Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اس سال امیر حج کون تھا؟ اور کیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے والیان ریاست سے مدد طلب کی؟

  علی محمد الصلابی

 اس سال (35ھ میں) کون امیر حج تھا؟

حضرت عثمان غنیؓ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا اور انہیں اس بات کا مکلف کیا کہ اس سال حج کی امارت وہ سنبھالیں اور لوگوں کو حج کرائیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا امیر المؤمنین! آپ مجھے معاف فرمائیں میں آپ کے ساتھ ان باغیوں کے مقابلہ میں رہنا چاہتا ہوں، اللہ کی قسم! ان خوارج سے جہاد کرنا مجھے حج سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: میں نے تم پر لازم کر دیا ہے کہ تم اس سال لوگوں کو حج کراؤ۔ اب ابن عباس رضی اللہ عنہا کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ امیر المؤمنین کی اطاعت کریں۔

حضرت عثمان غنیؓ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوگوں کے نام ایک خط بھیجا تاکہ وہ حج میں مسلمانوں کو پڑھ کر سنا دیں، اس خط میں آپ نے باغیوں کے ساتھ اپنا قصہ بیان کیا اور ان سے متعلق اپنے موقف کی وضاحت فرمائی اور ان کے مطالبات کو ذکر کیا۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ (167۔168)

حج 35ھ میں آپ کے خط کا مضمون یہ ہے:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ کے بندے عثمان امیر المؤمنین کی طرف سے مؤمنوں اور مسلمانوں کے نام سلام علیکم!

میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

اما بعد! میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تم پر انعام کیا اور تمھیں اسلام سکھایا اور ضلالت سے نکال کر ہدایت بخشی اور کفر سے نجات عطا کی، تمھیں واضح دلائل دکھائے اور تمہارے اوپر رزق کو کشادہ کیا، دشمن پر تمھیں فتح دی، تمھیں اپنی نعمتوں سے ڈھانپ لیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا قول برحق ہے:

وَاٰتٰٮكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مَا سَاَلۡـتُمُوۡهُ‌وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَااِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَـظَلُوۡمٌ كَفَّارٌ۞ (سورۃ ابراهيم آیت 34)

ترجمہ: اور تم نے جو کچھ مانگا، اس نے اس میں سے (جو تمہارے لیے مناسب تھا) تمہیں دیا۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار (بھی) نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت بےانصاف، بڑا ناشکرا ہے۔ 

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ۞وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاوَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ۞وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ۞وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡامِنۡ بَعۡدِمَاجَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۞(سورۃ آل عمران آیت 102 تا 105)

ترجمہ: اے ایمان والو! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔ اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔ اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آچکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑ گئے، ایسے لوگوں کو سخت سزا ہوگی۔

اور ارشاد الہٰی ہے اور اس کا قول حق ہے:

وَاذْکُرُوْ انِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِهٖ اِذْقُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللهَ اِنَّ اللهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۞(سورۃ المائدة آیت 7)

ترجمہ: اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اسے اور اس عہد کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا تھا۔ جب تم نے کہا تھا کہ: ہم نے (اللہ کے احکام کو) اچھی طرح سن لیا ہے، اور اطاعت قبول کرلی ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناً سینوں کے بھید سے پوری طرح باخبر ہے۔

اللہ تعالیٰ کافرمان ہے اور اس کا فرمان بر حق ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِيۡبُوۡا قَوۡمًابِجَهَالَةٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَافَعَلۡتُمۡ نٰدِمِيۡنَ ۞وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِيۡكُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰهِ‌لَوۡ يُطِيۡعُكُمۡ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ۞ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةًوَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞(سورۃ الحجرات آیت 6 تا 8)

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔ اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑ جاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنا دیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آ چکے ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَشۡتَرُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَاَيۡمَانِهِمۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا اُولٰٓئِكَ لَاخَلَاقَ لَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنۡظُرُ اِلَيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيۡهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 77)

ترجمہ: (اس کے برخلاف) جو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد اور اپنی کھائی ہوئی قسموں کا سودا کر کے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، اور قیامت کے دن نہ اللہ ان سے بات کرے گا، نہ انہیں (رعایت کی نظر سے) دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کا حصہ تو بس عذاب ہوگا، انتہائی دردناک۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اور اس کا ارشاد برحق ہے:

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَاسۡمَعُوۡا وَاَطِيۡعُوۡا وَاَنۡفِقُوۡا خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡ‌وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۞ (سورۃ التغابن آیت 16)

ترجمہ: لہٰذا جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو، اور سنو اور مانو اور (اللہ کے حکم کے مطابق) خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے، اور جو لوگ اپنے دل کی لالچ سے محفوظ ہو جائیں، وہی فلاح پانے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اس کا فرمانا برحق ہے:

وَاَوۡفُوۡابِعَهۡدِ اللّٰهِ اِذَا عَاهَدتُّمۡ وَلَا تَنۡقُضُواالۡاَيۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡكِيۡدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيۡلًا‌ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ‏۞وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّتِىۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ اَنۡكَاثًا تَتَّخِذُوۡنَ اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًا بَيۡنَكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرۡبٰى مِنۡ اُمَّةٍ‌ اِنَّمَا يَبۡلُوۡكُمُ اللّٰهُ بِهٖ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مَا كُنۡـتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ۞وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَـعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنۡ يُّضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ وَلَـتُسۡــئَلُنَّ عَمَّا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ۞وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًا بَيۡنَكُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعۡدَ ثُبُوۡتِهَا وَتَذُوۡقُواالسُّوۡۤءَ بِمَا صَدَدْتُّمۡ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ وَلَـكُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۞وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا‌ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰهِ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ۞مَا عِنۡدَكُمۡ يَنۡفَدُ‌ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍ وَلَـنَجۡزِيَنَّ الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَاكَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏۞(سورۃ النحل آیت 91 تا 96)

ترجمہ: اور جب تم نے کوئی معاہدہ کیا ہو تو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرو، اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد انہیں نہ توڑو، جبکہ تم اپنے اوپر اللہ کو گواہ بنا چکے ہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو، یقیناً اللہ اسے جانتا ہے۔ اور جس عورت نے اپنے سوت کو مضبوطی سے کاتنے کے بعد اسے ادھیڑ کر تار تار کردیا تھا، اس جیسے نہ بن جانا کہ تم بھی اپنی قسموں کو (توڑ کر) آپس کے فساد کا ذریعہ بنانے لگو، صرف اس لیے کہ کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ فائدے حاصل کرلیں۔ اللہ اس کے ذریعے تمہاری آزمائش کر رہا ہے۔ اور قیامت کے دن وہ تمہیں وہ باتیں ضرور کھول کر بتادے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت (یعنی ایک ہی دین کا پیرو) بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے (اس کی ضد کی وجہ سے) گمراہی میں ڈال دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔ اور تم جو عمل بھی کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔ اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ نہ بناؤ، جس کے نتیجے میں کسی (اور) کا پاؤں جمنے کے بعد پھسل جائے، پھر تمہیں (اس کو) اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے بری سزا چکھنی پڑے، اور تمہیں (ایسی صورت میں) بڑا عذاب ہوگا۔ اور اللہ کے عہد کو تھوڑ سی قیمت میں نہ بیچ ڈالو۔ اگر تم حقیقت سمجھو تو جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہو جائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا ہم انہیں ان کے بہترین کاموں کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اس کا قول برحق ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤااَطِيۡـعُوااللّٰهَ وَاَطِيۡـعُواالرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ذٰلِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا ۞(سورۃ النساء آیت 59)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔

اللہ کا ارشاد ہے اور اس کا ارشاد بر حق ہے:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۞ (سورۃ النور آیت 55)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اور اس کا فرمان بر حق ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُبَايِعُوۡنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوۡنَ اللّٰهَ يَدُاللّٰهِ فَوۡقَ اَيۡدِيۡهِمۡ‌ فَمَنۡ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنۡكُثُ عَلٰى نَفۡسِهٖ‌وَمَنۡ اَوۡفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيۡهُ اللّٰهَ فَسَيُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞ (سورۃ الفتح آیت 10)

ترجمہ: اے پیغمبر!) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، اس کے بعد جو کوئی عہد توڑے گا، اس کے عہد کو توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اس کو زبردست ثواب عطا کرے گا۔ 

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے سمع و اطاعت اور جماعت کو پسند کیا ہے اور معصیت، افتراق اور اختلافات سے تمھیں منع کیا ہے اور تم سے ان لوگوں کے افعال کی خبر بیان کی ہے جو تم سے پہلے تھے تاکہ اگر تم ان کی نافرمانی کرو تو تمہارے خلاف حجت رہے لہٰذا اللہ کی نصیحت کو قبول کرو اور اس کے عذاب سے بچو۔ تم کسی امت کو نہیں پاؤ گے کہ وہ ہلاک ہوئی ہو الا یہ کہ اس نے اختلاف کیا ہو گا، جب کوئی قوم اختلاف کا شکار ہوتی ہے اور اس کو متحد رکھنے والا کوئی امیر نہ ہو تو اللہ اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور جب تم بھی ایسا کرو گے تو نماز کو اکٹھا قائم نہیں کر سکو گے اللہ تم پر دشمن کو مسلط کر دے گا اور تم میں سے بعض بعض کی حرمت کو پامال کریں گے اور جب یہ کیا جائے گا تو اللہ کا دین قائم نہیں رہے گا اور تم فرقوں میں منقسم ہو جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا:

اِنَّ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَـعًا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ‌ اِنَّمَاۤ اَمۡرُهُمۡ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَـبِّـئُـهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ۞ (سورۃ الأنعام آیت 159)

ترجمہ: (اے پیغمبر) یقین جانو کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے، اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے حوالے ہے۔ پھر وہ انہیں جتلائے گا کہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔

وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِىۡۤ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ‌ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ‏۞وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤااِلَيۡهِ‌ اِنَّ رَبِّىۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ‏۞(سورۃ هود آیت 89، 90)

ترجمہ: اور اے میری قوم! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کر رہے ہو، وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم پر یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہو چکی ہے۔ اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔ تم اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اسی کی طرف رجوع کرو، یقین رکھو کہ میرا رب بڑا مہربان، بہت محبت کرنے والا ہے۔

اما بعد!

کچھ لوگ جو اس سلسلہ میں گفتگو کر رہے تھے، انہوں نے لوگوں سے یہ ظاہر کیا کہ وہ اللہ کی کتاب اور حق کی طرف دعوت دے رہے ہیں، ان کے پیشِ نظر دنیا نہیں ہے اور نہ دنیا کے بارے میں کسی سے جھگڑنا چاہتے ہیں، لیکن جب ان کے سامنے حق پیش کیا گیا تو لوگوں نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا، ان میں کچھ حق کو قبول کرنے والے، اور کچھ ایسے ہیں کہ جب حق انہیں دیا جاتا ہے تو اس سے اعراض کرنے والے ہیں اور کچھ حق کو ترک کرنے والے کچھ اسے چھوڑ دینے والے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کو زبردستی بغیر حق کے لے لیں۔ ان کے ساتھ میرا طویل تجربہ ہے، ان کی خواہش امارت و قیادت ہے، انہوں نے تقدیر سے سبقت کرنے کی کوشش کی، ان حضرات نے آپ لوگوں کو یہ لکھا کہ وہ لوگ اس عہد کے باعث پلٹ گئے ہیں جو میں نے ان کو دیا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ میں نے جس کا ان سے عہد کیا تھا اس میں سے کوئی چیز چھوڑی ہے، ان کا زعم یہ تھا کہ وہ حدود کو طلب کرنے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ جس کے بارے میں تمھیں معلوم ہو کہ اس نے کسی کے بارے میں حد کی پامالی کی اس پر حد قائم کرو اور جس نے بھی تم پر ظلم کیا ہے قریب سے یا دور سے، اس پر حد قائم کرو۔ انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب تلاوت کی جائے، میں نے کہا: کاش جو اس کی تلاوت کرے اس میں غلو نہ کرے کہ جو اللہ نے کتاب میں نازل نہیں کیا اس میں شامل کرے۔ انہوں نے کہا: محروم کو روزی دی جائے، مال برابر تقسیم کیا جائے تاکہ سنت حسنہ جاری ہو، خمس میں سے حد سے تجاوز نہ کیا جائے اور نہ زکوٰۃ میں، اور قوت و امانت سے متصف افراد کو امارت دی جائے اور لوگوں کے حقوق انہیں لوٹائے جائیں۔ ان مطالبات پر میں راضی ہوا اور اس پر ڈٹ گیا، میں نے آپ حضرات کو اور اپنے ساتھیوں کو جو مناصب پر تھے فرمان جاری کر دیے لیکن اس کے باوجود ان حضرات نے تقدیر سے سبقت کرنے کی کوشش کی اور مجھ سے نماز روک دی میرے اور مسجد کے درمیان حائل ہو گئے اور مدینہ میں جس چیز پر قادر ہوئے زبردستی قبضہ کر لیا۔ میں آپ حضرات کو یہ خط تحریر کر رہا ہوں اور حال یہ ہے کہ مجھے ان لوگوں نے تین امور میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یا تو ہر شخص جس کو مجھ سے تکلیف پہنچی ہے خواہ صحیح ہو یا غلطی سے اس کا وہ ہم سے قصاص لیں گے اس میں سےکچھ بھی چھوڑیں گے نہیں۔ یا میں خلافت سے دست بردار ہو جاؤں اور وہ کسی دوسرے کو خلیفہ مقرر کر لیں۔ یا وہ لشکر اور مدینہ والوں میں سے اپنے متبعین کو جمع کریں گے اور وہ سب اس سے اپنی برأت کا اظہار کریں گے جس کی سمع و اطاعت اللہ نے ان پر فرض کر رکھی ہے۔ ان کے اس مطالبہ کے جواب میں میں نے ان سے کہا: رہا مسئلہ ہر ایک کا قصاص دینے کا تو مجھ سے قبل خلفاء گزرے ہیں ان سے بھی خطاء و صواب کا صدور ہوا ہے، لیکن ان میں سے کسی سے قصاص نہیں لیا گیا اور میں جانتا ہوں کہ وہ میری جان لینا چاہتے ہیں، رہا یہ کہ خلافت و امارت سے دست بردار ہو جاؤں تو اگر یہ لوگ آنکس سے مجھ پر حملہ کریں تو یہ میرے لیے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اللہ کے عمل اور اس کی خلافت سے دست بردار ہو جاؤں۔ رہا تمہارا یہ کہنا: لشکر اور مدینہ والوں کو بلایا جائے گا اور وہ میری اطاعت سے برأت کا اظہار کریں گے تو یاد رہے میں تم پر داروغہ نہیں ہوں اور نہ میں نے کسی کو اس سے قبل سمع و اطاعت پر مجبور کیا ہے۔ لوگوں نے خود برضا و رغبت اطاعت قبول کی ہے، وہ اللہ کی رضا کے طالب ہیں آپس میں اصلاح چاہتے ہیں۔ تم میں سے جو شخص دنیا کا طالب ہے وہ اس میں سے اتنا ہی پا سکتا ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی رضا، دار آخرت اور امت کی بھلائی اور اللہ کی خوشنودی اور سنت حسنہ چاہتا ہے جس پر رسول اللہﷺ اور آپ کے بعد دونوں خلفاء قائم رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کا بدلہ دے گا میرے ہاتھ میں تمہارا بدلہ نہیں۔ اگر میں تمھیں پوری دنیا دے دوں تو یہ تمہارے دین کی قیمت نہیں ہو سکتی اور تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ لہٰذا اللہ سے تقویٰ اختیار کرو اس کے پاس جو ہے اس کی امید رکھو اور جو تم میں بیعت کو توڑنا پسند کرتا ہے تو میں اس کے لیے اس کو نہیں پسند کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ تم اس کے عہد کو توڑ دو۔ اور جس چیز کا یہ لوگ مجھے اختیار دے رہے ہیں یہ سب کے سب جھگڑے اور سازش کی باتیں ہیں۔ میں نے اپنے نفس اور اپنے ساتھیوں پر کنٹرول کر رکھا ہے میں نے اللہ کے حکم کا پاس رکھا اور تغییر نعمت اللہ کی طرف سے ہے اور برے طریقے، اختلاف امت اور خونریزی کو میں نے ناپسند کیا۔ یقیناً میں تمھیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھ سے حق لو اور ظلم سے بچو اور عدل کو قائم کرو جیسا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ میں تمھیں اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے عہد و تعاون کو تم پر لازم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ‌ وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَهۡدِ‌اِنَّ الۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡــئُوۡلًا۞ (سورۃ الإسراء آیت 34)

