قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف - دفاعِ اہلِ سنت…

قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 7

ایسی کوئی صحیح روایت نہیں ملتی، جو یہ بتلائے کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ میں یزید کا حکم یا مرضی شامل تھی۔ بلکہ یزید نے جناب امام زین العابدین علی بن حسین رحمۃ اللہ سے جو کہا، وہ اس کے موقف کو واضح کرتا ہے۔ چنانچہ یزید نے علی بن حسین رحمۃ اللہ اور آل حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ بے پناہ حسن سلوک کیا اور یہ کہا:

’’اللہ کی قسم! اگر میں حسین کا ساتھی ہوتا اور زندگی کا ایک حصہ خرچ کر کے بھی ان کا دفاع کر پاتا، تو میں ایسا ضرور کرتا۔‘‘ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 282 شیبانی کہتے ہیں: اس روایت کی اسناد کے رجال ثقہ ہیں، البتہ شعبی اور مدائنی سے انقطاع ہے)

پھر یزید نے ابن مرجانہ فارسیہ پر رد بھی کیا اور اسے قیدیوں کو شام بھیج دینے کا حکم دے بھیجا۔ جبکہ ابو خالد ذکوان کو پہلے بھیج دیا اور حکم دیا کہ انہیں سفر کی تیاری کے لیے دس ہزار درہم دئیے جائیں۔ (طبقات ابن سعد: جلد، 5 صفحہ 393 مواقف المعارضۃ: صفحہ 282)

گزشتہ میں یہ بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ امیر کوفہ نے آل بیت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے ایک الگ جگہ کا حکم دیا اور انہیں نفقہ اور خلعتوں سے نوازا۔

اس باب میں مروی اصح روایات یہ امر واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ یزید کو قتل حسین رضی اللہ عنہ پر ذرا بھی خوشی نہ ہوئی تھی بلکہ یزید بے حد غم زدہ اور غمگین ہو گیا تھا، کیونکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قتل یزید کے والد ماجد سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی وصیت کے خلاف تھا، جنہوں نے خاص طور پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیت اور ان کے حق کے اکرام کی، بے حد تاکید کی تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے سامنے جناب حسین رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کو خوب واضح فرمایا تھا اور بتلایا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی بے پناہ محبت و تعظیم ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں حکومت کا منہج جناب حسین رضی اللہ عنہ جیسے موقف رکھنے والے شخص کے ساتھ ویسا معاملہ کرنا نہ تھا، جو شیعان کوفہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ روا رکھا تھا، جس کا نمایاں عنصر غدر و خیانت تھا۔ بلکہ اس دور میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی سیاست، جس کو ان سے ان کے بیٹے یزید نے سیکھا، یہ تھی کہ کریمانہ اخلاق کے ساتھ امت مسلمہ کے زعماء اور سربرآوردہ افراد کو اپنی طرف مائل کیا جائے اور ان کا بے پناہ اکرام کر کے ان کی رضا اور اخلاص کو حاصل کیا جائے۔

چنانچہ یزید کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر، عظیم المرتبت اور رفیع الشان صحابی رسول اور سبط رسول کو قتل کر کے اسے کن بدنامیوں اور رسوائیوں کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا پڑے گا، جبکہ آخرت کی ذلتیں اور رسوائیاں اس کے علاوہ ہیں اور اس سب پہ مستزاد یہ کہ خود یزید کی صفوں میں وہ انتشار اور خلفشار پیدا ہو جائے گا، جس کا تدارک اس کے لیے از حد کٹھن ثابت ہو گا۔ اس لیے ہم جزم کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ یزید کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے المیہ پر بے حد حزن و ملال ہوا، گو دونوں میں قرابت و رحم کا رشتہ نہ تھا۔ کیونکہ یہ امر خود اس کے والد ماجد سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی جناب حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے بارے میں وصیت کے خلاف تھا اور یہی بات زیادہ صحیح اور واقعہ کے زیادہ قریب ہے۔

یزید کے حزن و ملال کا سبب یہ تھا کہ وہ جانتا تھا کہ خون حسین امت کے کسی بھی دوسرے شخص کے خون کی طرح نہیں خواہ اس کا مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو اور یزید اس بات کو بھی بخوبی جانتا تھا کہ جن لوگوں نے غداری کا مرتکب ہو کر خون حسین رضی اللہ عنہ سے اپنے ہاتھ رنگے تھے، ان کا مقصد امت مسلمہ میں ایک دائمی فتنہ کی آگ بھڑکانا تھا تاکہ روئے زمین پر دوبارہ اسی جاہلیت کو دندنانے کا موقعہ فراہم کریں، جس سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ نے زمین کو پاک کر دیا تھا۔

ان کوفیوں نے مسلمانوں کے درمیان نفرت اور فتنوں کو ہوا دینے اور جد حسین کے لائے ہوئے دین و عقیدہ سے جنگ کرنے کے لیے دم حسین کو استعمال کیا، جس سے امت سنت و الجماعت میں شک و ارتیاب، بے یقینی اور صحیح عقیدہ سے دُوری پیدا ہو گئی، جب کہ دوسری طرف ان حضرات نے امت سنت و الجماعت کے بیشتر بلاد و امصار پر قبضہ کر کے وہاں کتاب و سنت سے محاربہ کا میدان کارزار سجا لیا اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان جملہ احوال میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے والوں کا، یا جنہیں ان حضرات سے محبت کا دعویٰ ہے، ان کا حال شہودِ غیب کا ہے، جو اپنے بلاد و امصار اور عقیدہ و مذہب پر نازل ہونے والے مصائب کو ترچھی نگاہ سے دیکھتے تو ہیں، لیکن نہ تو ان میں کوئی جنبش پیدا ہوتی ہے، نہ یہ کسی دوسرے کو انگیخت کرتے ہیں اور نہ قلم و تلوار ہی کو حرکت دیتے ہیں ، جیسا کہ ان کے اکابر اسلاف اور سلف صالحین تھے، جو منکرات کو مٹانے کے لیے سربکف ہو کر میدان جہاد میں اتر آیا کرتے تھے۔ بلاشبہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت طاہرین رضی اللہ عنہم کے لیے یہ امر بھی کسی مصیبت عظمیٰ سے کم نہیں۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت نہ کی تھی جس کا کوفیوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا، چنانچہ ان کوفیوں نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے گہرے تعلق کا جھوٹا اظہار کیا، ان کے آگے اپنی جھوٹی اور باطل بیعت کا جال بن کر بچھایا، اپنے سچے جھوٹے خطوط میں احیائے سنت کے مزعومہ جذبات کو ملمع کر کے بیان کیا اور یہ سب کچھ یزید اور اس کے عاملوں پر نکتہ چینی اور حرف گیری کی آڑ میں کیا اور جناب حسین رضی اللہ عنہ کو اس بات پر ابھارا کہ وہ ان مزعومہ بگڑتے حالات کو سدھارنے میں آپ کا دست و بازو بنیں گے، اس لیے آپ کوفہ چلے آئیے۔

صفحہ 1 از 7