سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرنا اور معرکہ…

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرنا اور معرکہ اجنادین و یرموک

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

شام میں اسلامی فوج کی قیادت رومی فوج کی نقل وحرکت پر نگاہ رکھے ہوئی تھی۔ قائدین کو صورت حال کی خطرناکی کا احساس ہوا۔ انہوں نے جولان میں قائدین کی کانفرنس بلائی اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کو خط کے ذریعہ سے صورت حال سے آگاہ کیا اور اس کانفرنس میں یہ قرارداد پاس کی کہ تمام مفتوحہ علاقوں کو خالی کر دیا جائے اور اسلامی فوج ایک جگہ اکٹھی ہو جائے تاکہ رومیوں کے منصوبہ کو ناکام بنایا جا سکے اور انہیں لشکر اسلام کے ساتھ فیصلہ کن جنگ پر مجبور کیا جائے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ یرموک کا انتخاب کیا جائے اور لشکر اسلام وہاں جمع ہو جائے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے بھی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی رائے سے موافق آئی۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 148)

قائدین کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ دشمن سے مڈبھیڑ کیے بغیر اسلامی افواج اپنے اپنے علاقوں کو خالی کر کے یرموک میں جمع ہو جائیں چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے حمص سے، شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے اردن سے اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے دمشق سے واپسی شروع کر دی اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے تدریجاً فلسطین سے واپسی شروع کی۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: 148)

لیکن سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے یرموک پہنچنے سے قبل واپسی مکمل نہ کر سکے کیونکہ رومی افواج ان کا پیچھا کر رہی تھیں۔ اس لیے وہ ’’بئر سبع‘‘ میں داؤ پیچ میں لگے رہے اور مسلمان رومیوں پر جوابی حملہ کرنے پر مجبور ہوئے جس کے نتیجے میں معرکہ اجنادین پیش آیا۔

(حروب الاسلام فی الشام: احمد محمد: صفحہ 45)

جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا خط ملا تو آپؓ نے انہیں جوابی خط کے ذریعہ سے حکم فرمایا کہ وہ جگہ خالی کر کے یرموک میں جمع ہو جائیں اور شہسواروں کو دیہاتوں اور بستیوں میں پھیلا دیں اور وہ ان کی رسد روک دیں۔ شہروں کا محاصرہ اس وقت تک نہ کریں جب تک میرا حکم نہ آجائے اور اگر دشمن مقابلہ آرائی پر اتر آئے تو اس کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرو اور ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کرو اور جو فوجی مدد ان کو پہنچے گی، میں بھی اسی طرح تمہیں فوجی مدد بھیجتا رہوں گا۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 148)

اور ایک روایت میں ہے: تم جیسے لوگ قلت کی وجہ سے شکست نہیں کھائیں گے۔ دس ہزار کی فوج اپنے گناہوں کی وجہ سے ہی شکست کھا سکتی ہے لہٰذا گناہوں سے بچو اور تم سب مل کر یرموک میں جمع ہو جاؤ اور تم میں سے ہر ایک اپنی فوج لے کر وہاں پہنچ جائے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 211)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چاروں اسلامی افواج کو حکم دیا کہ وہ (یرموک میں) جمع ہو کر ایک لشکر کی شکل اختیار کر لیں اور مشرکین کے حملہ کا مقابلہ مسلمانوں کے حملہ سے کریں اور ان سے فرمایا: تم اللہ کے دین کے مددگار ہو اور جو اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی مدد کرتا ہے اور جو اس کے دین کی مدد نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔

چنانچہ ہم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خطوط کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں کہ آپ نے اسلامی فوج کی نصرت و غلبہ کی اساس اللہ کی اطاعت کو قرار دیا کیونکہ شکست و رسوائی معصیت اور گناہ کے ارتکاب سے ہوتی ہے اور آپؓ نے اسلامی فوج کو ایک جگہ جمع کیا تاکہ دشمن مختلف علاقوں میں ان کے منتشر ہونے کی وجہ سے یکے بعد دیگرے ان کی قوت کو ختم نہ کر سکے۔ اسی طرح یرموک کو اسلامی افواج کے جمع ہونے کا مرکز قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے دور میں جغرافیہ ارض سے بخوبی واقفیت تھی اور وہ مقامات و مواقع کا بخوبی علم و ادراک رکھتے تھے اور یہ چیز جنگی معاملات و تدابیر میں عظیم فقاہت ہے، جس کی توفیق اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو عطا کی تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ قرارداد جاری کی کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ عراق سے شام منتقل ہو جائیں اور وہاں پہنچ کر اسلامی فوج کی قیادت سنبھال لیں کیونکہ اس وقت شام میں ایسے قائد کی ضرورت تھی جس کے اندر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی طاقت و صلاحیت، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی زیرکی وسیاست اور عکرمہ رضی اللہ عنہ کی مہارت، یزید رضی اللہ عنہ کا اقدام و پیش قدمی کا جوہر یکجا ہو اور مسائل میں حتمی فیصلہ کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ عظیم عسکری صلاحیت کا مالک ہو، زیرکی وسیاست اور تدبیر اقدام وپیش قدمی کا جوہر اس کے اندر ہو، مہارت ودرایت کا مالک ہو اور طویل جنگی تجربہ رکھتا ہو۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 359، 360)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نگاہ انتخاب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر پڑی اور عراق میں انہیں خط تحریر کیا، چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکرؓ کے فرمان کو نافذ کیا اور صحرا کو عبور کرتے ہوئے اپنی فوج کے ساتھ شام پہنچے، تاریخ جس کی مثال دینے سے قاصر ہے، جس کی تفصیل ہم بیان کر چکے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام کی طرف فوجی امداد کا سلسلہ جاری رہا اور نہایت کامیاب منصوبے پیش کرتے رہے اور دشمن کے ان ٹیکنیکل اور معنوی و مادی اسالیب کا جواب دیتے رہے، جن کا مقصد آپ کو ان کے ہدف سے پھیرنا اور مشغول کرنا تھا چنانچہ قائدین روم نے کہا: ’’واللہ ہم ابوبکر کو اپنی سر زمین کی طرف فوج بھیجنے سے مشغول کر کے رہیں گے۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 7)

جس کے جواب میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ’’ہم خالد بن ولید کے ذریعہ سے نصاریٰ کو ان کے شیطانی منصوبوں سے مشغول کر دیں گے۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 7)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی توجیہات سے متعدد امور سامنے آئے:

شام میں موجود اسلامی افواج کو ایک فوج میں مدغم کر دینا۔

تمام قائدین کو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی امارت کے تابع کر دینا۔

مقام اجتماع کی تحدید

صفحہ 1 از 4