Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سوال شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

سوال شیعہ: حدیث لا نرث سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خود ہی وضع کر لی ہے آیت کی موجودگی میں ایسی حدیث کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔ 

جواب: شیعہ کی لاعلمی یا ہٹ دھرمی پر افسوس ہے یہی حدیث شیعہ کی اپنی معتبر کتابوں میں با روایت ائمہ اہلِ بیتؓ موجود ہے پھر اس حدیث کو موضوع کہنا اہلِ بیتؓ کو وضاع حدیث قرار دینا ہے چنانچہ کتاب اصولِ کافی صفحہ 17 میں ہے: 

عن ابی عبداللہ قال ان العلماء وراثہ الانبیاء وذلک ان الانبیاء لم یورثوا درھما ولا دینارا انما اورثوا احادیث۔

(دوسری حدیث مندرجہ ذیل صفحہ، 58 ورثوا العلم ہے 12)

من احادیثھم فمن اخذ بشیء فقد بحظ وافر۔

ابی عبداللہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں اور یہ اس لیے کہ انبیاء ورثہ میں درہم دینار نہیں چھوڑتے بلکہ اپنی احادیث چھوڑ جاتے ہیں پس جس شخص نے یہ میراث (احادیث الانبیاء) پائی اس کو بہرہ وافر ملا۔

اس حدیث میں مدلل طور پر بیان کیا گیا ہے کہ انبیاء مالِ دنیا کی میراث ہرگز نہیں چھوڑتے بلکہ ان کی معراج علم و حکمت ہے جن کو یہ میراث ملی وہی کامیاب ہوئی ہے اب تو شیعہ کی یہ کہنے کی مجال نہیں ہو سکتی کہ حدیث غلط اور موضوع ہے یہ حدیث اس وقت چل سکتی تھی جب شیعہ کی کتابیں اہلِ سنت کے پاس موجود نہ ہوتی تھیں اب تو خدا کے فضل سے شیعہ کی کتابیں علماءِ اہلِ سنت کے پاس موجود ہیں اس لیے اب شیعہ کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔

کیا لطف جو غیر پردہ کھولے 

جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے