سیرت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 6

سیدنا امیرِ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ

 نام: معاویہؓ
 والد کا نام: ابوسفیانؓ بن حرب
 والدہ کا نام: ہندہؓ تھا
ظہورِ اسلام سے قبل سیدنا ابوسفیانؓ کا شمار روسائے عرب میں ہوتا تھا فتح مکہ کے بعد جب نبی کریمﷺ‎ نے عام معافی کا اعلان کیا تو سیدنا ابوسفیانؓ، سیدہ ہندہؓ اور ان کے تمام خاندان نے اسلام قبول کیا ہجرتِ مدینہ سے تقریباً 15 برس پیشتر مکہ میں آپؓ کی پیدائش ہوئی اعلانِ نبوت کے وقت آپؓ کی عمر کوئی چار برس کے قریب تھی جب اسلام لائے تو زندگی کی 25 بہاریں دیکھ چکے تھے۔
فتح مکہ کے بعد نبی اکرمﷺ‎ نے سیدنا ابوسفیانؓ کے گھر کو بیتُ الامن قرار دیا اور ان کے بیٹے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کاتبِ وحی مقرر کیا اس کے علاوہ بیرون ملک سے آئے ہوئے لوگوں اور ملاقاتیوں کی مہمان نوازی اور دیکھ بھال کا کام بھی آپؓ کے سپرد تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے آپؓ کے بھائی یزید بن ابوسفیان کو شام کے محاذ پر بھیجا تو سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی ان کے ہمراہ تھے عہدِ فاروقی میں دمشق کا حاکم مقرر کیا گیا۔ رومیوں کے خلاف جنگوں میں سے قیساریہ کی جنگ آپؓ کی قیادت میں لڑی گئی، جس میں 80 ہزار رومی قتل ہوئے تھے۔
سیدنا عثمانِ غنیؓ نے آپؓ کو دمشق، اردن اور فلسطین تینوں صوبوں کا والی مقرر کیا اور اس پورے علاقہ کو شام کا نام دیا گیا۔ آپؓ کا شمار عرب کے چار نامور مدبرین میں ہوتا تھا۔ آپؓ کا دورِ حکومت چوبیس سال پر محیط ہے۔ ان کا دورِ حکومت ایک کامیاب دور تھا، ان کے زمانے میں کوئی علاقہ سطلنت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوا، بلکہ اسلامی سلطنت کا رقبہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔
خلیفہ کا پہلا کام:
مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہونے کے بعد سیدنا امیرِ معاویہؓ نے علماء و اشراف کی مدد سے ایک مجلس شوریٰ بنائی۔ پہلی مجلس میں بغاوتوں پر تبادلہ خیال ہوا اور یہ طے پایا کہ سب سے پہلا قدم خارجیوں کے خلاف اٹھایا جائے گا کیوں کہ وہ کھلم کھلا آمادہ بغاوت تھے سیدنا مغیرہ بن شیبہؓ اور اپنے بھائی سیدنا زیاد بن ابی سفیانؓ کی مدد سے آپؓ نے ایک سال کے اندر اندر خارجیوں کا صفایا کر دیا خارجیوں سے لڑائی کے دوران سیدنا امیرِ معاویہؓ نے قاتلینِ سیدنا عثمانؓ کو بھی چن چن کر قتل کیا۔ 41ھ کے آخر میں بلخ، ہراتاور بادغین کی بغاوتیں بھی کچلی گئیں۔ 42ھ میں جب کابل میں بغاوت اٹھی تو سیدنا عبداللہ بن عامر امویؓ کو روانہ کیا گیا جنہوں نے دشمن کا قلع قمع کردیا۔
اوصاف و کمالات:
سیدنا امیرِ معاویہؓ مکارمِ اخلاق کے پیکر تھے اور کیوں نہ ہوتے جب کہ زبانِ رسالت نے ان کو مہدی کے لقب سے یاد فرمایا تھا۔ مشہور تابعی بزرگ سیدنا قتادہؒ فرماتے ہیں کہ لوگ اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اخلاق و افعال کو دیکھتے تو بے ساختہ کہہ اٹھتے کہ مہدی یہی ہیں، ہادی یہی ہیں۔ آپؓ کے محاسن و اخلاق پر تبصرہ کرتے ہوئے عرب نقاد ذکریا نصولی نے لکھا ہے سیدنا امیرِ معاویہؓ رسول اللہﷺ‎ کے معتمد، بڑے ثقہ، ذکی اور عمدہ اخلاق والے صحابی تھے۔ اسی رتبہ عظیم کی بناء پر وہ اسلام کے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے یہ بے غبار حقیقت ہے کہ تاریخِ اسلام میں آپؓ درخشاں شخصیت کے مالک تھے انہوں نے حکومتوں کو ترتیب دی، امتوں کی قیادت اور ملک کی نگہبانی کی ان تمام باتوں کے باوجود مؤرخینِ عرب نے ان کو ان کا صحیح مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔
