سیدنا علی رضی اللہ عنہ عہد فاروقی میں
علی محمد محمد الصلابیسیدنا علی رضی اللہ عنہ حکومت فاروقی کی مجلس شوریٰ کے ایک نمایاں ممبر تھے، بلکہ اگر کہا جائے کہ آپ ہی مشیر اول تھے، تو کوئی بیجا نہ ہوگا۔ سیدنا عمر فاروقؓ، سیدنا علیؓ کی فضیلت فقاہت، اور حکمت کے معترف تھے اور ان کے بارے میں بہترین رائے رکھتے تھے، ان کے بارے میں حضرت عمرؓ کا یہ قول ہے کہ ہم میں سب سے بہترین فیصلہ کرنے والے علی(رضی اللہ عنہ) ہیں۔
(الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب: صفحہ 1102، المعرفۃ والتاریخ: جلد 1 صفحہ 481)
ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ ابوبکر و عمر دونوں ہی حضرت علیؓ سے مشورہ لیا کرتے تھے اور سیدنا عمرؓ بسا اوقات کہتے تھے:
’’ایسے پیچیدہ معاملات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جسے ابوالحسن نہ حل کر سکیں۔‘‘
(فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر (1100) اس کی سند ضعیف ہے۔)
مسروق کا بیان ہے: ’’لوگ چھ آدمیوں کے پاس اپنے معاملات و مسائل لے کر جاتے تھے وہ عمر، علی، عبداللہ، ابوموسیٰ، زید بن ثابت اور اُبی بن کعب رضی اللہ عنہم تھے‘‘ اور کہا کہ ’’میں نے اصحابِ محمدﷺ کو علم میں آزمایا تو معلوم ہوا کہ چھ لوگوں پر ان کے علوم کی انتہا ہے۔ وہ عمر، علی، عبداللہ، ابو درداء، اُبی بن کعب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ہیں، پھر ان چھ کے درمیان میں نے مقابلہ کیا تو دیکھا کہ صرف دو کے علم پر بقیہ لوگوں کے علم کی انتہا ہے، وہ علی اور عبداللہ رضی اللہ عنہما ہیں۔
(علل الحدیث ومعرفۃ الرجال: علی بن المدینی: صفحہ 42، 43) نیز صحیح البخاری: حدیث نمبر (4481) عبداللہ سے مراد ابنِ مسعود ہیں۔)
مسروق ہی کا قول ہے کہ ’’تین شخصیات پر علم کی انتہا ہے، ایک عالمِ مدینہ، دوسرے عالمِ شام اور تیسرے عالمِ عراق۔ مدینہ کے بڑے عالم حضرت علی بن ابی طالبؓ ہیں، کوفہ کے بڑے عالم حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہیں اور شام کے بڑے عالم حضرت ابودرداءؓ ہیں اور اگرکبھی یہ تینوں یکجا ہوتے تو عالمِ شام اور عالمِ عراق عالمِ مدینہ سے سوال کرتے اور وہ ان سے سوال نہ کرتے۔
(المعرفۃ و التاریخ: الفسوی: جلد 1 صفحہ 444)۔
حضرت علیؓ، حضرت عمر فاروقؓ کے مقرب ترین لوگوں میں سے تھے ان سے مکمل تعاون کرتے تھے، جن معاملات ومسائل میں صریح نص نہ ہوتی انھیں حل کرنے میں نوخیز حکومت کے معاملات کی تنظیم میں حضرت عمرؓ کے ساتھ پوری کوشش کرتے تھے۔ اس کی کئی مثالیں اور دلائل ہیں، یہاں چند ایک کا تذکرہ کیا جارہا ہے:
