک الموت کا مشاہدہ اور اس سے دل پر جو خوف و دہشت طاری ہوتی ہے اپنی ہولناکی کے باعث بیان سے باہر ہے اور اس حقیقت کو وہی جانتا ہے جس کے سامنے ملک الموت ظاہر ہوتے ہیں اور وہ ان کا مشاہدہ کرتا ہے۔

(التذکرۃ: جلد 1 صفحہ 113)

سکرات الموت و ملک الموت کا خوف ہمیشہ ہمیں لاحق رہنا چاہیے، ایک دوسرا خطرناک معاملہ ہے جو ہمارے اس خوف میں اضافہ کر دیتا ہے، وہ ہے اس وقت دنیاوی زندگی کے امتحان کے نتیجہ کا ظاہر ہونا، تو کیا ہم ان لوگوں میں سے ہوں گے جن سے فرشتے کہیں گے:

اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ۞ (سورۃ فصلت آیت 30)

ترجمہ: نہ کوئی خوف دل میں لاؤ، نہ کسی بات کا غم کرو، اور اس جنت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

وَ لَوۡ تَرٰٓى اِذۡ يَتَوَفَّى الَّذِيۡنَ كَفَرُوا‌ الۡمَلٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 50)

ترجمہ: اور اگر تم دیکھتے (تو وہ عجیب منظر تھا) جب فرشتے ان کافروں کی روح قبض کر رہے تھے، ان کے چہروں اور پشت پر مارتے جاتے تھے (اور کہتے جاتے تھے کہ) اب جلنے کے عذاب کا مزہ (بھی) چکھنا۔

مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ، وَ مَنْ کَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ، فَقَالَ: لَیْسَ ذَاکَ وَ لٰکِنَّ الْمُوْمِنُ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانٍ مِنَ اللّٰہِ وَکَرَامَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْئٌ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ، فَأَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ، وَ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ، وَ إِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللّٰہِ وَ عُقُوْبَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْئٌ أَکْرَہُ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ فَکَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ وَ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 9507)

’’جو اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنا پسند کرتے ہیں اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتاہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنا ناپسند کرتے ہیں اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمیں موت ناپسند ہے تو آپ نے فرمایا: یہ مراد نہیں، بلکہ مومن کی جب موت آتی ہے تو اسے اللہ کی رضا اور اس کی تکریم کی بشارت دی جاتی ہے، اس وقت اسے سامنے والی چیز ہی سب سے زیادہ پسند ہوتی ہے اور وہ اللہ سے ملنے کو پسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے اور جب کافر کی موت آتی ہے تو اسے اللہ کے عذاب و عقاب کی بشارت دی جاتی ہے اس وقت سامنے والی چیز اسے سب سے زیادہ ناپسند ہوتی ہے، اور وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے۔‘‘

وَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَتْ رُوْحُ الْعَبْدِ الْمُوْمِنِ تَلَقَّاہَا مَلَکَانِ یَصْعَدَانِ بِہَا -فَذَکَرَ مِنْ طِیْبِ رِیْحِہَا- وَ یَقُوْلُ أَہْلُ السَّمَائِ: رُوْحٌ طَیِّبَۃٌ جَائَ تْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ، وَ عَلٰی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمَّرِیْنَہُ فَیَنْطَلِقُ بِہٖ إِلٰی رَبِّہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ: اِنْطَلِقُوْا بِہٖ إِلٰی آخِرِ الْأَجَلِ، وَ إِنَّ الْکَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوْحُہٗ -فَذَکَرَ مِنْ نَتْنِہَا- وَ یَقُوْلُ أَہْلُ السَّمَائِ: رُوْحٌ خَبِیْثَۃٌ جَائَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ فَیُقَالُ: اِنْطَلِقُوْا بِہٖ إِلٰی آخِرِ الْاَجَلِ۔

(صحیح الجامع: حدیث نمبر 504)

’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بندے کی روح جب نکلتی ہے تو اسے دو فرشتے لے کر اوپر جاتے ہیں، اس وقت اس کی بہترین خوشبو کو ذکر کیا اور آسمان والے کہتے ہیں: زمین سے آنے والی تو بہت اچھی روح ہے، اللہ تعالیٰ تم پر اور اس جسم پر جس میں تو تھی رحمت نازل کرے۔ پھر اسے اس کے رب کے پاس لے جایا جاتا ہے، پھر رب کہتا ہے: اسے اس کے مقررہ ٹھکانے تک لے جاؤ۔ اور کافر کی روح جب نکلتی ہے اس وقت اس کی بدبو کا ذکر کیا اور آسمان والے کہتے ہیں تم زمین سے آنے والی خبیث روح ہو، پھر کہا جائے گا: اسے اس کے مقررہ ٹھکانے تک لے جاؤ۔‘‘

