مرتدین سے جنگیں
علی محمد الصلابیمرتدین کے خلاف جنگ کے سلسلے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے بالکل درست تھی، اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے لیے حالات بھی اسی رائے کا تقاضا کر رہے تھے، اس کے علاوہ کسی دوسری رائے میں ناکامی، نقصان، شکست اور جاہلیت کی جانب لوٹ جانے کے علاوہ کچھ نہ ہوتا، اگر اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال نہ ہوتی، پھر مرتدین کے خلاف جنگ سے متعلق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سخت مؤقف نہ ہوتا تو تاریخ بدل جاتی، تاریخ کا رخ مڑ جاتا، وقت کی رفتار پیچھے کی طرف مڑ جاتی، اور روئے زمین پر جاہلیت اپنی تمام تر خرابیوں کے ساتھ لوٹ آتی۔
(الشوریٰ بین الأصالۃ و المعاصرۃ: صفحہ 86)
آپ کی شدید دینی غیرت اور اسلام کی صحیح سمجھ آپ کے اس قول سے واضح ہے:
قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَ تَمَّ الدِّیْنُ أَیَنْقُصُ وَ أَنَا حَيٌّ۔
(المرتضٰی لأبی الحسن علی الندوی: صفحہ 70، مشکاۃ المصابیح: رقم: 6034)
’’وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے، دین پورا ہوچکا ہے، کیا میں جیتے جی اس میں کمی آنے دوں گا؟‘‘
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے خلاف جنگ سے متعلق تمام صحابہ کرامؓ کی آراء کو سنا، اور اس بنا پر کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ رائے کی پختگی اور قوتِ فیصلہ کے مالک تھے جنگ کا پختہ ارادہ کرلیا، اور صحیح رائے واضح ہو جانے کے بعد ایک لمحہ بھی تردد نہیں کیا، اور متردد نہ ہونا اس عظیم خلیفہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی بھر کی جانی پہچانی عادت تھی۔
(الشوری بین الأصالۃ و المعاصرۃ: صفحہ 87)
مسلمان سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی رائے پر مطمئن ہوگئے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بات مان لی، اسے درست قرار دیا، اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا یہ قول:
واللّٰه لو منعوني عقالا کانوا یؤدونہ إلی رسول اللّٰه صلي الله عليه وسلم لقاتلتہم علی منعہ۔
(صحیح البخاری: رقم: 6924)
’’اللہ کی قسم ایک رسی بھی جو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زکوٰۃ میں دیتے تھے اگر اس کو روک لیں گے تو میں ان سے قتال کروں گا۔‘‘
تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوگیا، گردش ایام اسے مٹا نہ سکی، صدیوں کا امتداد اور زمانے کی رکاوٹیں ہم تک پہنچنے سے اسے روک نہ سکیں، مرتدین کے خلاف جنگ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیاسی حکمت و دانائی سے کام لیا، علمی، اعلامی، جاسوسی، دعوتی اور نفسیاتی اسالیب پر مبنی حکیمانہ منصوبہ بندی کا استعمال کیا، فتحیاب فوجوں کو بھیجا جنھو ں نے جزیرۃ العرب سے ارتداد کی تحریک کا قلع قمع کر دیا۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے ساتھ تعامل سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تفقہ کو سیکھا، اسی طرح مرتدین کے خلاف جہاد سے متعلق غلبہ و قوت کے بعض فقہی جوانب کو بھی سیکھا، ان میں سے بعض اہم جوانب درج ذیل ہیں:
جزیرۃ العرب میں حکومتی نظم و نسق قائم ہونا (الانشراح و رفع الضیق فی سیرۃ أبی بکر الصدیق۔):
بلاشبہ ارتداد کی جنگیں، اس کے اسباب اور ان کا خاتمہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تفقہ، یہ تمام چیزیں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ذہن میں گھر کر گئیں، اور سماع یا مشاہدہ کے ذریعے سے آپ کی ثقافت کا حصہ بن گئیں۔
اسی طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے ہم عصروں کے ذہنوں میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خارجی سیاست کے خدوخال واضح تھے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اسلامی حکومت کی خارجی سیاست کے اغراض و مقاصد کو متعین کردیا تھا۔ ان میں سے بعض اہم مقاصد یہ ہیں:
دوسری قوموں میں اسلامی حکومت کی ہیبت قائم کرنا۔
مفتوح قوموں کے مابین عدل و انصاف قائم کرنا اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا۔
مفتوح قوموں پر جبر و اکراہ نہ کرنا۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جس جہاد کا حکم دیا ہے اسے باقی رکھنا۔
اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جنگی منصوبہ بندی کے خد و خال سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے ہم عصروں کے ادب و ثقافت کا حصہ بن گئے تھے، چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے مشیر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل کر جنگی منصوبہ کا خاکہ تیار کیا اور اسی کے مطابق عمل کیا اور یہ ٹھوس منصوبہ من جانب اللہ مسلمانوں کی مدد اور غلبہ کے اسباب میں سے اہم سبب رہا۔ اس خاکہ کی بعض اہم چیزیں یہ ہیں:
دشمن کے علاقے جب تک مسلمانوں کے ماتحت نہ ہوجائیں ان میں دور تک نہ گھسا جائے۔
تیاری کرنا اور قوتوں کو یکجا کرنا۔
لشکروں کے لیے کمک بھیجنے کے کام کو منظم کرنا۔
جنگ کا مقصد متعین کرنا۔
جنگی تدبیروں کی تنفیذ کے مقامات کو افضلیت اہمیت دینا۔
میدان جنگ سے ہٹ کر رہنا۔
جنگ کے طریقوں کو ترقی یافتہ بنانا۔
کمانڈروں کو پیغام رسانی اور ان سے پیغام کے حصول کے ذرائع کی حفاظت۔
خلیفہ کی زیرکی (الانشراح و رفع الضیق فی سیرۃ ابی بکر الصدیق):
چنانچہ ابتدائی فتوحات میں اسلامی جنگی منصوبوں میں زیرکی و چالاکی، فہم و فراست اور تدبیر والی عقل کے مالک سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا امتیازی کردار رہا، جنگی منصوبہ بندی میں ان کی وسیع تر سمجھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی صحبت معاون رہی، سیدنا ابوبکر صدیقؓ نبوی تعلیم و تربیت کے فیض یافتہ تھے، چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو بہت سارے علوم اور مختلف تجربات حاصل تھے، وفات نبوی کے بعد خلافت کی ذمہ داریوں کو بہت اچھے ڈھنگ سے نبھایا، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو بیدار بصیرت حاصل رہی، لشکروں کو قیمتی نصیحتوں سے نوازتے رہے، بروقت کمک بھیجتے رہے، جن سے مجاہدین کو مدد ملتی رہے، ان میں بلند ہمت اور حوصلہ پیدا ہوتا رہے۔
(تاریخ الدعوۃ الاسلامیۃ: صفحہ 326)
بلاشبہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی تربیت کتاب اللہ اور نبوی طریقے کی روشنی میں ہوئی۔ سیدنا حسنؓ نے ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طریقوں کو اچھی طرح اپنایا، ان میں سرفہرست سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