(سیدنا امیرِ معاویہؓ، صفحہ، 64 از نصولی)
 زہد و تقویٰ:
صاحبِ اعلام الاسلام لکھتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروقؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی ایمانداری اور ان کے زہد و تقویٰ سے واقف تھے۔ اس لیے ان کی بڑی قدر کرتے تھے اور کیوں نہ کرتے جب کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ظاہر و باطن دونوں یکساں تھے۔ جیسا کہ سیدنا قصبیہ بن جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ رہا ہوں، ان کے ساتھ اٹھا بیٹھا ہوں، ان سے بہتر محبوبِ رفیق کسی کو نہیں پایا اور نہ ظاہر و باطن میں یکساں کسی کو دیکھا۔ 
(موطا امام مالک: صفحہ، 181)
عبادت و ریاضت:
سیدنا امیرِ معاویہؓ کی عبادت و بندگی کا حال پوچھنا ہو تو سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھو، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی برائی نہ کرو، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ راتوں کو اٹھ کر اللہ کے حضور اپنی پیشانی رگڑتے ہیں۔
(ترمذی، ابواب الزہد)
سیدنا ابو درداءؓ کہ ”میں نے کسی شخص کی نماز حضورﷺ کے مشابہ نہیں دیکھی، سوائے سیدنا امیرِ معاویہ ابنِ سفیانؓ کے۔ 
(قاموس الاصفام: جلد، 2 صفحہ، 142، المتقی: صفحہ، 289، تطہیر الجنان: صفحہ، 42)
 خشیتِ الہٰی اور خوفِ آخرت:
سیدنا امیرِ معاویہؓ خدا کے خوف اور آخرت کے ڈر سے ہر وقت لرزہ براندام رہتے تھے۔ بسا اوقات روتے روتے ہچکیاں بندھ جاتی تھیں۔ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو جاتی تھی۔ ترمذی شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے حشر و نشر اور روزِ آخرت کی باز پرس پر ایک حدیث سنائی۔ جس کا اثر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے دل پر ایسا ہوا کہ وہ زار و قطار رونے لگے۔ ہچکیاں بندھ گئیں، آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ یہاں تک کہ سامعین بھی رو پڑے اور سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ کچھ دیر کے بعد جب سکون ہوا تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے قرآنِ پاک کی آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے: جو شخص دنیا اور اس کے ساز و سامان کو چاہتا ہے تو ہم اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں دے دیتے ہیں اور اس کا کچھ نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن آخرت میں ان کا حصہ آگ کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا اور انہوں نے جو کیا وہ برباد ہوجاتا ہے اور جو کام کیے تھے وہ بیکار ہوجاتے ہیں۔
(ترمذی: ابواب، الزہد)
 قرآن سے شغف:
سیدنا امیرِ معاویہؓ کو قرآنِ پاک سے گہرا لگاﺅ تھا اور کیوں نہ ہوتا جب کہ عہدِ رسالت میں آپؓ کا زیادہ تر وقت قرآنِ حکیم کی کتابت میں صرف ہوا کرتا تھا اور نبی کریمﷺ دعا فرمایا کرتے تھے کہ خدایا! سیدنا امیرِ معاویہؓ کو قرآن کا علم عطا فرما۔
(البدایہ: جلد، 8 صفحہ، 140)
صفحہ 1 از 6