ترجمہ: اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکو، مگر ایسے طریقے سے جو (اس کے حق میں) بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو، یقین جانو کہ عہد کے بارے میں (تمہاری) باز پرس ہونے والی ہے

یہ اللہ کے حضور معذرت ہے اور شاید کہ تم عبرت حاصل کرو۔

اما بعد!

میں نے اپنے نفس کو بے قصور نہیں قرار دیا: 

وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِىۡ‌اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّامَا رَحِمَ رَبِّىۡ اِنَّ رَبِّىۡ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۞ (سورۃ يوسف آیت 53)

ترجمہ: اور میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرما دے تو بات اور ہے (کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

اگر میں نے کچھ لوگوں کو سزائیں دی ہیں تو اس سے میرا مقصود خیر ہی رہا ہے۔ اور میں نے جو عمل کیا ہے اس سے اللہ سے توبہ کرتا ہوں اور اس سے مغفرت چاہتا ہوں، اس کے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔ میرے رب کی رحمت ہر چیز کو شامل ہے۔ اللہ کی رحمت سے گمراہ لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور سیئات کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے۔ میں اللہ سے سوالی ہوں کہ مجھے اور تمھیں بخش دے اور اس امت کے دلوں کو خیر پر ملا دے اور فسق کو ناپسند بنا دے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ‘‘

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے یہ خط یوم ترویہ سے ایک دن قبل لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 425، 431)