قبر صاحبِ قبر کو دبوچے گی جس سے کوئی نہیں بچے گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ لِلْقَبَرِ ضَغْطَۃٌ لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِنْہَا لَنَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ۔

(مسند أحمد: جلد 6 صفحہ 55)

’’قبر دبوچے گی، اگر کوئی اس سے بچتا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بچتے۔‘‘

اور قبر جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا، یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔‘‘

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 2587)

اور ہمارے سامنے دوبارہ اٹھایا جانا اور قیامت کا قائم ہونا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ‌ اِنَّ زَلۡزَلَةَ السَّاعَةِ شَىۡءٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورۃ الحج آیت 1)

ترجمہ: اے لوگو! اپنے پروردگار (کے غضب) سے ڈرو۔ یقین جانو کہ قیامت کا بھونچال بڑی زبردست چیز ہے۔

وہ بہت ہولناک دن ہوگا:

يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۞(سورۃ المطففين آیت 6)

ترجمہ: جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

ابوالبشر آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کے آخری انسان سب کو زندہ کر کے اکٹھا کیا جائے گا:

(الإیمان أولا فکیف نبدأ بہ: صفحہ 96)

ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ۞ (سورۃ هود آیت 103)

ترجمہ: وہ ایسا دن ہوگا جس کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور وہ ایسا دن ہوگا جسے سب کے سب کھلی آنکھوں دیکھیں گے۔

قیامت کی ہولناکیوں کو کتاب و سنت نے بیان کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الۡاَرۡضُ دَكًّا دَكًّا ۞ وَّجَآءَ رَبُّكَ وَالۡمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ۞ وَجِاىْٓءَ يَوۡمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوۡمَئِذٍ يَّتَذَكَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَاَنّٰى لَـهُ الذِّكۡرٰى۞ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ قَدَّمۡتُ لِحَـيَاتِى‌۞(سورۃ الفجر آیت 21 تا 24)

ترجمہ: ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔ اور تمہارا پروردگار اور قطاریں باندھے ہوئے فرشتے (میدان حشر میں) آئیں گے۔ اور اس دن جہنم کو سامنے لایا جائے گا، تو اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت سمجھ آنے کا موقع کہاں ہوگا؟ وہ کہے گا کہ: کاش! میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیج دیا ہوتا۔

ارشاد نبوی ہے: ’’جہنم کو لایا جائے گا، اس کی ستر ہزار رسیاں ہوں گی، ہر رسی کو ستر ہزار فرشتے تھامے کھینچ رہے ہوں گے۔‘‘ 

(صحیح المسلم: کتاب صفۃ النار: صحیح الجامع حدیث نمبر 8001)

چنانچہ وہ بہت ہی ہولناک منظر ہو گا جس سے دل پھٹ رہے ہوں گے۔

(رحلۃ إلی الدار الآخرۃ: صفحہ 390)

اسی لیے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے کہا تھا: 

’’اَلْعَارُ خَیْرٌ مِنَ النَّارِ‘‘

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 12 صفحہ 204)

’’باعث شرم بات جہنم سے بہتر ہے۔‘‘

اور اسی بناء پر اپنے بارے میں ڈر گئے کہ کہیں قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان کا محاسبہ نہ ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں۔

أَوَّلُ مَا یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی الدَّمَائِ۔ 

(صحیح الجامع: حدیث نمبر 2577)

’’قیامت کے دن لوگوں کے مابین سب سے پہلے خون سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔‘‘

قیامت کے خوفناک منظر کو یہ حدیث پیش کرتی ہے:

یَجِیْئُ الْمَقْتُوْلُ بِالْقَاتِلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ نَاصِیَتُہٗ بِیَدِہٖ وَ أَوْدَاجُہٗ تَشْخَبُ دَمًا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ سَلْ ہٰذَا فِیْمَا قَتَلَنِیْ؟ حَتّٰی یُدْنِیْہُ مِنَ الْعَرْشِ۔

(صحیح الجامع: حدیث نمبر 8031)

’’قیامت کے دن مقتول قاتل کو لے کر آئے گا، اس کی پیشانی اس کے ہاتھ میں ہوگی، اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا وہ کہے گا: اے میرے پروردگار اس سے پوچھئے کس وجہ سے اس نے مجھے قتل کیا تھا؟ یہاں تک کہ اسے عرش سے قریب کر دے گا۔‘‘

یہ ہولناکیاں ہوں گی جن سے سب کو دوچار ہونا پڑے گا، جب جنتی جوانوں کے سردار موت و ما بعد الموت سے ڈرتے ہیں، تو قارئین کرام ہماری اور آپ کی حیثیت کیا ہے؟ ہمیں عبرت حاصل کرنا اور اس سخت ترین مرحلے کے لیے عمل کرنا چاہیے، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم پر رحم فرمائے اور ہماری لغزشوں کو معاف فرمائے، بلاشبہ وہ مہربان، بردبار، ودود و رحیم ہے۔