خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  علامہ زاہد الراشدی

صفحہ 1 از 7

خاندانِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے، ایک حضرت اسحاق علیہ السلام اور دوسرے حضرت اسماعیل علیہ السلام۔ یوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں دو سلسلے چلے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن کا لقب اسرائیل تھا جو کہ عبرانی زبان میں عبد اللہ کو کہتے ہیں یعنی اللہ کا بندہ حضرت اسحاق علیہ السلام سے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں تقریباً تین ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے۔ جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے صرف ایک ہی پیغمبر ہوئے جو کہ جناب محمد رسول اللہﷺ ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے قریش کا خاندان تھا جس کی ایک شاخ بنو ہاشم خاندان کی تھی، اس بنو ہاشم خاندان میں حضورؐ مبعوث ہوئے۔
نبی کریمﷺ کے والدین:
حضرت عبد اللہؓ اور حضرت آمنہؓ جناب نبی کریمﷺ کے والدین تھے، حضورﷺ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے۔ آپﷺ کے والد محترم، جناب عبداللہ کے سب سے چھوٹے فرزند تھے۔ ننھال سے آپﷺ کا تعلق بنو نجار سے تھا جو کہ یثرب شہر کا ایک قبیلہ تھا۔ یثرب اب مدینہ منورہ کہلاتا ہے۔ والد محترم عبداللہ حضورﷺ کی ولادت سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے، آپؐ غالباً پانچ یا چھ سال کے تھے جب آپﷺ کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا۔ آپﷺ نے بنو سعد کی ایک خاتون سیدہ حلیمہ سعدیہؓ کا دودھ پیا جن کے خاوند سیدنا ابو کبشۃؓ کے نام سے معروف ہیں۔ انہی کی وجہ سے قریش کے بعض سردار طنز کے طور پر جناب نبی کریمﷺ کو ابنِ ابی کبشۃ کہا کرتے تھے۔ جب قیصرِ روم کے دربار میں سیدنا ابوسفیانؓ پیش ہوئے اور قیصرِ روم کے ساتھ رسول اللہﷺ کے بارے میں بات ہوئی تو سیدنا ابوسفیانؓ نے دیکھا کہ قیصرِ روم نے رسول اللہﷺ اور ان کے خط کو بہت اہمیت دی، گفتگو سے فارغ ہو کر باہر آئے تو سیدنا ابوسفیانؓ نے کہا أمر أمر ابنِ کبشۃ کہ ابو کبشۃ کے بیٹے کی بات تو بہت بڑی ہوگئی ہے۔
سیدنا ابو کبشۃؓ اور سیدہ سعدیہ حلیمہؓ حضورﷺ کے رضاعی ماں باپ تھے، دونوں مسلمان ہوئے۔ رسول اللہﷺ نے آخر وقت تک ان کا خیال رکھا اور یہ دونوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شمار ہوتے ہیں۔ جناب نبی کریمﷺ کی کوئی حقیقی بہن یا بھائی نہیں تھا۔ غزوۂ حنین کی لڑائی کے بعد ایک خاتون سیدہ شیماءؓ نے آپﷺ کی رضاعی بہن ہونے کا دعویٰ کیا اور آپﷺ کو بچپن کے واقعات یاد دلائے تو حضورﷺ نے اس خاتون کے رضاعی بہن ہونے کی تصدیق کی اور اسے اکرام کے ساتھ تحفے تحائف دے کر رخصت کیا۔
نبی کریمﷺ کی ازواج:
جناب رسول اللہﷺ کی ازواج میں نکاح کی ترتیب کے لحاظ سے سیدہ خدیجہؓ، سیدہ سودہؓ، سیدہ عائشہؓ، سیدہ حفصہؓ، سیدہ زینب امُ المساکینؓ، سیدہ امِ سلمہؓ، سیدہ زینب بنتِ جحشؓ ، سیدہ جویریہؓ، سیدہ امِ حبیبہؓ، سیدہ میمونہؓ اور سیدہ صفیہؓ کے نام آتے ہیں۔رسول اللہﷺ کی کل 11 بیویاں تھیں جبکہ بیک وقت 9 تھیں۔ آنحضرتﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں آپﷺ کی دو بیویاں فوت ہوئیں، ایک سیدہ خدیجہؓ اور دوسری سیدہ زینب ام المساکینؓ۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا:
