حلم و بردباری
علی محمد الصلابیحلم و بردباری حکمت کے ارکان میں سے بنیادی رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر خود کو اس صفت سے متصف قرار دیا ہے۔ بطورِ مثال ارشادِ الہٰی ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّهُمُ الشَّيۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُوۡا وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ ۞
(سورۃ آل عمران: آیت 155)
ترجمہ: تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ پھیری جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے، درحقیقت ان کے بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کر دیا تھا۔ اور یقین رکھو کہ اللہ نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ یقیناً اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے۔
آپؓ حلم و بردباری اور عفو و درگزر میں مثال درجہ کو پہنچے ہوئے تھے۔ خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اقوال و افعال اور احوال میں رسول اللہﷺ کی اقتداء و پیروی کا سخت اہتمام کرتے تھے۔ آپؓ کے مختلف مواقف حلم اور ضبطِ نفس پر دلالت کرتے ہیں۔ واضح ترین موقف جو آپؓ کی بردباری پر واضح دلیل ہے وہ آپؓ کے محصور کیے جانے کا واقعہ ہے، جب کہ شرپسند آپؓ کو آپ رضی اللہ عنہ کے گھر میں محصور کر کے آپؓ کے قتل کے درپے تھے، ان حالات میں آپؓ کے دفاع میں مہاجرین و انصار کی جو جماعت آپؓ کے پاس تھی آپؓ نے انہیں اپنے گھروں کو واپس چلے جانے کا حکم دے دیا، حالاں کہ وہ آپؓ کی حفاظت و دفاع کرنے پر قادر تھے۔ اللہ کی ملاقات کے شوق اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت میں آپؓ کی بردباری نمایاں تھی۔
(الکفاءۃ الإداریۃ فی السیاسۃ الشرعیۃ، د۔ عبداللہ قادری: صفحہ، 65)