Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سوال شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

سوال: دوسری آیات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انبیاء مالِ دنیا ترکہ میں چھوڑ جاتے ہیں اور ان کی اولاد وارث ہو سکتی ہے پھر سیدہ فاطمہؓ بنتِ رسول اللہﷺ کو کیوں ورثہ نہ ملے آیات یہ ہیں: 

1: وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ‌ الخ۔

(سورۃ النمل: آیت 16) 

ترجمہ: سلیمان علیہ السلام داؤد کے وارث ہوئے۔

فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا 

(سورۃ مریم: آیت 5)

يَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ الخ۔

(سورۃ مریم: آیت 6)

ترجمہ: اے خدا مجھے اپنی بارگاہ سے ولی عطا کر جو میرا اور آلِ یعقوب کا وارث ہو۔ 

جواب: شیعہ صاحبان کی سمجھ پر افسوس ہے جن آیات کو اپنی دلیل سمجھتے ہیں حقیقت میں ان سے ان کے دعویٰ کی تردید ہوتی ہے دونوں آیات میں میراث نبوت و حکمت مراد ہے اور یہی ورثاء انبیاء نے میراث حاصل کی پہلی آیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا وارث داؤد علیہ السلام ہونا بھی اسی معنیٰ سے ہے کہ داؤد کی میراثِ نبوت آپ ہی نے سنبھالی ورنہ اگر دنیوی مال کی وراثت ہوتی تو آیت کا معنیٰ ٹھیک نہیں ہوسکتا کیونکہ حضرت داؤد علیہ السلام کے نہ صرف حضرت سلیمان علیہ السلام واحد فرزند تھے بلکہ آپ کے 18 فرزند اور بھی موجود تھے آیت میں مالی وراثت مراد ہوتی تو چونکہ باپ کے مال کے سارے بیٹے وارث ہوتے ہیں اس لیے سب کے سب وارث ہوتے نہ کہ اکیلے حضرت سلیمان علیہ السلام وارث ہو سکتے تھے الا چونکہ میراثِ نبوت حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کو ملی اس لیے آیت وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ‌ الخ۔

(سورۃ النمل: آیت 16) میں اس امر کا فیصلہ کیا گیا کہ نبیوں کی میراث مال نہیں ہوتی ورنہ سلیمان کے اکیلے وارث ہونے کا مضمون صحیح نہ ہوتا انبیاء کی میراث علم و نبوت ہوتی ہے اس لیے بمنطوق العلماء ورثۃ الانبیاء ان کے حقیقی وارث وہی ہوتے ہیں جو منصب نبوت و حکمت سنبھالتے ہیں دوسری آیت سے اس کی تصدیق ہوتی ہے: وَلَـقَدۡ اٰتَيۡنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيۡمٰنَ الخ۔ (سورۃ النمل: آیت 15) 

ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا فرمایا۔

وَقَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ الخ۔

(سورۃ النمل: آیت 16)

ترجمہ: سلیمان نے کہا لوگو ہمیں جانوروں کی بولی کبھی علم عطا ہوا ہے فی الحقیقت مال دنیا کا عطا ہونا ایک نبی کی فضیلت کا باعث ہرگز نہیں ہو سکتا ہزاروں کفار نمرود فرعون جیسے مال دنیا کے مالک گزر چکے ہیں انبیاء کی دولت علم اور حکمت ہوتی ہے اور نبی کا صحیح وارث وہی کہلاتا ہے جس کو یہ دولت نصیب ہوتی ہے۔

مال دنیا خاکساراں راوہند

عاقبت پرہیز گاراں راوہند

ایک اور حدیث سے بھی یہ عقدہ حل ہوتا ہے کہ وراثت سلیمان علیہ السلام کی مالی نہ تھی وہ حدیث یہ ہے ان سلیمان ورث داؤد وان محمدﷺ ورث سلیمان اصولِ کافی (سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے اور حضرت محمدﷺ سلیمان علیہ السلام کے وارث ہوئے) اس حدیث نے تو فیصلہ ہی کر دیا کہ سلیمان علیہ السلام کی وراثت مالی نہ تھی ورنہ ان میں اور ہمارے رسول اللہﷺ میں کئی پشتیں گزر گئی اور سلیمان علیہ السلام کا وارث رسول اللہﷺ قرار دیے گئے کون نادان کہہ سکتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا کوئی باقی رہ گیا تھا جو ہمارے رسول کے قبضہ میں آیا چونکہ حضورﷺ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد کامل اور مکمل نبی ہوئے اس لیے گویا حضرت سلیمان علیہ السلام کے ترکہ کے صحیح معنوں میں آپ ہی وارث سمجھے جاتے ہیں دوسری آیت

فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا 

(سورۃ مریم: آیت 5)

يَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ الخ۔

(سورۃ مریم: آیت 6) 

ترجمہ: اے خدا مجھے ایسا ولی عہد عطاء فرما جو میرے بعد میری اور آلِ یعقوب کی میراث سنبھالے۔ 

اس آیت سے تو شیعہ کے خیال کی سخت تردید ہوتی ہے کیونکہ حضرت زکریا علیہ السلام نے جو فرزندِ صالح کی تمنا کی تھی وہ اس لیے نہ تھی کہ اب بہت سی دولت و مال کے مالک تھے اور آپ کو کھٹکا تھا کہ اس کو دوسرے وارث نہ سنبھال لیں کوئی بیٹا پیدا ہو جائے تو اس کے نصیب ہو کیونکہ انبیاء کو مال و دولت دنیا سے کام ہی کیا اگر ہو بھی اور وارثوں کے ملنا پسند نہ ہو تو ایک ان میں سارا مال راہِ خدا میں صرف کیا جا سکتا ہے ادہر آثارِ موت دکھلائی دیتے ادہر مال راہِ خدا میں خرچ کر دیا جاتا اور انبیاء کے دل بخل و حسد سے بالکل پاک ہوتے ہیں دنیا داروں کی طرح ان کو اپنے جدیوں سے یہ ضد کیونکر ہو کہ ان کے مرنے کے بعد ان کو کوئی چیز نہ ملے فی الحقیقت آپ کی دعا یہی تھی کہ قوم میں آپ کو کوئی ایسا نظر نہ آتا تھا جو ان کے بعد نبوت یا خلافت پا کر اصلاح خلق کر سکے آپ نے دعا فرمائی کہ یا اللہ مجھے ایسا ولی عہد عطا ہو جو میراثِ نبوت کا مالک ہو سکے اور اصلاح خلق اللہ کر سکے۔

اگر میراث سے مراد علمی نہیں بلکہ مالی ہو اور يَّرِثُنِىۡ کا مضمون صحیح ابھی ہو تو وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ کا مفہوم درست نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت یعقوب اور حضرت زکریا علیہ السلام کے درمیان دو ہزار سال کا فاصلہ ہے تو کیا اب تک آلِ یعقوب کا مال غیر منقسم پڑا تھا کہ وہ سب مال حضرت یحییٰ بن زکریا کو ملنا تھا ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہاں وراثتِ علمی مراد ہے یعنی ایسی اولاد عطا ہو جو اس ورثہ نبوت کا منصب سنبھال سکے جو آلِ یعقوب کا ورثہ تھا یا میرے مرنے کے بعد میرا منصب خالی ہوگا غرض دونوں آیات میں وراثتِ مالی مراد ہونا کسی صورت سے درست نہیں ہو سکتا بلکہ علمی وراثت مراد ہے اور یہ آیت شیعہ کی تائید نہیں بلکہ ان کے دعویٰ کی سخت تردید کرتی ہیں۔ 

تحقیقِ بالا سے ثابت ہو گیا کہ فدک مملوکہ خاص آنحضرت کا نہ تھا نہ آپ نے سیدہ فاطمہؓ کو ہبہ دیا نہ بطورِ وراثت آپ کو مل سکتا تھا یہ مالِ فے تھا مساکین و یتامیٰ وغربا فقراء کا حق تھا حضرت ابوبکرؓ نے اس میں وہی عمل کیا جو جنابِ رسالت مآبﷺ نے کیا تھا باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی ایسا ہی کیا۔