اس سال امیر حج کون تھا؟ اور کیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ…

اس سال امیر حج کون تھا؟ اور کیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے والیان ریاست سے مدد طلب کی؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

 اس سال (35ھ میں) کون امیر حج تھا؟

حضرت عثمان غنیؓ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا اور انہیں اس بات کا مکلف کیا کہ اس سال حج کی امارت وہ سنبھالیں اور لوگوں کو حج کرائیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا امیر المؤمنین! آپ مجھے معاف فرمائیں میں آپ کے ساتھ ان باغیوں کے مقابلہ میں رہنا چاہتا ہوں، اللہ کی قسم! ان خوارج سے جہاد کرنا مجھے حج سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: میں نے تم پر لازم کر دیا ہے کہ تم اس سال لوگوں کو حج کراؤ۔ اب ابن عباس رضی اللہ عنہا کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ امیر المؤمنین کی اطاعت کریں۔

حضرت عثمان غنیؓ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوگوں کے نام ایک خط بھیجا تاکہ وہ حج میں مسلمانوں کو پڑھ کر سنا دیں، اس خط میں آپ نے باغیوں کے ساتھ اپنا قصہ بیان کیا اور ان سے متعلق اپنے موقف کی وضاحت فرمائی اور ان کے مطالبات کو ذکر کیا۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ (167۔168)

حج 35ھ میں آپ کے خط کا مضمون یہ ہے:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ کے بندے عثمان امیر المؤمنین کی طرف سے مؤمنوں اور مسلمانوں کے نام سلام علیکم!

میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

اما بعد! میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تم پر انعام کیا اور تمھیں اسلام سکھایا اور ضلالت سے نکال کر ہدایت بخشی اور کفر سے نجات عطا کی، تمھیں واضح دلائل دکھائے اور تمہارے اوپر رزق کو کشادہ کیا، دشمن پر تمھیں فتح دی، تمھیں اپنی نعمتوں سے ڈھانپ لیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا قول برحق ہے:

وَاٰتٰٮكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مَا سَاَلۡـتُمُوۡهُ‌وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَااِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَـظَلُوۡمٌ كَفَّارٌ۞ (سورۃ ابراهيم آیت 34)

ترجمہ: اور تم نے جو کچھ مانگا، اس نے اس میں سے (جو تمہارے لیے مناسب تھا) تمہیں دیا۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار (بھی) نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت بےانصاف، بڑا ناشکرا ہے۔ 

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ۞وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاوَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ۞وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ۞وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡامِنۡ بَعۡدِمَاجَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۞(سورۃ آل عمران آیت 102 تا 105)

ترجمہ: اے ایمان والو! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔ اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔ اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آچکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑ گئے، ایسے لوگوں کو سخت سزا ہوگی۔

اور ارشاد الہٰی ہے اور اس کا قول حق ہے:

وَاذْکُرُوْ انِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِهٖ اِذْقُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللهَ اِنَّ اللهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۞(سورۃ المائدة آیت 7)

ترجمہ: اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اسے اور اس عہد کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا تھا۔ جب تم نے کہا تھا کہ: ہم نے (اللہ کے احکام کو) اچھی طرح سن لیا ہے، اور اطاعت قبول کرلی ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناً سینوں کے بھید سے پوری طرح باخبر ہے۔

اللہ تعالیٰ کافرمان ہے اور اس کا فرمان بر حق ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِيۡبُوۡا قَوۡمًابِجَهَالَةٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَافَعَلۡتُمۡ نٰدِمِيۡنَ ۞وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِيۡكُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰهِ‌لَوۡ يُطِيۡعُكُمۡ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ۞ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةًوَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞(سورۃ الحجرات آیت 6 تا 8)

صفحہ 1 از 5