Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زہد و قناعت اور صبر:

  علی محمد محمد الصلابی

5۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زہد و قناعت اور صبر:

سیدہ فاطمہؓ کی زندگی تکلّفات سے پاک اور نہایت سادہ تھی، خوشحالی کی بہ نسبت تنگ دستی زیادہ تھی۔ آئندہ سطور میں جو واقعہ تحریر کیا جارہا ہے، وہ ہمارے سامنے سیدہ فاطمہؓ کی تھکاوٹ اور خادم کے مطالبہ پر نبی اکرمﷺ کے موقف کی بخوبی عکاسی کرتا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ سے کہا: میں پانی لاتے لاتے تھک گیا ہوں، یہاں تک کہ اب میرے سینہ میں تکلیف ہوتی ہے، اللہ نے تمھارے والد کو جنگی قیدی عطا کیے ہیں، جاؤ اور ان میں سے ایک خادم مانگ لاؤ، وہ کہنے لگیں: واللہ چکی چلاتے چلاتے میرے بھی ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں، آپﷺ نے فرمایا: مَا جَائَ بِکَ ای بنیۃ ’’اے میری عزیزہ! تمھارا آنا کیسے ہوا؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: بس سلام کرنے اور خیریت دریافت کرنے کے بعد، وہ شرما گئیں، کچھ کہہ نہ سکیں اور واپس لوٹ آئیں، حضرت علیؓ نے کہا: کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: میں کچھ مانگنے سے شرما گئی، پھر وہ دونوں ایک ساتھ آئے اور حضرت علیؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں پانی لاتے لاتے تھک جاتا ہوں، یہاں تک کہ میرے سینہ میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔ اور فاطمہ کہنے لگیں: میں مسلسل چکی چلاتی ہوں، یہاں تک کہ میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ چکے ہیں، اللہ نے آپﷺ کو بہت سے جنگی قیدی عطا کیے ہیں ان میں سے ہمیں خادم دے دیجیے، اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: 

وَاللّٰہِ لَا أُعْطِیْکُمَا وَ اَدَعُ أَہْلَ الصُّفَّۃِ تَطْوِيْ بُطُوْنُہُمْ، لَا اَجِدُ مَا اُنْفِقُ عَلَیْہِمْ، وَ لٰکِنِّيْ اَبِیْعُہُمْ وَ اُنْفِقُ عَلَیْہِمْ اَثْمَانَہُمْ۔

’’میں اہل صفہ کو چھوڑ کر کہ بھوک سے جن کے پیٹ میں بل پڑ رہے ہیں، تمھیں نہیں دوں گا، میرے پاس ان کے اخراجات کے لیے کچھ نہیں ہے، ان غلاموں کو فروخت کر کے ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا۔‘‘

چنانچہ دونوں واپس آ گئے، پھر اللہ کے رسولﷺ ان کے پاس آئے، دونوں چادر سے بدن ڈھانپ چکے تھے، جب سر ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتے۔ (آپ کی آمد کی آہٹ پا کر) دونوں اٹھنے لگے، آپﷺ نے فرمایا: ٹھہرو، پھر فرمایا: أَلَا اُخْبِرُکُمَا بِخَیْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي؟

’’کیا تمھیں تمھارے مطالبہ سے بہتر چیز نہ بتا دوں‘‘ انھوں نے کہا: ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: کَلِمَاتٍ عَلَّمْنِیْہُنَّ جِبْرِیْلُ(علیہ السلام) چند کلمات ہیں، جنھیں مجھے جبرئیل علیہ السلام نے سکھایا تھا، پھر فرمایا:

تُسَبِّحَانِ فِيْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرًا وَ تَحْمِدَانِ عَشْرًا وَ تُکَبِّرَانِ عَشْرًا، وَإِذَا اَوَیْتُمَا إِلَی فِرَاشِکُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَ ثَلَاثِیْنَ، وَ احْمِدَا ثَلَاثًا وَ ثَلَاثِیْنَ وَ کَبِّرَا أَرْبَعًا وَ ثَلَاثِیْنَ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3705، صحیح مسلم: حدیث نمبر 2725)۔

’’ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ اور دس مرتبہ الحمد للہ، دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو، اور جب اپنے بستر پر آؤ تو تینتیس (33) مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس (33) مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس (34) مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔‘‘

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3705، صحیح مسلم: حدیث نمبر 2727)۔

اس واقعہ سے مستنبط ہونے والی چند اہم و اعلیٰ اقدار:

 یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اولویات اور اہم ترین امور کی ترتیب و ترجیح کے ذریعہ سے بڑی حکمت عملی سے رسول اللہﷺ نے اقتصادی بحران کو حل کیا، جس سے باشندگان مدینہ گزر رہے تھے، چنانچہ اہل صفہ کو پیٹ بھر کھانا دینا ایسی اہم ضرورت تھی کہ فاطمہ اور علی رضی اللہ عنہما کو خادم کو اتنی ضرورت نہ تھی، اس لیے آپﷺ نے اہل صفہ کو ان پر ترجیح دی، یہی وجہ تھی کہ اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے رسول اللہﷺ نے کئی وسائل وضع کیے تھے۔

• سیدنا علیؓ کی زندگی پر اس تربیت کا گہرا اثر پڑا تھا کہ زمانہ گزرتا گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت علیؓ مسلمانوں کے خلیفہ بن گئے، پھر بھی حضرت علیؓ کی زندگی پر اسی کے اثرات نمایاں رہے، آپؓ دنیا اور اس کی رنگینیوں سے کافی دور رہے، حالانکہ زمین کے خزانے، اور اس کی رعنائیاں آپ کے دست سلطنت میں تھیں، یہ دنیا بےزاری صرف اسی وجہ سے تھی کہ ذکر الہیٰ سے آپ کا دل و دماغ معمور تھا اور تکبیر و تسبیح کی وصیت نبوی کو حرزجاں بنا لیا تھا، حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ جب سے اللہ کے رسولﷺ نے مجھے یہ کلمات سکھلائے میں نے انھیں کبھی نہ چھوڑا، آپ کے ایک ساتھی نے پوچھا: معرکۂ صفین کی رات میں بھی؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: معرکہ صفین کی رات میں بھی۔

(صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 2092)۔