عقیقہ
حامد محمد خلیفہ عمانحضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں جناب حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے بیٹے کی طرف ایک جانور عقیقہ میں قربان نہ کروں؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، البتہ تم اس کے بال مونڈو اور ان کے وزن کے برابر چاندی محتاجوں اور مسکینوں پر صدقہ کر دو۔‘‘
حضرت شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (حدیث میں مذکورہ لفظ) ’’اوفاض‘‘ (یعنی محتاجوں غریبوں) سے مراد اہل صفہ ہیں۔ چنانچہ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا اور جب ان کے ہاں جناب حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، تو تب بھی ایسا ہی کیا تھا۔ (السنن الکبری للبیہقی: 19082 المعجم الکبیر: 917)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ نے جناب حسن اور جناب حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھا قربان کیا۔ (سنن ابی داود: 2841 علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ سنن نسائی کی روایت میں ’’کبشا کبشا‘‘ کے لفظ کے بجائے ’’کبشین کبشین‘‘ (دو دو مینڈھوں ) کا لفظ آتا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے)
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے جناب حسن و حسین رضی اللہ عنہما میں سے ہر ایک کی طرف سے دو ایک جیسے ہم وزن مینڈھے عقیقہ میں قربان کیے۔ (المستدرک للحاکم: 7590 تعلیق الذہبی فی التلخیص۔ اس روایت کا ایک راوی ابو حمزہ سوار ضعیف ہے)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ نے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو مینڈھے عقیقہ میں قربان کیے۔ (المعجم الاوسط للطبرانی: 1878 طبرانیؒ کہتے ہیں: یہ حدیث قتادہ سے صرف جریر نے روایت کی ہے، وہ اس میں متفرد ہیں) ایک اور روایت میں بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی الفاظ مروی ہیں۔ (السنن الکبری للبیہقی: 1905)
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بچوں اور بچیوں کی طرف سے حسب استطاعت قربانی کرتے تھے، چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے گھر والوں میں سے جس نے بھی عقیقہ کرنے کا سوال کیا تو انہوں نے ان کے لیے قربانی کا جانور دے دیا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بچہ اور بچی دونوں میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک ایک بکری عقیقہ میں قربان کیا کرتے تھے۔ (الموطأ : 659 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما قربانی پر قیاس کرتے ہوئے اور نبی کریمﷺ سے مروی اس روایت کی اتباع کرنے کے لیے بچہ اور بچی دونوں میں سے ہر ایک کی طرف ایک ایک بکری عقیقہ میں قربان کرتے تھے۔ وہ روایت اوپر مذکور ہے کہ نبی کریمﷺ نے جناب حسن اور جناب حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھا قربان کیا تھا۔ یہی امام مالکؒ کا قول ہے۔ جبکہ دوسرے حضرات یہ کہتے ہیں کہ بچے کی طرف سے دو اور بچی کی طرف سے ایک مینڈھا دیا جائے۔ راجح قول لڑکے کی طرف سے دو جانور قربان کرنے کا ہے۔ اسی لیے ابن رشد مالکیؒ کہتے ہیں: جس نے اس قول پر عمل کیا اس نے خطا نہیں کی، بلکہ درستی کو پایا، کیونکہ ترمذی نے سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے کہ نبی کریمﷺ نے اس بات کا حکم دیا کہ عقیقہ میں بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری دی جائے)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امر میں وسعت ہے کہ چاہے بکری دیجیے یا مینڈھا اور ایک دیجیے یا دو، یہ سب ثابت اور معمول بہ ہے اگرچہ زیادہ مشہور یہی ہے کہ بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ میں قربان کی جائے۔
عقیقہ کرنے کا ایک مقصد معاشرتی تعلقات کو مضبوط کرنا، افرادِ خاندان میں تعلق کو استوار کرنا، دنیا میں آنے والے اس نئے مہمان کے بارے میں دنیا والوں کو آگاہ کرنا، اس کے پیدا ہونے سے خوش ہونا، اس کے نیک مستقبل کی بابت نیک فال لینا اور خاص طور پر اس کی ماں کو خوش کرنا ہے۔ جو پورے خاندان کے خوش ہونے کا قوی سبب ہوتا ہے، جیسا کہ سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ولادت سے جہاں ان کے والدین کریمین سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بے حد خوش ہوئے تھے، وہیں ان کے نانا حضرت رسالت مآب ﷺ بھی بے حد مسرور ہوئے تھے۔ اسی لیے خاندان، ماں اور بچے کی رعایت اسی میں ہے کہ سنت نبویہ نے جس چیز کی تعلیم دی ہے، اس کا اہتمام کیا جائے اور اسلامی تعلیم کردہ خاندانی امور کا التزام کیا جائے۔
اسلام افراد خانہ اور افراد معاشرہ دونوں کے دلوں میں محبت و مودت کا بیج بونا چاہتا ہے تاکہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا دست و بازو، معاون و مددگار اور مونس و غم خوار بنے۔ عقیقہ جیسے احکام کی تعلیم انہی مقاصد کے حصول کے لیے ہے۔