Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عقیقہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی جانب سے ایک ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا

(سنن ابی داود فی الاضاحی: رقم: 2841 اس کی سند میں ضعف ہے۔)

 اور دوسری میں ہے کہ دو دو مینڈھے کا۔ 

(سنن النسائی: جلد 7 صفحہ 166 باب کم یعق عن الجاریۃ، اس کی سند صحیح ہے۔)

ابو رافعؓ سے روایت ہے کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، آپ کی والدہ نے آپ کی جانب سے دو مینڈھوں کا عقیقہ کرنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ان کا عقیقہ نہ کرو، لیکن ان کا سر مونڈاؤ اور ان کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرو، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو انھوں نے ایسا ہی کیا۔‘‘

(مسند احمد: جلد6 صفحہ 392 اس کی سند میں ضعف ہے۔)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کی ذمہ داری چوں کہ خود اٹھالی تھی اس لیے انھیں اس سے روکا تھا، آپﷺ کے روکنے کا مقصد عقیقہ کو بالکل ترک کردینا نہیں تھا، جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث بتلاتی ہے:

عَقَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم عَنِ الْحَسَنِ بِشَأْۃٍ وَقَالَ یَا فَاطِمَۃُ اِحْلِقِیْ رَأْسَہُ وَ تَصَدَّقِیْ بِزِیْنَۃِ شَعْرِہِ فِضَّۃً فَوَزَنَّاہُ فَکَانَ وَزْنُہُ دڑْہَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْہَمٍ۔خرجہ الترمذي

(سنن الترمذی: رقم: 1519) یہ حدیث حسن غریب ہے اس کی سند متصل نہیں ہے)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب سے ایک بکری کا عقیقہ کیا اور فرمایا اے فاطمہ! اس کا سر مونڈاؤ، اور اس کے بالوں کے وزن برابر چاندی صدقہ کرو۔ ہم نے وزن کیا، اس کا وزن ایک درہم، یا اس سے کم تھا، اس کو امام ترمذیؒ نے نقل کیا ہے۔‘‘

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے ان دونوں کی جانب سے عقیقہ کیا اور دایہ کو بکری کی ایک ران اور ایک دینار دیا۔

(تحفۃ المودود: لابن القیم: صفحہ 55)

تطبیق کی صورت یہ ہے کہ عقیقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور تقسیم کا کام سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا سر مونڈوایا بال کے وزن برابر چاندی صدقہ کرنے کے لیے کہا، پھر اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر کو ’’خلوق‘‘ خوشبو سے لیپ دیا اور فرمایا: اے اسماء خون سے لیپنا جاہلیت کے کاموں سے ہے۔

(ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی لأبی العباس الطبری: صفحہ 207)

عقیقہ کے بہت سارے فوائد میں سے بعض فوائد درج ذیل ہیں:

1۔ عقیقہ مولود کی جانب سے اللہ کی بارگاہ میں ایک قربانی ہے، مولود کا عالم وجود میں آنا اللہ کی ایک نعمت ہے، جس کے شکریہ میں یہ قربانی پیش کی جاتی ہے، اس کے علاوہ بھی بہت سے فوائد ہیں۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ مستحب ہے کہ جسے توفیق ہو لڑکے کی جانب سے دو بکروں کا عقیقہ کرے، اس لیے کہ لوگوں کے نزدیک بچے بچیوں سے زیادہ مفید ہیں، اس لیے وہ اپنے عقیقہ میں شکریہ اور اہتمام کی زیادتی کے مستحق ہیں، عقیقہ کے حکم کا سبب یہ ہے کہ عرب بچوں کی جانب سے عقیقہ کرتے تھے، عقیقہ ان کے یہاں ایک لازمی امر تھا۔اس میں بہت ساری مالی، معاشرتی اور نفسیاتی مصلحتیں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باقی رکھا، اس پر خود عمل کیا اور لوگوں کو ترغیب دلائی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے طریقوں میں تبدیلی کردی، چنانچہ بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

’’جاہلیت میں جب ہمارے یہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو ہم اس کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتے، اور اس کے خون سے اس کے سر کو لیپ دیتے تھے، جب ہم حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو بچے کی پیدائش پر ایک بکری ذبح کرتے، اس کا سر مونڈواتے اور اس کے سر کو زعفران سے لیپ دیتے۔‘‘

(المستدرک للحاکم: جلد 4 صفحہ 288 یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور ذہبیؒ نے اس کو برقرار رکھا ہے)

یہ رہا طریقۂ نبویﷺ کہ جب آپﷺ نے ایسی عادت دیکھی کہ اس میں لوگوں کی منفعت ہے، لیکن اس میں مولود کے سر کو خون سے لیپنے کا انحراف ہے، توآپ نے لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر اس کو مطلقاً مباح قرار نہیں دیا، اور ساتھ ہی ساتھ انحراف کی وجہ سے مطلقاً منع بھی نہیں کیا، بلکہ اس عادت میں لوگوں کی مصلحت و منفعت کو باقی رکھا، اور جاہلیت کی عادت کو حرام قرار دیا۔ یہ ہے حکمت سے پر طریقۂ نبویﷺ جو اہتمام اور غور و فکر کا مستحق ہے۔