آپﷺ کی پہلی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہؓ قریش کی بڑی باعزت خاتون تھیں۔ وہ ایک تجارت پیشہ اور مالدار خاتون تھیں۔ جب حضورﷺ کا سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ نکاح ہوا تو آپﷺ پچیس برس کے جب کہ سیدہ خدیجہؓ چالیس برس کی تھیں۔ یہ رسول اللہﷺ کا پہلا نکاح تھا جب کہ سیدہ خدیجہؓ اس سے پہلے بیوہ ہو چکی تھیں۔ حضورﷺ کا سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ یہ نکاح پچیس برس تک قائم رہا۔ ان پچیس سال کے دوران سیدہ خدیجہؓ تنہا حضورﷺ کے نکاح میں رہیں۔ سیدہ خدیجہؓ کے انتقال کے وقت جناب نبی کریمﷺ کی عمر پچاس برس تھی۔ اپنی عمر کے پچیس سے پچاس سال کے عرصے تک حضورﷺ نے اور کوئی شادی نہیں کی، سیدہ خدیجہؓ حضورﷺ کی سب سے لمبی مدت کی بیوی تھیں۔ نبی کریمﷺ آخرت وقت تک سیدہ خدیجہؓ کو یاد کرتے تھے اور ان کا تذکرہ فرماتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے کبھی کسی پر رشک نہیں آیا سوائے سیدہ خدیجہؓ کے، جب بھی کوئی بات ہوتی تو آپﷺ فرماتے کہ سیدہ خدیجہؓ یوں کیا کرتی تھی۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضورﷺ نے کسی بات پر سیدہ خدیجہؓ کا نام لیا تو میں بول پڑی کہ یارسول اللہﷺ آپ کیا اس بڑھیا کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ان سے اچھی عورتیں دی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے اس پر سیدہ خدیجہؓ کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا کہ خدیجہؓ نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلاتے تھے، اس نے مجھ پر اپنا مال بھی خرچ کیا اور مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔
سیدہ خدیجہؓ اور حضورﷺ کے چچا ابوطالب کی وفات قریب قریب ہوئی۔ گھر میں سب سے زیادہ حضورﷺ کا ساتھ دینے والی سیدہ خدیجہؓ تھیں جب کہ گھر سے باہر خاندان میں سب سے زیادہ محافظ اور مددگار جناب ابوطالب تھے۔ ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیا لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انہوں نے چچا ہونے کے ناطے سے چچا ہونے کا حق ادا کر دیا۔ ابوطالب رسول اللہﷺ کے ساتھ شعب ابوطالب میں بھی محصور رہے۔ جناب ابوطالب کی زندگی میں کسی کو حضورﷺ کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرأت نہیں ہوئی، جسے بھی کوئی شکایت ہوتی تو وہ ابوطالب سے کرتا تھا کہ اپنے بھتیجے سے یہ بات کرو، اپنے بھتیجے کو یہ سمجھاؤ۔ ابوطالب کی شخصیت کا ایک رعب اور مقام تھا۔ جس سال یکے بعد دیگرے جناب ابوطالب اور سیدہ خدیجہؓ کا انتقال ہوا تو وہ سال حضورﷺ کے لیے بہت پریشانی کا تھا کہ عالم اسباب میں جو دو بڑے سہارے تھے، دونوں ختم ہوگئے۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے اسے عام الحزن قرار دیا کہ یہ میرا غم کا سال ہے۔
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا:
سیدہ خدیجہؓ کے انتقال کے بعد قریش ہی کی ایک خاتون سیدہ سودہ بنت زمعہؓ سے حضورﷺ کا نکاح ہوا۔ یہ بھی ایک بیوہ خاتون تھیں اور حضورﷺ کے مکی دور میں ہی اسلام قبول کر چکی تھیں۔ سیدہ سودہؓ جسمانی ساخت کے لحاظ سے اونچی لمبی اور بھاری تھیں۔ ان کی تاریخِ وفات کے متعلق اختلاف ہے، عام خیال یہ ہے کہ سیدنا عمرؓ کے دورِ خلافت کے آخری عرصے میں وفات پائی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا:
صفحہ 1 از 7