صفات خالق و مخلوق میں فرق و امتیاز - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

صفات خالق و مخلوق میں فرق و امتیاز

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

صفات خالق و مخلوق میں فرق و امتیاز

پس جوکوئی خالق اور مخلوق کی صفات کو آپس میں مشابہ قرار دیتا ہو ؛ وہ باطل پرست اور قابل مذمت مشبہ ہے۔ اور اگر تشبیہ سے مراد یہ لی جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بھی صفت کو ثابت نہیں مانتا؛ تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کا علم تو ہے؛ مگر قدرت اور زندگی نہیں ہے؛ اس لیے کہ یہ صفات انسان میں پائی جاتی ہیں تو اس سے یہ کہنا بھی لازم آتا ہے کہ اسے حیی اورقدیر بھی نہ کہا جائے ؛ کیونکہ انسان بھی ان صفات سے موصوف ہوتا ہے۔ اور تقریباً یہی اعتراض صفت کلام؛ سماعت؛ بصارت اور رؤیت اور دیگر پر بھی وارد ہوتاہے۔

وہ اہل سنت والجماعت کے ساتھ اس میں موافقت رکھتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ موجود ہیں ؛ اوروہ زندہ ؛ علیم اور قادر ہیں ۔ اور مخلوق کو کہا جاتا ہے : موجودہے؛ علیم ہے؛ قدیر ہے۔ تو کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ ایسا کرنے میں تشبیہ ہے؛ پس اس کا انکار کرنا واجب ہے ۔

اس مؤقف پر کتاب و سنت اور صریح عقل دلالت کرتے ہیں ۔ اورکسی عاقل کے لیے اس کی مخالفت کرنا ناممکن ہے۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے ایسے نام رکھے ہیں جو اس نے اپنے بندوں میں بعض افراد کو بھی عطا کئے ہیں ۔ اور اپنی بعض صفات کو ایسے نام دیے ہیں جونام اس نے اپنی مخلوق میں سے بعض کی صفات کو بھی دیے ہیں ۔ لیکن دو مسمیٰ بالکل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو حیی ؛ علیم اور قدیر؛ رؤوف و رحیم؛ عزیز وحکیم؛ سمیع و بصیر؛ اور ملک اور مؤمن اور جبار و متکبر کہا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﴾[البقرۃ۲۵۵]

’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔‘‘

﴿ اِِنَّہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ ﴾(شوری50)

’’یقیناً وہ علم والا، اور قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘

﴿ وَ لٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴾(البقرہ ۲۲۵)

’’بلکہ تمھیں اس پر پکڑتا ہے جو تمھارے دلوں نے کمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت بردبارہے۔‘‘

﴿ وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾(البقرہ ۲۲۸)

’’اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔‘‘

﴿ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ ﴾[الحج ۶۵]

’’بے شک اللہ یقیناً لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘

﴿اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًا بَصِیْرًا ﴾[النساء۵۸] 

’’بے شک اللہ ہمیشہ سے سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔‘‘

﴿ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِِلٰـہَ اِِلَّا ہُوَ الْمَلِکُ الْقُدُّوسُ السَّلاَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ﴾ (الحشر23) 

’’وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، بادشاہ ہے، نہایت پاک ،سلامتی والا ،امن دینے والا ، نگہبان، سب پر غالب، اپنی مرضی چلانے والا، بے حد بڑائی والا ہے۔‘‘

اور پھر اپنے کچھ بندوں کے لیے بھی صفت ’’حیات ‘‘بیان کی ہیں ۔ ارشاد فرمایا :

﴿یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ﴾[الروم۱۹]

’’ وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔‘‘

اور بعض کو علیم بھی کہا ہے :

﴿وَبَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ ﴾[الذاریات ۲۸]

’’ اور انھوں نے اسے ایک بہت علم والے لڑکے کی خوشخبری دی۔‘‘

اور بعض کو حلیم بھی کہا ہے :

﴿ فَبَشَّرْنَاہُ بِغُلاَمٍ حَلِیْمٍ ﴾(الصافات101)

’’ تو ہم نے اسے ایک بہت برد بار لڑکے کی بشارت دی۔‘‘

اور بعض کو رؤوف و رحیم بھی کہا ہے :

﴿ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ ﴾(التوبۃ۱۲۸) 

’’ مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘

اور بعض کو سمیع و بصیر بھی کہا ہے :

﴿ فَجَعَلْنَاہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا﴾ (الانسان 2)

’’ سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔‘‘

اور کسی کو عزیز بھی کہا ہے :

﴿ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ ﴾[یوسف ۵۱]

’’ اور عزیز مصر کی بیوی نے کہا۔‘‘

اور بعض کو ’’ملک ‘‘ بھی کہا ہے؛ فرمایا:

﴿ وَ کَانَ وَرَآئَ ھُمْ مَّلِکٌ یَّاْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْبًا(الکہف ۷۹) 

’’ اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی چھین کر لے لیتا تھا۔‘‘

اور بعض کو ’’مؤمن ‘‘ بھی کہا ہے :

﴿اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا﴾ [السجدہ۱۸]

’’ پس بھلا جو کوئی مؤمن ہو ....۔‘‘

اور بعض کو’’ جبار اور متکبر‘‘ بھی کہا ہے ؛ فرمایا :

﴿ کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾(غافر35)

’’ اسی طرح اللہ ہر متکبر، سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔‘‘

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ زندہ اور زندہ ؛ علیم اور علیم ؛ عزیز اور عزیز ؛ رؤوف اور رؤوف اور رحیم اور رحیم برابر نہیں ہوسکتے؛ او رنہ ہی بادشاہ اور بادشاہ؛ اور سرکش اورسرکش اور متکبر اور متکبر برابر ہوسکتے ہیں ۔

پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ﴾[البقرۃ ۲۵۵]

’’اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔‘‘

﴿اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ ﴾[نساء ۱۶۶]’’ اس نے اپنے علم سے نازل کیا ہے۔‘‘ 

اورفرمایا: ﴿وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ ﴾[فاطر۱۱]

’’ اورمادہ جو بھی حمل اٹھاتی ہے یا اسے جنتی ہے؛ وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔‘‘

اورفرمایا : ﴿اِِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ ﴾(الذاریات58)

’’بے شک اللہ ہی بے حد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔‘‘

اور فرمایا :

﴿ اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَہُمْ ہُوَ اَشَدُّ مِنْہُمْ قُوَّۃً ﴾ (فصلت15) 

’’ اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ بے شک وہ اللہ جس نے انھیں پیدا کیا، قوت میں ان سے کہیں زیادہ سخت ہے۔‘‘

صحیحین میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے؛ فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے تمام امور میں استخارہ کرنا ایسے سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھایا کرتے ۔ آپ فرماتے:

صفحہ 1 از 2